مذاکرات براہ راست!

 مذاکرات براہ راست!

ملک کی تاریخ میں پہلی بار دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف ۔ایٹ میں واقع ضلع کچہری میں دہشت گردوں کا حملہ ہوا ۔چادر اوڑھے ہوئے دو دہشت گرد کچہری میں داخل ہوئے ۔چادر اُتار کہ اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور گولیاںبرسانی شروع کر دیں۔ ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان کو آٹھ قدم کے فاصلہ سے ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا گیا۔اِس حملے میں 11افراد شہید اور 25 زخمی ہوئے ۔شہید ہونے والوں میں ایک خاتون وکیل بھی شامل ہیں جس نے حال ہی میں وکالت شروع کی تھی ۔
 دوبھائیوں کی یہ بہن ولایت سے فارغ التحصیل ہو کر ملک میں لوگوں کو انصاف دلانے کے مشن میں کام کرنا چاہتی تھی۔شدت پسند تنظیم احرارالہند نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حملے سے لا تعلقی کا اظہار کیا جس پر وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ اعلان لا تعلقی کافی نہیں طالبان خود اسلام آباد واقعے میں ملوث طالبان کو بے نقاب کریں۔
واقعہ کے فوراً بعد وزیراعظم کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف چیف آف جوائنٹ سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ۔ ڈائرکٹر جنرل آئی ۔ایس۔آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی وزیرخزانہ اور وزیر دفاع بھی شریک تھے ۔اجلاس میں سکیورٹی صورت ِ حال ،طالبان کے اعلان جنگ بندی اور اسلام آباد کچہری کے واقعہ پر غور کیا گیا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت انتظامی نا اہلی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔عسکری قیادت نے وزیراعظم کو داخلی سکیورٹی پر بریفنگ دی ۔یاد رہے کہ چند روز قبل وزارت داخلہ کی ایک کمیٹی کو بریفنگ کے دوران طارق لودھی نے کہا تھا کہ اسلام آباد بہت غیر محفوظ اور پُر خطر شہر بن چکا ہے ۔ وزیرداخلہ نے اسکی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ اسلام آباد ایک بہت محفوظ شہر ہے ۔وزیرداخلہ کے اعلان کے چند روز بعد ہی ایف ۔ایٹ کی کچہری پر یہ حملہ حکومت کی معلومات اور حفاظتی انتظامات پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ناقدین یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ حکومت اور ملکی انتظامیہ اگر دارالحکومت کو محفوظ نہیں رکھ سکتی تو فاٹا کو کس طرح محفوظ بنائے گی ۔
اِس واقعہ سے 6دن پہلے دہشت گردوں کے اسلام آباد داخلے کی خبریں ملی تھیں پانچ دن کے اند ر اندر انھوں نے اِس حملہ کی منصوبہ بندی کی اور چھٹے دن حملہ کر دیا ۔سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اپریل میں افغانستان میں الیکشن ہونگے ۔اگر انتخابات فیصلہ کن نہ ہوئے تو ہو سکتا ہے کہ رن آف  مئی کے مہینہ میں ہو ں ۔اس کے بعد کے مہینے رمضان اور عید کے ہو نگے ۔گویا کہ اِن دو ماہ میں بھی کچھ نہ ہو سکے گا ۔اِس دو ران ریاست ،حکومت اور ہماری افواج تو کچھ نہ کر پائیں گی لیکن طالبان کو اپنی قوت مجتمع کرنے کا نادر موقع مل جائیگا۔
 جنگ بندی کے معاہد ے اِس سے پہلے بھی طالبان کے ساتھ ہو چکے ۔ہر بار اُن معاہدوں کو پامال طالبان نے ہی کیا اور جنگ بندی کو اپنی صف بندی اور قوت کو مجتمع کرنے کے لئے استعمال کیا۔غالباً یہی وجہ ہو گی کہ عسکری ذرائع طالبان کی طرف سے جنگ بندی کی پیشکش کو محض ایک چال سمجھتے تھے اور اسکی مخالفت کرتے تھے فوج کے لئے یہ بات بہت مشکل ہے کہ فوج پر سکیورٹی ایجنسیز یا عوام پر حملے کئے جائیں۔خون بہایا جائے اور فوج کو جوابی کاروائی کرنے تک کی اجازت نہ ہو۔
اسلام آباد کچہری پر حملے کے ساتھ ساتھ ہی لنڈی کوتل میں ایک فوجی قافلہ پر بھی حملہ ہوا تھا جس میںسڑک پر نصب شدہ ایک بم کو ریموٹ کنٹرول سے اُڑایا گیا ۔دھماکے سے چار گاڑیوں کے اِس قافلے میں ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوئی اور دو کو جزوی نقصان پہنچا ۔دوعسکری جوان بھی اِس حملے میں نشانہ بنے اسلام آباد اور لنڈی کوتل کے یہ واقعات طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہوئے۔اِس سے اُن لوگوں کی اُمیدوں کو دھچکا لگا جو اعلان جنگ بندی کے بعد یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ شاید اَب امن وامان کی راہیںکھلیں گی اور بالٓاخر وطن عزیزمیں بم دھماکوں ۔دُھوئیں کے بادلوں اور خون کی ہولی کا سلسلہ ختم ہو جائیگا۔
ہماری عسکری قوت کے چند جوابی اقدامات سے جو ملک کی فضائیہ کے ذریعہ کئے گئے ۔دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچا  ۔اُنکے چند بہت تجربہ کار کمانڈرز بھی اِن حملوں میں ہلاک ہوئے تھے جس پر شاہد اللہ شاہد نے بھی طالبان کو پہنچے والے نقصان کو ناقابل ِ تلافی بتایا تھا ۔تازہ ترین دہشت گردی کے واقعات (اسلام آباد اور لنڈی کوتل) کے بعد عوام ریاست کی طرف سے شدید ردِعمل کی توقع  تھی لیکن وزیراعظم نے دوسری بار عوامی توقع کے بر عکس فیصلہ کر کے عوام کو حیران کر دیا ۔
پہلی بار وزیراعظم نے ایسا اپنی پارلیمنٹ کی اُس تقریر میں کیا تھا جب تقریر کا لب ولہجہ ریاستی ردِ عمل کی طرف جاتا تھا لیکن آخر میںوزیراعظم نے مذاکرات کے حق میں ایک چار رکنی کمیٹی کے اعلان پر اپنی تقریر کا اختتام کیا ۔اِس بار بھی لگتا یونہی تھا کہ عوام اور فوج کی خواہشات کا  لحاظ کرتے ہوئے وزیراعظم ہمت کر کے دہشت گردوں کے ساتھ دو دوہاتھ کر نے کا فیصلہ کر لیں گے لیکن وزیراعظم نے ارشاد کیا کہ پائیدار امن کا قیام اولین ترجیح ہے اور حکومتی کمیٹی کو مذاکرات جاری رکھنے کاحکم دیدیا قارئین کو یاد ہو گا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی سے یہ کہہ کر مذاکرات معطل کر دئیے تھے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔طالبان کی کمیٹی نے یہ بھی کہاکہ بار بار رابطے کے باوجود حکومتی کمیٹی ٹس سے مس نہ ہوئی اور رابطہ ممکن نہ ہوا ۔
یہ درست ہے کہ جو معلومات اور اطلاعات وزیراعظم کو میسر ہیں اُن تک عوام کی رسائی ممکن نہیں اور وزیراعظم کو بہر حال بہت کچھ دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ عوام دیکھ رہے تھے کہ ریاست کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی فراہم کردہ رپورٹس پر ہماری فضائیہ کی کار کردگی کتنی مفید اور بار آور تھی۔بہر حال اَب جبکہ مذاکرات کا فیصلہ ہو ہی چکا ہے تو دعا کرنی چاہئے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں اور وزیراعظم مذاکرات کے ذریعہ ریاست میںاپنی رٹ اور مملکت میںامن کے قیام کے مقصد میں کامیاب ہوں۔مذاکرات کے حق میں فیصلہ کر چکنے کے بعد وزیراعظم نے دونوں کمیٹیوں کو ناشتہ کی میز پر مدعو کیا وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی کمیٹی چند روز تک تشکیل دی جائیگی۔اِس میں فوکل پرسن وزیرداخلہ ہونگے۔نیز خیبر پختون خواہ کے گورنر اور وزیراعلیٰ کو بھی نمائندگی دی جائیگی۔ایک اہم رکن آئی۔ ایس۔آئی کا کوئی سینئر آفیسر ہوگا۔گویا اِس طرح حکومتی کمیٹی میں فوج کو براہ ر است نمائندگی دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومتی کمیٹی کا کوئی ایک فرد طالبان کمیٹی کے ساتھ شمالی وزیرستان کا دورہ کریگا۔ یوں طالبان کی شوریٰ سے براہ راست مذاکرات کی راہ کھلے گی۔خیال ہے کہ حکومتی کمیٹی کی تشکیل ِنو سے مذاکرات کو تیزی سے بڑھایا جا سکے گاکیونکہ یہ کمیٹی حکومت کی جانب سے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں بھی ہو گی۔اُدھر فوج کا حکومتی کمیٹی میں شامل کیا جانا اختلاف کا موضوع بنا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ فوج کو اِس کمیٹی میں شامل کیا جانا درست فیصلہ نہیں۔یہ کام سیاستدانوں اور حکومت کا ہے فوج کا کام بہر حال حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد کرنا ہے ۔اَبھی چونکہ کمیٹیوں کی تشکیلِ نو ہونا باقی ہے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ انکی آخری شکل کیا ہو گی۔خدا سے دُعا یہی ہے کہ کسی بھی ذریعہ ملک میں امن قائم ہو اور خاک وخون کا یہ کھیل بالآخر ختم ہو۔