ایک سال ۔ ۔ ۔ اتنی خودکشیاں ؟

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
ایک سال ۔ ۔ ۔ اتنی خودکشیاں ؟

ہندوستان کے سرکاری ادارے ’’ نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو ’’ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ’’ سال 2015 ‘‘ کے دوران ’’ 1,33,623 ‘‘ افراد نے خود کشی کی ۔ یاد رہے کہ ابھی تک سال 2016 کے حتمی اعداد و شمار مرتب نہیں ہوئے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ محض ایک برس کے اندر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لینا ایسی بات نہیں جسے سرسری کہہ کر نظر انداز کیا جا سکے ۔ بلکہ یہ ایسا انسانی المیہ ہے جس پر وطنِ عزیز میں بوجوہ خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ نہیں دی جا رہی ۔ سال 2015 میں خود کشی کرنے والوںمیں خواتین کی تعداد 42088 ہے ۔ اٹھارہ سال سے ساٹھ سال کے درمیان کی عمر کے 79834 مردوں نے جبکہ اسی ایج گروپ کی 34381 خواتین نے خود کشی کی ۔ اس کے علاوہ اٹھارہ سال سے کم عمر 9408 لڑکے لڑکیوں نے اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگایا ۔
سماجی ماہرین نے اس صورتحال کے پس منظر میں کہا ہے کہ یہ اپنے آپ میں اتنا بڑا انسانی المیہ ہے جس پر نہ تو خود بھارت کے اندر خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی عالمی رائے عامہ اس طرح سے اس جانب کان دھر رہی ہے جو اس صورتحال کی متقاضی ہے ۔
دوسری جانب رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے ہندوستانی صوبے’’ مدھیہ پردیش ‘‘ کے علاقے ’’ مند سور ‘‘ میں چھ جون کودہلی سرکار نے اپنی روایتی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے کسانوں پر پولیس کے ذریعے سیدھی فائرنگ کرائی اور یوں چھ بے قصور اور نہتے کسانوں سے زندہ رہنے کا بنیادی انسانی حق چھین لیا جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ۔ ان مظلوموں کا قصور محض یہ تھا کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ ان کی فصلوں کی مناسب قیمت ادا کی جائے ۔ غور طلب ہے کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں انتہائی کشیدگی پیدا ہو چکی ہے اور مندسور ، رتلام اور اجین کے اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور انٹرنیٹ سہولیات مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں ۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ اور BJP رہنما ’’ شیوراج سنگھ چوہان‘‘ نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ مدھیہ پردیش بلکہ پورے بھارت میں مہنگائی واقعتا بہت بڑھ گئی۔ علاوہ ازیں معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین باہمی تعلقات کو شدید زک پہنچ رہی ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ کانگرس کی سربراہ ’’ سونیا گاندھی ‘‘ نے کانگرس ورکنگ کمیٹی کے سالانہ اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران اس امر کی نشاندہی کی مودی کے بر سرِ اقتدار آنے اور خصوصاً نوٹ بندی کے بے سر و پا فیصلے کے نتیجے میں بھارت میں بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ اس موقع پر سابق بھارتی وزیر اعظم اور ماہرِ اقتصادیات’’ من موہن سنگھ ‘‘ نے اعداد و شمار کے ساتھ بتایا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں بھارتی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا اور GDP میں کم از کم دو فیصد کی گراوٹ آ چکی ہے اور قوی اندیشہ ہے کہ اس ضمن میں صورتحال مزید بگڑے گی ۔ جس کے نتائج بھارت کو ہر شعبہ حیات میں منفی ڈھنگ سے متاثر کریں گے ۔
علاوہ ازیں سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی دور میں بھارت کا اقتصادی کے ساتھ ساتھ سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح چر مرا کر رہ گیا اور ایک جانب کشمیر ( مقبوضہ ) میں صورتحال بھارتی فوج ( قابض ) کے قابو سے باہر ہو چلی ہے تو دوسری طرف اتر پردیش میں یوگی اور مودی راج کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ جس کے منفی نتائج بہر صورت بھارتی سا لمیت کو متاثر کریں گے ۔