افغانستان میں عوامی جمہوری سیاست کا مقدّر

افغانستان میں عوامی جمہوری سیاست کا مقدّر

ہماری عسکری قیادت آج جس تدبر اور دانش مندی کیساتھ پاک افغان تعلقات کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی بنیاد پر اُستوار کرنے میں کوشاں ہے کاش !صدر ضیاءالحق کی انتظامیہ بھی پاک افغان تعلقات میں انہی مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھ سکتی- اِس باب میں ضیاءالحق کے طرزِ فکر و عمل کے تین محرکات تھے-اوّل: امریکی مونگ پھلی کالالچ - دوم:امریکہ سے اپنی آمریت کی سندِ قبولیت- اور سوم: امیر الم¶منین بننے کا شوق-آج جب میں اسلام کے مقدس نام پر دہشت گردی کے رقصِ ابلیس کے مناظر دیکھتا ہوں تورہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ کاش ہم نور محمد ترکئی کی عوامی جمہوری حکومت کو صدقِ دل سے برداشت کرتے ہوئے استحکام کا موقع بخشتے- اِس طرزِ عمل میںفقط پاکستان اور افغانستان کے عوام ہی کا مفاد پنہاں نہیں تھا بلکہ ہمارا یہ مثبت روّیہ پوری دُنیائے اسلام کیلئے خیر و برکت کا حامل تھا-ہمارے ہاں یہ غلط فکری عام ہے کہ نور محمد ترکئی کی حکومت رُوس نوازتھی -رُوس کا ایجنٹ تو خود سردار داﺅد تھا- نور محمد ترکئی متوسط طبقے کا ایک شاعر ، ادیب اور صحافی تھا-اپنے جریدہ ”خلق “کے ذریعے وہ افغانستان میں رُوس نواز خاندانی بادشاہت کیخلاف عوامی جمہوری انقلاب کیلئے برسوں رائے عامہ تیار کرتا رہا تھا-عوامی جمہوری پارٹی” خلق“ کا نام بھی اسی جریدے سے مستعار تھا-ایسی ہی ایک اورسیاسی جماعت ”پرچم “کے نام سے بھی کم و بیش اسی لائحہ¿ عمل پر فعال تھی-اِس جماعت کا نام بھی اِسکے اخبار ”پرچم“ سے مستعار تھا- سن اُنیس سو اٹھہتر کے آغاز میں ہوا یوں کہ انتظامیہ نے خلق پارٹی کے ایک نہایت ہردلعزیز رہنما ، میر اکبر خیبر،کو اِس خیال سے قتل کرا دیا کہ رائے عامہ کی نظر میںخلق پارٹی کی رقیب جماعت پرچم ملزم ٹھہرے گی مگر نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے موقع پر ہر دو پارٹیوں کے کارکن اِس سرکاری سازش کیخلاف ایک ساتھ صدائے احتجاج بلند کرنے لگے- یوں افغانستان میں خاندانی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور نور محمد ترکئی کی قیادت میں عوامی جمہوری سیاست کا آغاز ہوا- 27- اپریل 1978ءکے شام سات بجے کابل ریڈیو نے درج ذیل خبر نشر کی:”آج افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار نادر خان کی خاندانی بادشاہت کے ظلم و استبداد اور اقربا پروری کے تمام تر اثرات کو مٹا دیا گیا ہے اور ریاست کے تمام تر اختیارات افغانستان کے عوام کو سونپ دئیے گئے ہیں- “افغانستان کی جدید تاریخ میں یہ دن اپریل انقلاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے-
افغانستان کے نئے صدر نور محمد ترکئی نے 4مئی 1978ءکو اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران برملا اعلان کیا تھا کہ اُنکی حکومت نہ تو کمیونسٹ ہے ، نہ سوشلسٹ ہے اور نہ رُوس نواز -اُنکی منزل قومی جمہوری انقلاب سے عبارت ہے- اُس زمانے کے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ سائرس وینس نے بھی اِس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکی انتظامیہ کو اپریل انقلاب میں رُوس کی اعانت کا کوئی ثبوت نہیں ملا- امریکہ کے نامور ماہرِ افغانیات لوئی دُکتری نے بھی اپنی ایک سے زیادہ تحریروں میں اِس صداقت کا اظہار کی ہے کہ افغانستان کے اپریل انقلاب میں رُوسی اشتراکی حکومت کا کوئی عمل دخل نہ تھا- نور محمد ترکئی نے اپنے مختصر دورِ حکومت میں سیاسی، معاشی ، معاشرتی اور تعلیمی اصلاحات کوجس جذب و جنوں کے ساتھ نافذ کرنے کے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے تھے- وہ بھی اِس امر کے شاہدِ عادل ہیں کہ اُنکے اور اُن کی حکومت کے پیشِ نظر عوامی فلاح و بہبود کے سوا کوئی غرض و غایت نہ تھی- یہی وجہ ہے کہ وہ بہت جلد روسی عناصر کی سازش کے شکار ہو گئے تھے-اُنکے بعد اُن کے رفیقِ کار حفیظ اللہ امین برسرِاقتدار آئے- اُنھیں بھی زیادہ دیر برسرِاقتدار نہ رہنے دیااور اشتراکی روس نے اپنے مذموم مقاصد کی خاطر براہِ راست فوجی مداخلت کا راستہ اپناکر پورے خطے میں وہ ناسور پیدا کر دیا جو آج تک رس رہا ہے- یہاں مجھے سردار داﺅد کے دورہ¿ پاکستان کے دوران کہی گئی ایک بات یاد آئی ہے-
 جنرل خالد محمود عارف نے اپنی کتاب میں ایک شام ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران سردار داﺅدکا ایک قول درج کیا ہے- بذلہ سنجی کے دوران سردار داﺅد نے کہا تھا کہ افغانستان کے کمیونسٹ تربوز کی مثال ہیں،اوپر سے سبز اور اندر سے سُرخ -یہ سچ ہے نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین بلاشبہ اُوپر سے سبز ہیں اور اندر سے سُرخ-یہ لوگ اسلام کے اندر وہ سب کچھ موجود پاتے ہیں جو اشتراکی معاشی اور معاشرتی تعلیمات میں نظر آتا ہے- درحقیقت اخوت ، مساوات اور عدلِ اجتماعی کے اشتراکیت سے منسوب تصورات دراصل اسلام کی دین ہیں-یہی وجہ ہے کہ مصری دانشور محمد حسین ہیکل نے آنحضورصلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سوانح حیات کو محمد الرسول اللّٰہ : الاشتراکی الاوّل کاعنوان دیا تھا اور سیدابوالاعلیٰ مودودی کے بڑے بھائی سید ابوالخیر مودودی نے اپنے مقالہ بعنوان ”لینن سے پہلے ابنِ حزم“میں اِس حقیقت کو بے نقاب کر رکھا ہے کہ اشتراکی رہنما لینن کے اقتصادی تصورات امام ابن حزم کی تعلیمات سے ماخوذ ہیں- صدر نور محمد ترکئی بھی اُن مسلمانوں میں سے ایک تھے جو عوامی فلاح و بہبود اور معاشی عدل و انصاف کو اسلامی تعلیمات کا جزوِ لاینفک سمجھتے تھے- وہ اپنے اخبار کے ذریعے اِن تعلیمات کو برسوں افغان عوام کے دل و دماغ میںجذب کر دینے میں کوشاں رہے تھے اور جب اُنہیں سیاسی قیادت نصیب ہوئی تھی تب اُنہوں نے ان اصلاحات کے نفاذ کو عوامی جمہوری انقلاب کا اوّلیں مقصد قرار دیا تھا- اُن کی یہ ادا رُوس اور امریکہ ، ہر دو عالمی طاقتوں کو خطّے میں اپنے اپنے سامراجی مقاصد کے منافی نظر آئی تھی- چنانچہ ہر دو طاقتوں نے اپنے مشترکہ مقاصد کی خاطر اِس خطّے کواپنے اپنے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا-
آج بھی یہ دہشت گرد گروہ افغانستان میں عوامی جمہوری سیاسی پیشرفت میں سب سے بڑا سنگِ گراں ہیں- خُدا خُدا کر کے انتخابات کا عمل اختتام پر پہنچا تھا کہ جناب عبداللہ عبداللہ اور اُنکے سیاسی حریف جناب اشرف غنی کے درمیان انتخابات میں دھاندلی کا تنازعہ کھڑا ہو گیا - انتقالِ اقتدار میں تعطل پیدا ہو گیااور یوں دہشت گرد گروہوں کو اپنے ہاتھ دکھانے کا مزید وقت مل گیا-ابھی کل ہی کی بات ہے کہ افغانستان میں اسلامی امارات کے قیام کی خاطر جہدآزما طالبان کے گروہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قابل کے مضافات میں درجنوں ٹینکرز کو نذرِ آتش کردینے کی ذمہ داری قبول کی ہے-افغانستان اور اِرد گرد کے ممالک میں سرگرم طالبان کے تمام گروہ چھوٹے موٹے اختلافات کے باوجود اِس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں عوامی جمہوری حکومت کی بجائے اسلامی امارات کا قیام عمل میں لایا جائے-
اِس تناظر میں اگر افغانستان میں دہشت گردی کی ایک بار پھر زور پکڑتی ہوئی وارداتوں سے سبق اندوز ہونے کی کوشش کی جائے تو عملی سیاست میں سرگرم جمہوریت نواز لیڈروں کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں- توقع کی جانی چاہیے کہ افغانستان کی حزبِ اختلاف کے سرکردہ لیڈر جناب عبداللہ عبداللہ اور افغانستان کے نئے منتخب صدر جناب اشرف غنی ، ہر دو سیاسی رہنماصبر و تحمل کے ساتھ موجودہ سنگین صورتِ حال سے نبٹنے کی کوشش کرینگے اورایسا کرتے وقت علامہ اقبال کے اُن فرمودات کو پیشِ نظر رکھیں گے جن میں شاعرِ مشرق نے افغانستان کو ایشیاءکا دل قرار دیا ہے اور ایشیائیوں کو متنبہ کیا ہے کہ افغانستان کا فساد پورے ایشیاءکا فساد ہے-اِس تناظر میں دیکھا جائیگا تو افغانستان کے موجودہ سیاسی قائدین کی اوّلیں ذمہ داری افغانستان کے اندر سے فساد کو مٹا کر پورے ایشیا ءکو فساد سے نجات دلانا ہے-