برآمدات کیسے بڑھائی جائیں؟

کالم نگار  |  شیخ منظر عالم
 برآمدات کیسے بڑھائی جائیں؟

کسی بھی ملک کی معاشی طاقت اور اقتصادی استحکا م کا مجموعی طور پرتجزیہ کرنا مقصود ہوتو سب سے پہلے اس ملک کی برآمدات و درآمدات کا جائزہ لیا جاتا ہے پھردرآمدات و برآمدات کے تناسب کا اندازہ کیا جاتا ہے اوراسکے بعدمالیاتی خسارے یا فائدے کا تعین کیا جاتا ہے مثال کے طور پرکسی بھی ملک کی برآمدات اس کی درآمدات سے زیادہ ہونی چاہیے۔ اسی صورت میں اس ملک میں معاشی استحکام آسکتا ہے ۔ معاشی و اقتصادی طور پر مستحکم ہونے کیلئے دوسری اہم بات اس ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور اس میں استحکام کا ہونا ہے۔ تیسرے اہم اور ضروری پہلو کے طور پر پیداواری عمل اور پیداواری شعبے کو دیکھا جاتا ہے جو کہ برآمدات بڑھانے میں مددگار ومعاون ثابت ہوتا ہے اور چوتھی انتہائی سنجیدہ ترجیح یہ کہ ہماری برآمدات میں تیار شدہ مصنوعات کا حصہ کس قدر ہے۔
اگر پاکستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو ان چاروں شعبوں میں ہماری حالت انتہائی دگرگوں اور پستی و تنزلی کا شکار ہے کیونکہ ہماری برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کئی گنا بڑھ چکی ہیں جس سے ہمارا مالیاتی خسارہ تقریباً بیس ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے جبکہ پیداواری شعبہ پر جو توجہ دی جانی چاہیے تھی وہ آج تک نہیں دی گئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کیلئے بھی ہم نے ایڈہاک ازم کا اصول وقتی طور پر اپنایا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں کبھی استحکام نہیں رہا یعنی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کیلئے کبھی ہم نے عالمی اداروں سے قرضے لئے ، کبھی کسی عالمی طاقت سے مدد یا بھیک کیلئے ہاتھ پھیلائے اور کبھی صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر انحصار کیا جس کی وجہ سے وقتی اور مصنوعی طور پر زر مبادلہ کے ذخائر تو بڑھ جاتے ہیں مگر ان میں استحکام نہیں آپاتا ۔ لیکن اس مصنوعی اور وقتی زرمبادلہ کے اضافہ پربھی ہمارے معاشی افلاطون خوشی و مسرت کے شادیانے بجانے لگتے ہیں مگر وقت کیساتھ ساتھ وہ فنڈز کسی ترقیاتی و تعمیری منصوبوں کے بجائے کچھ انتظامی اخراجات اورکچھ ارباب اختیار کے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ کر ضائع ہوجاتے ہیں۔
میں آج اپنے کالم میں ماضی کی تاریخ یاحوالوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے بحیثیت ایک تاجر وصنعتکار اس بات کا جائزہ لوں گا کہ ہم اپنے ملک کی برآمدات کیسے بڑھاسکتے ہیں؟ حالانکہ میں نے ملک کی معاشی ترقی کے چند اہم توجہ طلب پہلو کی نشاندہی 2013کے انتخابات سے قبل آٹھ مارچ 2013کو ماڈل ٹائون لاہور میں منعقدہ میٹنگ جو چوہدری نثار علی کی سربراہی میں ہوئی تھی میں کی تھی جس میں ملک بھر سے تقریباً چالیس پینتالیس معاشی ماہرین کو بلا یا گیا تھا۔اس میٹنگ میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا اور پورے بارہ گھنٹے کی طویل نشست میں ملک کی معاشی و اقتصادی بہتری کیلئے تجاویز مرتب کی گئی تھیںمگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اس دن کی پوری عرق ریزی سے تیارکی جانیوالی معاشی ، انتظامی ، عوامی اور سرکاری اداروں کے بارے میں جو تجاویز تیار کی گئی تھیںموجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعدان کا اب دور دورکچھ پتہ بھی نہیں ہے اور ہی اس میٹنگ کے سربراہ چوہدری نثار علی خان آج کل ان بنیادی اور اہم فیصلوں میں منظر عام پر نظر آرہے ہیں ۔اسی لئے میں نے اپنے گذشتہ ایک کالم میں لکھا تھا کہ اگر میاں برادران کی اب تیسری بار حکومت ناکام ہوئی تو اسکے سہرااس وقت اس حکومت کے سب سے اہم ذمہ دار ،عملی ڈپٹی وزیر اعظم اور تمام معاشی، سیاسی اور قومی فیصلوں کے شریک کار اسحاق ڈار صاحب، پرویزرشید صاحب اور خواجہ آصف صاحب کے سر جائیگا۔
حالانکہ ہمارے ملک میں اللہ تعالیٰ نے زمینی وزیر زمین خزانوں،بہتے دریائوں ، وسیع سمندر ،معدنیات سے بھرپور پہاڑوں، لہلہاتے میدانوں ، چاروں موسموں اور اپنی بے بہا نعمتوں سے نوازا ہوا ہے جس کیلئے کئی ممالک اور قومیں ترستی ہیں مگر ہم اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھاپائیں توہم سے بڑا بدنصیب اور کون ہوگا؟ اس لئے اب میں برآمدات کس طرح بڑھائی جاسکتی ہیں اسکی طرف مختصراً آتا ہوں۔سب سے پہلے ہمیں کسی بھی چھوٹی سی صنعت چلانے کیلئے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے جسکی طرف بظاہرصرف لفاظی اور نعروں کی صورت ہی میں موجودہ حکومت نے اپنی ترجیح کا اعلان کیا ہے مگر اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جتنا جلدی ہوسکے کم سے کم مدت میں بجلی کی پیداوار بڑھائی جانے کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ میں اپنے پچھلے کالم میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے طریقوں اپنی تجاویز دے چکا ہوںکیونکہ بجلی کا بٹن دبائے بغیرکوئی چھوٹی سی سلائی مشین بھی نہیں چل سکتی۔ اسکے بعد ہمیں جاپان اور کوریا کے ابتدائی ترقی کے ادوار کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے چھوٹی چھوٹی صنعتوں کو لگانے اور بتدریج اسکی تعداد بڑھانے پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ اگر ہم کسی جگہ پندرہ بیس سلائی مشینوں کو لگا کر کوئی چھوٹی سی صنعت یا ادارہ چلانے کی کوشش کریں تو اسکی وجہ سے ہمیں کم از کم پچاس سے سو افراد کو روزگار فراہم کرنے کے مواقع ملیں گے ۔ اسکے بعد ہمیں درمیانی اور بڑے درجے کی صنعتوں کے خام مال یعنی گیس کی مکمل سپلائی کو بڑھانے کی طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ کسی بھی قسم کے پروسیسنگ یا کیمیکل کے ادارے کیلئے بجلی کے بعد گیس اسکی بنیادی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں پیداواری شعبہ کے اوپر آج کی تاریخ تک کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم سلائی مشین کی سوئی بھی کوریا، چین، تھائی لینڈ اور جاپان سے منگوارہے ہیں ۔
اسی طرح درمیانی درجے کی صنعتوں ، بڑ ے انجینئرنگ اور آٹو انجینئرنگ میں بھی ہم پیداوار کے بجائے اسمبلنگ یونٹ لگا کر ملک کا قیمتی زرمبادلہ ضائع کررہے ہیں حالانکہ آٹو انجینئرنگ میں جب پچیس تیس سال پہلے اسمبلنگ پلانٹ لگائے جارہے تھے تو اس میں طے کیا گیا تھا کہ دس سال کے اندر ان یونٹس کو پیداواری صلاحیت سے ساتھ شروع کردیا جائیگا مگر عملی طور پراس میں پیداواری صلاحیت کیا قائم کرنی تھی اب بھی ہم تیا رشدہ گاڑیاں بڑی تعداد میں درآمد کرکے ملک کا قیمتی زر مبادلہ ضائع کررہے ہیں اس لئے برآمدات بڑھانے اور اپنا قیمتی زرمبادلہ بچانے کیلئے ہم کو ہر سطح پر پیداواری یونٹ بڑھانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی کیونکہ اس وقت ہمارا ملک صرف خام مال برآمد کرنیوالے ملک کی فہرست میں شامل ہورہا ہے جبکہ ہمارے وزیر اعظم ایک سال میں برآمدات پچیس ارب سے پچاس ارب تک بڑھانے کی بات کررہے تھے ۔ مگر یہ صرف نعروں کے استعمال کی وجہ سے نہیں ہوگی اس کیلئے ہمیں اپنے خام مال کو برآمد کرنے کے بجائے اس خام مال سے تیار شدہ مصنوعات کی برآمد پر اپنی صلاحیتیں استعمال کرنی ہونگی۔