مادر ملّت کا سیاسی کردار اور نئے چیف جسٹس پاکستان

کالم نگار  |  قیوم نظامی
مادر ملّت کا سیاسی کردار اور نئے چیف جسٹس پاکستان

مادر ملت فاطمہ جناح تحریک پاکستان کا یادگار اور انتہائی قابل احترام نام ہے۔ مؤرخین نے ان کے سیاسی کردار کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مادر ملت 31 جولائی 1893ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں انہوں نے کنوینٹ ممبئی اور ڈینٹل کالج کلکتہ سے تعلیم حاصل کی۔ ممبئی میں سات سال تک اپنا ڈینٹل کلینک چلاتی رہیں۔ رتی جناح کی وفات کے بعد مادرملت نے اپنے پیشے کو خیر باد کہہ کر اپنے عزیز اور عظیم بھائی کی معاونت شروع کردی۔ قائداعظم 193ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے مادر ملت ان کے ہمراہ تھیں۔ قائداعظم چار پانچ سال لندن میں وکالت کرتے رہے اس دوران مادرملت نہ صرف گھریلو امور چلاتی رہیں بلکہ انہوں نے سیاسی امور میں بھی قائداعظم کی معاونت کی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 1938ء میں مادر ملت فاطمہ جناح کی سربراہی میں خواتین کی 30 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔مادر ملت نے مسلم لیگ کی خواتین کو منظم اور بیدار کرنے میں غیر معمولی دلچسپی لی اور 1942ء میں مسلم ویمن سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی اس موقع پر قائداعظم نے اپنی بہن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ’’میری بہن فاطمہ نے طویل مدت تک میری خدمت کرکے اور مسلم خواتین کو بیدار کرکے مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا ہے کہ میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتا‘‘۔
1942ء میں بیگم شاہنواز کی بہن گیتی آراء بشیر نے قائداعظم سے سوال کیا کہ پاکستان قدامت پسند یا ترقی پسند ریاست ہوگا۔ قائداعظم نے جواب دیا ’’خواتین کو بتا دو میں ایک ترقی پسند مسلم لیڈر ہوں میں بلوچستان اور سرحد جیسے پسماندہ علاقوں میں مسلم لیگ کے اجلاسوں میں اپنی بہن کو ساتھ لے کر جاتا ہوں انشاء اللہ پاکستان ایک ترقی پسند ملک ہوگا جس کی تعمیر و تشکیل میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی نظر آئیں گی‘‘۔ [جمیل الدین احمد: قائداعظم کے رفقاء صفحہ 123] افسوس آج طالبان قائداعظم کے تصورکے برعکس خواتین کے سکول بمباری کرکے تباہ کردیتے ہیں اور خواتین کو گھر کی چار دیواری کے اندر بند کردینا چاہتے ہیں ۔ قائداعظم کے پاکستان میں ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔ مادر ملت نے بڑی ثابت قدمی اور ایمانی جذبے کے ساتھ اپنے عظیم بھائی کا زندگی کے آخری سانس تک ساتھ دیا۔ قائداعظم صحت کی خرابی کی بناء پر کچھ عرصہ زیارت میں مقیم رہے اس دوران مادر ملت اپنے بھائی کی تیمارداری کرتی رہیں۔ جب کراچی ائیر پورٹ سے گورنر ہائوس جاتے ہوئے قائداعظم کی ایمبو لینس خراب ہوگئی سخت گرمی میں مادر ملت اپنے بھائی کے سکون کے لیے پنکھا جھلتی رہیں۔ مادر ملت نے ’’مائی برادر‘‘ کے نام سے کتاب بھی تحریر کی۔
پاکستان کی تاریخ میں 1964ء کا سال سیاسی طور پر ہنگامہ خیز تھا۔ اس وقت یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ 1965ء کے انتخابات کے بعد جنرل ایوب خان اسمبلی سے تاحیات صدر بننے کی منظوری حاصل کرلیں گے۔ اپوزیشن راہنمائوں کے لیے یہ خبر خطرے کی گھنٹی تھی انہوں نے اپنے نظریاتی اختلافات ختم کرکے متحدہ اپوزیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ متحدہ اپوزیشن میں مسلم لیگ کونسل، عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی (ولی خان گروپ)، نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی گروپ)، نظام اسلام پارٹی اور جماعت اسلامی شامل تھیں۔ ایوب خان کے مقابلے میں جنرل اعظم خان کو لانے کی کوشش کی گئی مگر مولانا بھاشانی نے کسی فوجی کو صدارتی اُمیدوار بنانے سے انکار کردیا۔ سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوا کہ مادر ملت فاطمہ جناح کو ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے کی درخواست کی جائے۔ اس مقصد کے لیے اپوزیشن راہنما ایک جلوس کی صورت میں محترمہ فاطمہ جناح کی رہائش گاہ پر گئے اور ان سے تحریری طور پر صدارتی اُمیدوار بننے کی درخواست کی۔ مادر ملت نے حزب اختلاف کی درخواست کو قبول کرلیا۔ اس فیصلے سے ایوب خان اور اس کے رفقاء بوکھلا گئے۔ ان کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ مادر ملت صدارتی اُمیدوار بننے کے لیے رضا مند ہوجائیں گی۔ مادر ملت نے ضعیف العمری کے باوجود زبردست انتخابی مہم چلائی اور پاکستان کے عوام میں ایک نیا ولولہ پیدا کردیا۔مجھے یاد ہے کہ ہم نوجوان اپنے سائیکلوں پر مادرملت کا انتخابی نشان ’’لالٹین‘‘ لٹکا کر گلی محلوں میں پھرتے تھے۔عوام کی بھرپور حمایت کے باوجود محترمہ فاطمہ جناح یہ انتخاب ہار گئیں اور جنرل ایوب خان دھن دھونس دھاندلی کے ذریعے انتخاب جیت گئے۔ مادر ملت 9 جولائی 1967ء کو پر اسرار طور پر رحلت فرماگئیں۔
جسٹس ناصر الملک نے پاکستان کے 22ویں چیف جسٹس کی حیثیت میں حلف اُٹھالیا ہے۔ ایوان صدر میں ہونے والی باوقار تقریب میں وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزراء اور عدلیہ کی اہم شخصیات موجود تھیں۔ پاکستان کے منفرد اور محترم سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عدلیہ کی آزادی کے لیے جو بے مثال قربانیاں دیں اور آئین و قانون کی حکمرانی کی شاندار روایات قائم کیں وہ عدالتی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ افتخار چوہدری عدلیہ ڈاکٹرائن کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد نیک نام جج تصدق حسین جیلانی نے چیف جسٹس پاکستان کا منصب سنبھالا ان کے بعد ایک اور نیک نام و باوقار شخصیت جسٹس ناصر الملک معزز منصب پر فائز ہوئے ہیں۔انہوں نے امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں تاریخ ساز فیصلہ دیا اور حکومت پاکستان کو ہدایت کی کہ سی آئی اے کے سٹیشن کمانڈر کے خلاف مقدمہ رجسٹر کیا جائے اور امریکہ سے مقتولین کا زر تلافی طلب کیا جائے۔
نئے چیف جسٹس پاکستان نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کردیا تھا اور اس سات رکنی بنچ میں شامل تھے جس نے 3 نومبر 27ء کی ایمر جینسی کو غیر آئینی قراردیا تھا۔ چیف جسٹس ناصر املک اس بنچ کے سربراہ تھے جس نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت میں 3 سیکنڈ کی سزا دے کر عدلیہ کے وقار کا دفاع کیا تھا۔ پاکستان کے معروف وکلاء نے ان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں منظم، مستحکم، آزاد اور باوقار چیف جسٹس قراردیا ہے۔ چیف جسٹس ناصر املک تیرہ ماہ اپنے منصب پر فائز رہیں گے۔ یہ عرصہ سیاسی طور پر بڑا ہیجان انگیز ہوگا۔ سول سوسائیٹی اور وکلاء برادری کو یقین ہے کہ وہ چیلنجوں کا متانت، بردباری اور آئین سے مکمل وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدلیہ کی آزادی، عام آدمی کے لیے فوری اور سستے انصاف کے سلسلے میں شاندار روایات چھوڑ کر جائیں گے اور ان کے دور میں عوام کو مقامی حکومتوں کا معطل آئینی حق مل سکے گا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ کے سینئر جج بن گئے ہیں انہوں نے اُردو کو قومی اور سرکاری زبان بنانے کے لیے آبزرویشن دے کر اور جرات مندانہ فیصلے کرکے عوام کے دلوں میں گھر کرلیا ہے۔ عوام کو اُمید ہے کہ حکمرانوں کا قبلہ درست رکھنے ، عدلیہ کی آزادی، وقار اور آئین کی حکمرانی کا تسلسل جاری رہے گا اور آخر کار حکمرانوں اور پاکستان کے تمام شہریوں کو آئین اور قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔