نجکاری اور ریلوے کی بحالی

کالم نگار  |  قیوم نظامی

پاکستان کی کہانی لوٹ مار کی کہانی ہے۔ ہر دور میں اسے مختلف حیلے بہانوں سے لوٹا گیا ہے۔ اس لوٹ مار کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ چند سو خاندان دنیا کے امیر افراد میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ پاکستان پسماندہ اور غریب ہے۔ پاکستان کے قومی اثاثوں کی کہانی بھی عجیب ہے پہلے ان کو بناتے وقت لوٹا جاتا ہے پھر انہیں چلاتے وقت لوٹا جاتا ہے۔ جب قومی ادارے خستہ حال ہوجاتے ہیں پھر ان کی نجکاری کرکے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے جاتے ہیں۔ سابقہ حکومت میں قومی ادارے ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل ملز کو کنگال کردیا گیا۔ عوام کو توقع تھی کہ تجارت اور صنعت کا تجربہ رکھنے والے سیاستدان اقتدار میں آکر قومی اداروں کو منافع بخش بنا دیں گے۔ نئے حکمرانوں نے عوام کی توقع کے برعکس 68 قومی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری ہوگی۔ فنانس اور انشورنس کمپنیاں نیشنل بنک، یونائیٹڈ بنک، فرسٹ ویمن بنک، پی آئی اے، پاکستان سٹیل ملز، آئیل اینڈ گیس کارپوریشن، سوئی نادرن گیس جیسے کھربوں روپے کے ادارے نجی تحویل میں دے دئیے جائیں گے۔ نجکاری کے لیے مکار، عیار اور تجربہ کار افراد کو چن چن کر کلیدی آسامیوں پر فائز کیا جارہا ہے تاکہ حکمران اقربا پروری کرکے لوٹ مار کرسکیں گویا پاکستان برائے فروخت ہے اور میڈیا و سول سوسائیٹی خاموش ہیں۔ عدلیہ فعال ہے مگر وہ آئینی حدود سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ قومی اداروں کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں ان کو عوام اور میڈیا کا تعاون درکار ہے۔
آئی ایم ایف ، عالمی بنک اور ایشین بنک سامراجی ملکوں کے ایجنٹ ہیں جو پسماندہ ملکوں پر اجارہ داری اور بالادستی قائم رکھنے کے لیے جال بچھاتے ہیں۔ پہلے ان ملکوں کو قرضوں کی زنجیر میں جکڑتے ہیں اور بعد میں قومی اداروں کی نجکاری کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ قومی ادارے اونے پونے خریدنے والی اکثر کمپنیاں سامراجی ملکوں کی ہی ہوتی ہیں جو ادارے خرید کر ملکوں پر فیصلہ سازی کا اختیار حاصل کرلیتی ہیں۔ ملائشیا ان تجربات سے گزر چکا ہے وہاں پر سامراجی ملکوں نے اپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے ملائشیا کے قومی اداروں کو کمزور کیا اور بعد میں ان اداروں کو خریدنے کی پیش کش کی۔ ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد قوم پرست رہنما تھے انہوں نے سامراجی سازش کا آلہ¿ کار بننے سے انکار کردیا اور سیاسی عزم سے کام لے کر ملائشیا کے قومی اداروں کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف بھی سامراجی سازشی ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ نجکاری کے خلاف سب سے موثر اور طاقتور آواز ڈاکٹر طاہرالقادری نے اُٹھائی ہے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نجکاری کے لیے جن افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے وہ نا اہل ہیں اور ان کو نجکاری کا تجربہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کمشن کے ارکان حکمرانوں کے دوست ہیں اور ان کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے قومی اداروں کو لوٹنے والوں کو خبردار کیا کہ انقلاب کے بعد ان سے یہ ادارے واپس لے لیے جائیں گے۔ نجکاری کی تاریخ شاہد ہے کہ 1990ءسے جو قومی ادارے فروخت ہوئے ان سے بجٹ خسارہ کم نہ ہوا اور نہ ہی قرضوں کا حجم کم ہوا۔ جن بنکوں کی نجکاری کی گئی انہوں نے بے مثال منافع کمایا اور اکاﺅنٹ ہولڈروں کا ظالمانہ استحصال کیا۔پاکستان ریلوے کی نجکاری کے بارے میں بھی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے 200 دنوں کی شب و روز محنت سے ریلوے کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے نکال کر بحالی اور صحت یابی کے راستے پر گامزن کردیا ہے۔ سینئر صحافی رﺅف طاہر کی جانب سے بلائی گئی پریس بریفنگ میں لاہور کے کم و بیش تمام سینئر صحافی اور ایڈیٹر موجود تھے۔ فرزند لاہور خواجہ سعد رفیق نے پر اعتماد اور پرجوش لہجے میں 200 دنوں کی کارکردگی پیش کی۔ میں نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلی بار عوامی وزیر دیکھا۔ خواجہ سعد رفیق نے کسی لمحے یہ احساس ہی نہ ہونے دیا کہ وہ وفاقی وزیر ہیں۔ سیاست میں جب متوسط طبقے کا فرد منصب حاصل کرلیتا ہے تو وہ اپنے طبقے کو چھوڑ کر اشرافیہ میں شامل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نظریاتی سیاستدان ہیں اپنے طبقے پر فخر کرتے ہیں انہوں نے لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار صحافی برادر رﺅف طاہر کو ریلوے کا ڈی جی پی آر مقرر کیا ہے۔ سنتے آئے تھے کہ "Where there is a will there is a way" ”جہاں عزم ہوتا ہے وہاں راستہ نکلتا ہے“۔ اس محاورے کی عملی تعبیر وفاقی وزیر کی پریس بریفنگ میں نظر آئی۔ سیاسی عزم موجود تھا ، نیت نیک تھی صرف 200 دنوں میں ریلوے میں ٹرن آراﺅنڈ کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ گزشتہ دور میں ٹرینیں بند ہورہی تھیں آج چلنے لگی ہیں۔ ڈیزل نہ ہونے کی بناءپر گاڑیاں راستے میں رک جاتی ہیں آج ریلوے کے پاس بارہ روز کا ڈیزل موجود ہوتا ہے۔ عوام دوست وزیر نے مسافر گاڑیوں کے کرایے میں پانچ بار کمی کی ہے۔ مسافروں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ کراچی سے ایک مال گاڑی روزانہ چلتی تھی اب ان کی تعداد تین سے پانچ ہوگئی ہے۔ مسافر ٹرینیں اب نسبتاََ وقت پر پہنچنے لگی ہیں۔ گڈ گورنینس کی وجہ سے ریلوے کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ نئے مالی سال کے ہدف سے 98 کروڑ روپے زیادہ کمائے گئے۔
وفاقی وزیر نے ریلوے میں سٹیٹس کو توڑا ہے۔ مافیاز کی اجارہ داری کو ختم کیا ہے۔ کلیدی آسامیوں پر میرٹ پر اہل افراد کو تعینات کیا ہے۔ ریلوے میں سیاسی مداخلت بند کر دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق قائمقام چیئرمین ریلوے پروین گل، جنرل مینجر انجم پرویز اور آئی جی ریلوے پولیس سید ابن الحسین ریلوے کی بحالی اور اسے منافع بخش ادارہ بنانے کے مشن کے لیے خلوص نیت سے دن رات محنت کررہے ہیں سب بریفنگ میں موجود تھے۔ اگر خواجہ سعد رفیق مافیاز کی سازش کا شکار نہ ہوئے اور پانچ سال اپنے منصب پر فائز رہے تو پاکستان ریلوے ایک بار پھر مثالی ادارہ بن جائے گا۔ دہشت گردی کی وجہ سے ریلوے کو بھی مسافروں کی سکیورٹی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ دہشت گرد مسافر ٹرینوں پر حملے کررہے ہیں۔ ریلوے پولیس کو مسافروں کے تحفظ کے لیے فول پروف انتظامات کرنے پڑیں گے۔ خواجہ سعد رفیق نے ثابت کردیا ہے کہ اگر نیک نیت، دیانتدار اور اہل افراد کو قومی اداروں کا سربراہ بنادیا جائے تو ادارے اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔ میاں نواز شریف ریلوے کے قابل رشک تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے قومی اداروں کو نجکاری کے نام پر لوٹ مار سے بچائیں انہوں نے انتخابات کے بعد قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ریاستی اداروں کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گے اور پندرہ روزہ رپورٹ لیں گے۔ وہ اپنے اس وعدے پر بھی پورے نہیں اُتر سکے۔ وفاقی وزیر کی پریس بریفنگ کے بعد میرا یقین اور بھی پختہ ہوگیا ہے کہ عوامی انقلاب کے بعد اگر ریاستی اداروں کو خواجہ سعد رفیق جیسے دردمند، محب الوطن اور نیک نیت افراد کے سپرد کردیا جائے تو پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو خون چوسنے والے نہیں بلکہ خون دینے والے خاندانوں کی ضرورت ہے۔پاکستان کا ظالمانہ ریاستی نظام اور مکروہ چہرے بدلنے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم پاکستان دیانتدار اور اہل افراد کو قومی اداروں کا اختیار دیں تو ان اداروں کو نجی ملکیت میں دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔