حدود و قیود پر بھی ایک نظر!

کالم نگار  |  نعیم مسعود

بحث اپنے سنجیدہ موڑ پر تھی اس بحث و تمحیص میں چار لوگ محض سننے پر اکتفا کر رہے تھے تاہم سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس (ر) اللہ نواز کے سوالات نے مجھے اچانک خاموش کر دیا۔ حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ لاہور میں ہونے والے ”قائداعظم اور تصور جمہوریت“ سیمینار سے چند لمحے قبل یہ باتیں ہیں۔ جسٹس صاحب کے پاس اس سیمینار کی صدارت تھی‘ اور مقررین میں راقم کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر صبغت الدین شیخ‘ دلاور چودھری اور سیمینار کے میزبان ابصار عبدالعلی شامل تھے۔ جی بحث اس چیز کی تھی کہ طالبان کو کس طرح پرامن بنایا جا سکتا ہے۔ اسی روز میرا اسی حوالے سے کالم بھی تھا ہاں وہ سوال بطور خاص قابل تحریر ہے جو جسٹس صاحب نے قبل از سیمینار مجھ سے کہا کہ ‘ آپ کے خیال میں طالبان کو کسی طرح قومی دھارے میں واقعی شامل کیا جا سکتا ہے؟“ ان دنوں طالبان کی کارروائیاں عروج پر تھیں۔ غالباً دسمبر 2013ءکا آخری ہفتہ تھا میرے پاس جسٹس صاحب کی بات کا کوئی آبجیکٹو ٹائپ جواب نہ تھا‘ جو جوابات دئیے گئے ہیں ان پر خود بھی مطمئن نہ تھا۔ پھر صاحب خود ہی بولے اور کہنے لگے ”مجھے اور آپ کو کچھ کچھ قربانی دینی ہو گی۔ ہم سب کو کچھ کچھ قربانی دینی ہو گی۔ اپنے حصہ کی خوشیوں میں سے کچھ کچھ خوشیں ان علاقوں اور ان لوگوں کو فراہم کرنی ہو گی جو ناراض ہیں اور جہاں اضطراب اور ابہام ہیں۔ “
حرارت عزیزی کے تناظر میں جسٹس (ر) اللہ نواز کی بات قابل تحسین ہی نہیں قابل عمل بھی ہے‘ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ مگر .... ؟ اس ”مگر“ کی بات بعد میں‘ لیکن اس ابہام سے ملک و قوم ‘ عنان اقتدار رکھنے والوں اور سیاست کی وادی کے باسیوں کے علاوہ منبر و محراب والوں کو کون نکالے گا کہ(1)افغانستان کے طالبان اور ہیں اور پاکستان کے طالبان اور ؟
(2) تحریک طالبان میں سے کچھ گڈ طالبان میں اور کچھ بیڈ طالبان؟
(3)مذاکرات میں مصروف حکومتی کمیٹی اور طالبان کی رابطہ میں ایک ہی سکول آف تھاٹ کے لوگ ہیں؟
(4)سارا زمانہ پاکستان کے آئین کو مقدم جانتا ہے کہ طالبان؟
(5) سید منور حسن اور عمران خان بنفس نفیس آگے بڑھ کر عملاً مذاکرات کو نتیجہ خیز کیوں نہیں بناتے‘ بار بار پھر مذاکرات کے بیان کیوں داغتے ہیں؟
(6) مذاکرات والے بتائیں تو سہی کہ نتیجہ خیز مذاکرات یا عمر بھر مذاکرات؟ سوالات تو اس کے علاوہ بھی کئی ہو سکتے ہیں۔ تاہم سب سے بڑا سوال اور مسئلہ یہی ہے کہ امن قائم کیسے ہو؟ بات کو اگر ٹیڑھی نہ لیا جائے اور سیدھا سیدھا سمجھا جائے تو ‘ سری لنکا نے تامل ٹائیگر کے ساتھ کیسے ”مذاکراتی“ جنگ جیتی؟ مسئلہ کشمیر جو کہ بین الاقوامی مسئلہ ہے‘ خود اقوام متحدہ بھی ایک لحاظ سے مدعی ہے۔ تقسیم ہند کے ایک جرم کی پاداش میں کشمیر سلگ رہا اور معصوم تہ تیغ ہیں‘ رمضان ہو کہ عہد آتش و آہن کی بارش تھمتی نہیں۔ فلسطین کے بے گناہوں کے ساتھ اسرائیل کا رویہ کیا ہے؟ کتنے مذاکرات ہوئے اور کتنی اے پی سی بلائی گئیں؟ اس کم لکھے کو زیادہ سمجھا جائے بات بڑی سیدھی سی ہے تحریک طالبان پاکستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے میاں نوازشریف اور ان کے ہم نواﺅں نے سنہری موقع فراہم کیا ہے.... سنہری موقعہ!!!
 صداقت یہی ہے کہ سنہری موقعہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ عمران خان‘ سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمٰن آگے بڑھیں اور امن مذاکرات کو کامیاب و کامران بنائیں۔ محض بیانات کی بوچھاڑ انکے میڈیا والے کافی نہیں ہاں! یہاں جائزہ لے لیتے ہیں جسٹس (ر) اللہ نواز کی بات کا۔ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت‘ اپنی ذاتی حکومت ‘ اس حکومت میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے۔ کیا یہ بتا سکتے ہیں انہوں نے ذاتی سطح کے پی کے حکومت کے طور سے تحریک طالبان کو کتنا مطمئن کیا یامطمئن ہو گئے۔ وزیرستان‘ سوات یا دیگر پسے ہوئے لوگوں کے لئے کتنے کمیونٹی سنٹر‘ کتنے ہسپتال‘ کتنے سکول و کالج یا کسی یونیورسٹی کے قیام کو عملی جامہ پہنایا ؟ پرویز مشرف کے دور میں جب صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت تھی اس وقت ان متذکرہ علاقوں میں کتنے لوگوں کو پکے گھر بنا دئیے جو جدتوں اور خدمتوں کی مثال ہوں؟ جماعت اسلامی نے لاہور میں‘ وہ لاہور جو کالجوں کا شہر ہے اس میں تو ایک منصورہ کالج اور سید مودودی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ بنا لیا‘ کیا جماعت اسلامی کے مرکز کے تحت ان مذکورہ علاقوں میں بھی کوئی سائنس سنٹر‘ کوئی منصورہ کالج ‘ کوئی منصورہ ہسپتال یا کوئی منصورہ پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ بنایا گیا جو اس علاقے کے نوجوانوں کو سائنسدان یا جدید علوم کا وارث بناتا؟ جماعت اسلامی پر تو کے پی کے عرف صوبہ سرحد کے بہت احسانات ہیں۔
 چار ووٹ اگر ملتے ہیں تو وہاں سے ملتے ہیں۔ لاہور کو تو جدید کرنے کے لئے پرویز الٰہی کے بعد میاں شہبازشریف ہی کافی ہیں۔ پھر چشم فلک نے دیکھا بھی کہ‘ لاہور پر تکیہ کرنے والوں کو لیاقت بلوچ کے کھاتے میں تین ہزار سے کچھ زائد ہی ووٹ مل سکے۔ اللہ بھلا کرے مولانا فضل الرحمٰن کا ایم ایم اے کے دور میں اکرم درانی وزیراعلیٰ سرحد تھے۔ آج میاں نوازشریف کے دور میں وفاقی وزیر! کاش صابر شاہ‘ آفتاب شیرپاﺅ‘ اکرم درانی‘ امیر حیدر ہوتی کے علاوہ جنرل فضل حق‘ مولانا مفتی محمود جیسے آفتابوں اور ماہتابوں نے وقت پر وزیرستان اورسواتی علاقوں کو صف اول کی سہولتوں‘ تعلیمات اور انصاف سے نوازا ہوتا.... کم از کم اب ہی پاکستان کو لبنان اور شام یا عراق بننے سے بچا لیا جائے۔ بچا لیا جائے۔!!!
اللہ کرے مذاکرات کامیاب ہوں۔ مگر کتنی دیر؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف وزیر قبائل ہی کو نہیں محسود قبائل کو بھی اہل اقتدار ساتھ بٹھائیں۔ آئین کی صرف مرضی کی شقوں کو نہیں سبھی شقوں کو سبھی دیکھیں نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام کو حکمران‘ فوج اور طالبان ساتھ ساتھ رکھیں پی پی پی‘ ن لیگ‘ اے این پی‘ جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام‘ جمعیت علمائے پاکستان ‘ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم ساتھ ساتھ مذاکراتی عمل میں جلوہ افروز ہوں۔ حکومتی ٹیم کے لوگ ”ڈاکیا“ کے علاوہ کیا ورتھ رکھتے ہیں؟ مضبوط بیک گراﺅنڈ‘ مضبوط اعصاب‘ مضبوط اور مثبت سیاست کار ہی استحکام پاکستان کی ضمانت ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون/ مشیر خاص عرفان صدیقی محض ”شہہ کے مصاحب“ کے علاوہ رکھتے ہی کیا ہیں؟ یہاں جہاندیدہ عمل پنچائیتی‘ جرگہ شناسی سے آشنا اور عملی جمہوریت کے شہسوار کی ضرورت تھی۔ کم از کم یہ صاحب تو عام بندے سے گفت و شنید کے دوران دوسرے مکالمے پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں میاںصاحب اور حکومت کے حق میں گیت لکھوانے کی حد تک تو یہ کافی تھے اس بڑے عمل کے لئے خود میاں صاحبان؟ چودھری نثار‘ خورشید شاہ‘ سید منور حسن‘ عمران خان‘ اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن جیسے قد آور لوگوں کو اپنی ذہانت‘ تجربہ اور اثر ورسوخ کو براہ راست بروئے کار لانا ہو گا۔ ہر ایک کو ہر جگہ پر حدود و قیود کو مدنظر رکھنا ہو گا.... حدود قیود کو !!!