ہے آشیاں کہ قفس یہ مقام اپنا ہے

ہے آشیاں کہ قفس یہ مقام اپنا ہے

موجودہ حکومت کی پالیسی یہی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کوئی امن کی صورت قائم کی جائے لیکن بین الاقوامی سازشیں عروج پر ہیں۔ بھارت اور افغانستان میں الیکشن ہونیوالے ہیں، بھارتی لیڈر ہمیشہ پاکستان دشمنی پر الیکشن لڑتے ہیں۔ افغانستان کے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ پاکستان کیخلاف ہیں وہ مضبوط امیدوار ہیں، حامد کرزئی گو الیکشن نہیں لڑ رہے وہ عبداللہ عبداللہ کے حق میں ہیں نہ ہی امریکہ کے بعد بھارت کو ناراض کرنا چاہتے ہیں۔
 یورپ و امریکہ کے کچھ سیاستدانوں نے تو بلوچستان کی آزادی کیلئے اپنی اپنی اسمبلیوں میں بل پاس کرانے کی کوشش کی ہے گو انکو کامیابی تو نہیں ہوئی لیکن چنگاری تو سلگا دی ہے۔ پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی بھی بڑے ملک کو ناراض کرے یا کسی کا ساتھ دے لیکن بڑے چودھریوں کی لڑائی میں ہمیشہ مارے جانیوالے کمزور اور غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔ یوکرائن کا مسئلہ روس اور امریکہ کے درمیان بھی کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ شام کی حکومت اور باغیوں کی جنگ میں امریکہ سعودی عرب اور ایران میں اختلاف ہے۔ پاکستان نہ ہی ایران کو چھوڑ سکتا ہے نہ ہی سعودی عرب کو۔ پاکستان اندرونی اور بیرونی سازشوں میں گِھرا ہوا ہے اس وقت ہر طرف سے دامن بچا کر تب ہی چلا جا سکتا ہے جب قوم میں ہم آہنگی ہو اور حکومت اور فوج ایک پیج پر ہوں۔
طالبان بھی مسلمانوں کے ہی ایک فرقہ میں سے ہیں اگر سُنی، شیعہ، دیوبندی، وہابی اکٹھے نہیں ہوں گے تو صرف پاکستان نہیں پورے عالم اسلام کو نقصان ہو گا۔ طالبان کو بھی ہوش کا دامن  تھامنا چاہئے وہ کونسے اسلام کی مدد کر رہے ہیں۔ اسلامی شریعت تمام فرقوں کی مختلف ہے اس لئے کسی ایک کی شریعت پر عمل کرنا ناممکن ہو گا۔ جنرل ضیاالحق کے زمانے میں ایک شریعت نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن شریعت کا ایک جزو زکوٰۃ کا بھی مکمل طور پر نفاذ نہ ہو سکا ۔ اگر مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ کر آپس کی لڑائی کریں گے تو عالم اسلام کو خطرات لاحق ہوں گے اور مسلمان کمزور ہو کر عالم کفر کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ موجودہ حکومت سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے لیکن بین الاقوامی سازشیں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ کرا دیتی ہیں جس میں سارا پانسہ پلٹ جاتا ہے۔  مذاکرات کے دوران ایف سی جوانوں کا بہیمانہ قتل ہوا ، ایک میجر جنرل شہید کئے گئے۔
 حال ہی میں ایک میجر شہید ہوا، ابھی پہلی دھول ختم نہیں ہوئی تھی کہ اسلام آباد کچہری میں حملہ کر کے ایک سیشن جج اور چار وکلاء سمیت گیارہ افراد شہید ہوئے۔ ان سب واقعات کا تعلق پاکستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنا مقصود ہے۔ حکومت تو بظاہر حوصلے سے کام لے رہی ہے لیکن طالبان بھی تو آخر مسلمان ہیں ان کو بھی تو احساس ہونا چاہئے کہ پاکستان وہ اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹم بم ہے اور اس کا نام اسلامی ایٹم بم قرار دیا گیا تھا۔ اغیار ہماری آپس کی لڑائی میں ہم سے ایٹمی صلاحیت چھیننا چاہتے ہیں تاکہ عالم اسلام اس قابل نہ ہو کہ اغیار کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اب وہ زمانہ نہیں رہا جب بزورِ شمشیر مذہب تبدیل کئے جا سکتے تھے، ہر مسلمان اپنے اپنے عقیدہ پر کاربند ہے لیکن دوسروں کے عقیدے میں دخل اندازی نہ کرے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا تھا کافروں اور غیر مسلموں کو بھی پورا انصاف دیا جائے اور  غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر حملہ نہ کیا جائے۔
صد افسوس ہم مسجدوں، خانقاہوں، امام بارگاہوں میں خودکش حملے کر کے نمازی شہید کر رہے ہیں۔ کیا یہ رسول کریمؐ کی پیروی ہے؟ کیا حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے فرمان کی تعمیل کر رہے ہیں؟ پولیس آفیسر، آرمی جوان، انجینئرز، جوڈیشل آفیسر اور عوام کا کیا قصور ہے کہ ان کو ناحق شہید کیا جا رہا ہے۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں کہ اپنے ہی ہموطنوں کو تہہ تیغ کر رہے ہیں، اپنے ہی ملک کو آگ لگا رہے ہیں۔ عالم اسلام کی خدمت کی بجائے اسکے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں۔ دنیا میں صوفیوں نے اپنی انصاف پسندی اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے غیر مذاہب کے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا، کسی نے گلے کاٹ کر، عبادت گاہوں پر گولیاں چلا کر اسلام کی طرف راغب نہیں کیا تھا۔ سیاستدانوں سے التجا ہے کہ ملک میں انتشار ختم کیا جائے اور انتشار پسند لوگوں کے خلاف نفرت پیدا کر کے ان کا اثر و رسوخ ختم کیا جائے۔ پارٹی سے بالاتر ہو کر ملک میں امن کوششوں کا ساتھ دیا جائے۔ علمائے کرام سے بھی درخواست ہے کہ فرقوں سے بالاتر ہو کر ملک سے انتشار ختم کرایا جائے۔ اہل قلم اور ٹی وی اینکرز صاحبان سے بھی درخواست ہے کہ آگ لگانے کی بجائے آگ بُجھانے کا کام کیا جائے۔ ملک اس وقت اندرونی و بیرونی خطرات میں گِھرا ہُوا ہے۔ اسے اس بھنور سے نکالنے کی کوشش کرنا ہر اہل وطن کا فرض ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے جس طرح بھارت اور بنگلہ دیش سے اُن کے جیتے ہوئے میچ ہار میں تبدیل کر دیا یہ ٹیم ورک کا ہی نتیجہ ہے۔ خدا پاکستان میں کوئی ایسا ہی شاہد آفریدی پیدا کر دے جو چھکے لگا کر اس قوم کو طوفانوں سے باہر نکال دے، کوئی سعید اجمل پیدا کر دے جو گگلی باؤلنگ کر کے دشمن کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پاکستان میں امن قائم کر دے۔ اے خدا کوئی احمد شہزاد پیدا کر دے جو  امن کی سنچری اس ملک میں لگا دے۔ اے خدا اس ملک پر رحم فرما، نفرت کے بیج بونے والوں کو جہنم رسید کر اور ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔ ہم سب ایک ہی سوچ میں منسلک ہو جائیں کہ یہ ملک ہمارا ہے ہم نے اسے بچانا ہے اور بھائیوں کی طرح رہنا ہے  …؎
ہر اک روش کو بدل دو، بدل دو تم لیکن
ہے آشیاں کہ قفس یہ مقام اپنا ہے
ہزار پیچ ہیں موج و صدف کی منزل میں
ہر ایک قطرہ نیساں گُہر نہیں ہوتا
…………… (ختم شد)