عورت ایک جنس؟

کالم نگار  |  روبینہ فیصل ....دستک
عورت ایک جنس؟

وزیرستان ِ پر جب سے پاکستانی فوج کا آپریشن شروع ہوا ہے میرے دماغ کے اندر ایک کیڑا کلبلا رہا ہے ۔ بسے بسائے گھر چھوڑنے والے لوگوں کا المیہ اپنی جگہ ،حکومت کی انکی دوسری جگہوں پر آباد کاری کی حسب ِ معمول ناقص کار کردگی کے رونے اپنی جگہ ۔مگر میرا کیڑا یہ ہے کہ چار دیواری سے نکل کر کیمپوں میں اور کھلے آسمان تلے بے سرو سامانی کے عالم میں پڑی عورتوں اور بچیوں کے تحفظ کا کیا انتظام ہو رہا ہے؟
ملکوں کی جنگیں ہوں یا مذاہب کی ،عقیدوں کی یا زبانوں کی عورتوں پر جنسی تشد د جنگ کا ایک حصہ ہے اور اس کا شمار شائد کسی جنگی جرم میں بھی نہیں آتا ۔ دشمن کو نفسیاتی طور پر زیر کرنے ،دشمن کی مردانگی پر کاری ضرب لگانے اور اپنی مردانگی دکھانے کیلئے کمزور عورت کا ریپ بہت بڑی طاقت اور جنگی ہتھیار سمجھا جاتا ہے ۔تقیسمِ ہند کے وقت جو عورتوں کا حال ہوا ۔ مقبوضہ کشمیر میںفروری 1991میںکنعان گاﺅں میں بھارتی فوج رات گیارہ بجے سے صبح نو بجے تک آدمیوں سے پوچھ گچھ اور عورتوں کو بغیر عمر کی تخصیص کے ریپ کر تی رہی AFSPAکے تحت وہ ہر گناہ سے بری الذمہ ہوگئے اور آج تک ہیں ۔1992 میں بابری مسجد کو گرانے کے بعد جو فسادات ہوئے ان میں بڑے پیمانے پر عورتوں کے ریپ بھی شامل ہیں ۔ 2002ءمیں بھارت کے آج کے وزیر ِ اعظم اور اس وقت گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کے زیرِ انتظام جب مسلمانوں کے گھر جلائے گئے ، 2000لوگ مر گئے تھے ۔اس وقت بھی عورتوں کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور پھر زندہ جلا دیا گیا ۔ ایک ہولناک واقعہ جس پر انشو مالیہ نے ایک دردناک نظم بھی لکھی تھی یہ ہے کہ بابو بجرنگی ( ہندﺅ انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کا سربراہ )نے ایک مسلمان حاملہ عورت کا پیٹ پھاڑ کر fetusکو تلوار پر لٹکا کر نمائش کی ۔ اتر پردیش مظفر نگر ہر دوسرے دن فرقہ وارنہ فسادات جب بھی پھوٹتے ہیں عورتوں کے گینگ ریپ معمول بن جاتے ہیں ۔ تقریبا بیس بائیس سال پہلے بوسنیا میں 50 ہزار خواتین کا ریپ کیا گیا اب تک کسی کو انصاف نہیں ملا ۔ ایسے ریپ میں کبھی انصاف نہیں ملتا ۔ عورتیں اس بے حرمتی پر اپنی نفسیاتی اور جسمانی تکلیف کیساتھ اور اس کرب کیساتھ کہ مجرم دندناتے پھررہے ہیں اور دنیا میں کہیں اس کی پکڑ ہے ؟عراق میں امریکی فوجیوں کی بربریت کی داستانیں عام ہیں مگر اس معاملے میں چاہے کوئی ملک کتنا بھی انسان پرست کیوں نہ ہو ، کتنا بھی جمہوری کیوں نہ ہو یا کتنا ہی انصاف پسند کیوں نہ ہو عورت کو انصاف دینے اور اسے بے حرمتی سے بچانے میں ناکام ہے ۔ کیوں ؟؟ جب دنیا اتنی ترقی کر گئی ۔عورت کو آزاد کہہ دیا گیا ۔ عورت کو برابری کا سبق دے دیا گیا تو یہ کیا کہ انتقام لینے کو ، دوسرے کے نظریات ، زبان ، مذہب اور عقیدے کو گرانے کیلئے عورت کی تذلیل کی جائے ۔
یہ قوموں کی شکست اور فتح کی کہانی ہے جو عورتوں کے بے لباس جسموں پر لکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایک اور آسان شکار وہ عورتیں ہوتی ہیں جو غربت کی چکی میں پس رہی ہیں ۔ وہ اُتر پردیش بدﺅںانڈیا کی ،دو نوجوان بہنیں ہوں یا لیہ جنوبی پنجاب پاکستان کی اندھے ماں باپ کی 20سالہ لڑکی ہو ۔ ایک ہی مشترک کہانی ۔ تینوں بچیاں ایسے غریب علاقوں کی اور ایسے غریب گھر میں پیدا ہوئیں کہ رفع ءحاجت کیلئے گھر سے باہر کھیتوں میں جانے پر مجبور تھیں ۔ وہ ماں باپ بھی کتنے مجبور ہونگے جو اس عمل کیلئے لڑکیوں کو رات کے اس پہر گھروں سے باہر جانے دیتے ۔دونوں کیسز میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر انہیں درختوں سے لٹکا دیا گیا ۔ رشتے دار ڈھونڈنے نکلے تو درختوں سے لٹکی لاشوں سے سامنا ہوا ۔ اس وحشی پن کی کیا سزا ہے ؟دی گئی کسی کو سزا ؟ ایک عورت کی ایک بچی کی بے عزتی کی خبر چھپتی ہے ۔ آہ و پکار مچ جاتی ہے ۔ عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں اور آزاد خیال لوگ شور مچاتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے اب کچھ کر کے دم لیں گے مگر پھر ایک سنا ٹا ۔ وزیر ِ اعلیٰ فوری ایکشن کا اعلان کرتے ہیں ۔ مگر ہوتا کیا ہے !!پاکستان سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کو وزرات ِ داخلہ نے بتایا کہ گذشتہ ۵ برسوں میں ریپ کے مقدمات میں سزائیں دیے جانے کی شرح صفر رہی ہے ۔
تو بتائیے ایک کے بعد دوسرا ریپ نہ ہو ؟ چھوٹی بچی ، کوئی غریب ، گھروں میں کام کرنے والیاں جو بھی حالات کی ماری مل جائے ۔ سزا نہ ملنے کی وجہ سے ایسے واقعات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اس لئے عورتیں یا تو خاموش ہوجاتی ہیں اور اگر بول پڑیں ، مقدمہ کروانے پولیس کے پاس جائیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لڑکی خود ہی خراب ہوگی جو ریپ ہوگئی اس لئے وہ بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے۔ عدالتیںثبوت مانگتی ہیں ، اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا شیرانی کو چونکہ ریپ کامطلب نہیں آتا اس لئے انہیں معلوم نہیں کہ اس کو کیسے روکنا ہے اور وہ DNA کے ثبوت کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ہو یہ رہا ہے کہ کوئی جل کر مر رہی ہے اور کوئی لٹک کر ۔ جو خود کونہیں مار رہی اسے زندہ لاش بنا دیا جاتا ہے ۔اس معاملے میں قوانین کا بے اختیار ہونا ، شہوت زدہ دماغوں کو پھلنے پھولنے میں مدد کر رہا ۔ اس لئے غریب اور مجبور عورتیں ہی اس کا نشانہ نہیں رہیں بلکہ پڑھی لکھی عورتیں راہ چلتے اور دفتروں میں کام کرتے ہوئے اس کا نشانہ بن رہی ہیں ۔ پاکستان سے ایک آفس میں کام کرنے والی لڑکی کہتی ہے اگر ہم کسی سینیئر کی بات نہیں مانتے تو یا ہماری کردار کشی کی مہم شروع کر دی جاتی ہے یا سالانہ رپورٹ خراب کر دی جاتی ہے ۔ ۔ یہ بھی ریپ کی ایک قسم ہے۔
 سب سے زیادہ عورت کی آزادی کی بات کرنے والے عورت کا استحصال کر رہے ہیں ۔عورت لیہ کی ہو یا لندن کی ،اتر پردیش کی ہو یا امریکہ کی ۔جنسی تشد د سے لے کر ذہنی تشد د تک شکار ہونے والیوں کو ابھی انصاف مل نہیں رہا ۔ میرے دماغ کا کیڑا شمالی وزیرِ ستان کی مہاجر کھلے کیمپوں میں پڑی خواتین کی فکر میںمجھے چین نہیں لینے دیتا ۔ کیا وہاں عورت کو ایک جنس نہیں سمجھا جائے گا ؟