نجی تعلیمی اداروں کیلئے قانون سازی!

کالم نگار  |  خالد کاشمیری
نجی تعلیمی اداروں کیلئے قانون سازی!

عدالت عالیہ نے ہدایت کی ہے کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے قانون سازی کرے یہ حکم لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد جمیل نے ایک ایسی درخواست کی سماعت کے دوران دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے طلبا سے منہ مانگی فیسیں وصول کر رہے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ تعلیم کے نام پر شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے جبکہ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن ریگولیشن میں طلبا سے فیس وصولی کی کوئی حد مقرر نہیں۔ جو آئین کے آرٹیکل 25\A کی سنگین خلاف ورزی ہے جبکہ آئین کے تحت مفت تعلیم فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت عالیہ میں یہ حکومتی موقف بھی پیش کیا گیا کہ حکومت اس حوالے سے اسمبلی میں مسودہ قانون لا رہی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ حکومت کے اس موقف کی روشنی میں عدالت عالیہ نے نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے جاری فیسیں وصول کرنے کے معاملے پر قابو پانے کیلئے قانون سازی کا حکم دیا ہے مگر اس حوالے سے اس حقیقت کا اظہار بے جا نہ ہو گا کہ نجی تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرے اختیار میں لانے کیلئے جو قانون سازی کی جائے اس میں نجی تعلیمی اداروں کو کاروباری مراکز بنانے سے روکنے اور تدریسی عملے کے استحصال کا بھی سدباب ہونا چاہئے۔ کیونکہ نجی تعلیمی اداروں میں تدریسی عملے سے جو ناانصافیاں ہو رہی ہیں کسی پڑھے لکھے معاشرے میں اس کا تصور بھی محال ہے۔ حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کی اعظیم اکثریت ٹرینڈ تدریسی عملے سے تہی دامن ہے۔ ورنہ ان تعلیمی اداروں میں مردوخواتین سے عبارت تدریسی عملہ ’’ان ٹرینڈ‘‘ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹرینڈ تدریسی عملہ صرف اور صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی میں ملتا ہے۔ تاہم نجی تعلیمی اداروں کی عظیم اکثریت اپنا کام ٹرینڈ تدریسی عملہ کی بجائے غیر تربیت یافتہ تدریسی عملے سے اسی لئے چلا رہی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو ناقابل یقین حد تک کم سے کم تنخواہوں پر ان ٹرینڈ تدریسی عملہ میسر ہوتا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے ایسے تدریسی عملے میں زیادہ تعداد خواتین اساتذہ کی ہے جو گھریلو مجبوریوں کے تحت نجی تعلیمی اداروں میں ملازمت کر رہی ہیں۔ ان میں ایف اے سے لیکر بی اے اور ایم اے پاس تک لڑکیاں شامل ہیں۔ سبھی غربت کے ہاتھوں تنگ اپنے اپنے گھروں کا خرچ چلانے یا والدین اور محنت کش بھائیوں کا سہارا بننے کی خاطر نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو رہی ہیں۔ ان کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ ایسے تمام تدریسی عملے سے وہی کام لیتی ہے جو ’’ٹرینڈ ٹیچرز‘‘ کرتے ہیں۔ مگر نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی ہوس زر کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے تدریسی عملے کو حکومتی تعلیمی اداروں کی سہولتوں کے عشر عشیر کے مطابق بنی کوئی سہولت دینے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ نجی تعلیمی اداروں میں ایسے ’’ان ٹرینڈ‘‘ تدریسی عملے کے ارکان کی تعداد لاکھوں سے عبارت ہے اور ان میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو موجودہ مہنگائی، کساد بازاری اور ناگفتہ بہ خاندانی اقتصادی حالت کے باعث تدریسی پیشہ سے منسلک ہیں۔ بلاشبہ لاکھوں سے عبارت تدریسی عملہ ’’ان ٹرینڈ‘‘ ہی سہی مگر وہ سبھی محنت اور مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔
ستم بالائے ستم یہ بات بھی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی کثیر تعداد ایسی ہے کہ جہاں خواتین تدریسی عملے کو انتہائی قلیل تنخواہوں کے باوجود ملازمتوں کے تحفظ کا تصور سرے سے مفقود ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے آغاز سے قبل ہی انتظامیہ طلباوطالبات سے اڑھائی تین ماہ کی چھٹیوں کی فیسیں وصول کر لیتی ہیں مگر خواتین تدریسی عملے کو ان چھٹیوں کی تنخواہیں نہیں دی جاتیں ملک میں غربت اور بیروزگاری کا عالم کسی بھی پوشیدہ نہیں اس صورتحال کا نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ پورا پورا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ چھٹیاں ہونے سے قبل ہی خواتین ٹیچرز سے زبانی طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ چھٹیاں ختم ہونے پر آپ کو ٹیلی فون کرکے بتا دیا جائیگا کہ آپ نے ’’ڈیوٹی‘‘ پر آنا ہے۔ اگر آپ کو ٹیلی فون نہ کیا گیا تو آپ یہ سمجھ لیں کہ آپ کی ضرورت نہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ انتظامیہ بیروزگاری کی چکی میں پستی ہوئی کسی دوسری ’’ان ٹرینڈ‘‘ ٹیچر کو ملازمت دے دیتی ہے تاکہ پہلی ٹیچر ایک سال مدت ملازمت مکمل ہونے پر تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ نہ کر بیٹھے۔
نجی تعلیمی اداروں میں خواتین تدریسی عملے کا اس سے زیادہ استحصال اور کیا ہو سکتا ہے کہ انکی بیماری یا کسی گھریلو انتہائی ایمرجنسی کے موقع پر کی جانیوالی چھٹی کی تنخواہ کٹ جاتی ہے۔ یہ بات کس قدر افسوسناک ہے کہ جس ’’انڈ ٹرینڈ‘‘ ٹیچر کی تنخواہ ہی ڈیڑھ سے سے دو یا اڑھائی ہزار کے درمیان ہو اسکی ایک دو یوم کی بیماری پر چھٹیوں کی تنخواہ کاٹ لی جائے تو اسکی بے بسی و مجبوری کا احساس ایسی انتظامیہ کے ارکان کو کیسے ہو سکتا ہے جو بلاتکلف طلباوطالبات سے تین مہینوں کی چھٹیوں کی فیسیں پیشگی وصول کرکے ڈکارتی ہیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی طرف سے فروغ تعلیم میں سرگرم عمل ہونے کے دعوے سراسر دھوکہ ہیں، حقیقت اسکے قطعی طور پر برعکس ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے اس پیشے کو کاروبار بنا رکھا ہے اور اس کاروبار نے ان کو کروڑ پتی بنا دیا ہے۔ اس حقیقت کا حکومتی سطح پر تحقیقات ہو تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ ہو جائیگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالت عالیہ کے حکم کی روشنی میں حکومت نجی تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرہ اختیار میں لانے کیلئے قانون سازی ضرور کرے اور قانون میں نجی تعلیمی اداروں کے تدریسی عملے کی تنخواہوں کے تعین کا معاملہ بھی طے کیا جائے۔ تدریسی عملے بالخصوص خواتین ٹیچر کی اجرتیں انکے فرائض منصبی کو مدنظر رکھ کر مقرر کی جائیں۔ ایسی ان ٹرینڈ ٹیچر خواہ ایف اے ہوں، بی اے یا ایم اے پاس ہوں۔ مگر وہ ’’ٹرینڈ‘‘ ٹیچر کی طرح تعلیمی اداروں میں مختلف جماعتوں میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتی ہیں۔ ارباب حکومت کا فرض ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی اس خاموش اور مجبور مخلوق کے استحصال کے سدباب کی خاطر قانون سازی کو اولیت دی جائے اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو قانونی طور پر اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ تدریسی عملے کو قانون کے مطابق دی جانیوالی اجرتوں اور دیگر مراعات سے اپنی سہ ماہی رپورٹ میں حکومت کو آگاہ کرتے رہیں۔
یہ قابل ذکر بات کس قدر افسوسناک ہے کہ پنجاب پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن ریگولیشن میں نجی اداروں کے طلباوطالبات سے فیس وصولی کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ بعض نجی تعلیمی اداروں نے طلباوطالبات کیلئے اپنی مرضی کی یونیفارم اور بیجز مقرر کر رکھے ہیں۔ ان اداروں کے مالکان کی مقرر کردہ دکانوں ہی سے خریدنا ہوتے ہیں ایسے دکانداروں اور مالکان کے باہمی گٹھ جوڑ سے یہ اشیا طلبا کے والدین کو مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہیں۔اگر حکومت جہاں عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے بعض دیگر اقدامات اٹھانے کیلئے کوشاں ہے وہاں نجی اداروں کو قانونی طور پر اس امر کا پابند کیا جائے تمام نجی اداروں کے طلباوطالبات کیلئے ایک ہی رنگ کی یونیفارم مقرر کی جائے جو بچوں کے والدین سلوا سکیں یا جہاں سے چاہیں حسب استطاعت خرید سکیں۔