مادرِ ملتؒ اور روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

کالم نگار  |  شاہد رشید
مادرِ ملتؒ اور روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

مادرِ ملتؒ اور نوائے وقت کے صحافتی تعلق کے حوالے سے ایک تاریخی خط‘ قومی تاریخی دستاویزات کے ادارے کے دفتر سے ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ نوائے وقت کا مشن کیا ہے اور جن ہاتھوں میں ہے‘ وہ کسی حد تک اس ملک و قوم کیلئے قربانی دے سکتے ہیں:
’’مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آپ اپنے اخبار کو اس کے پرانے نام ’’نوائے وقت‘‘ کے تحت شائع کرتے جارہے ہیں۔ اﷲ کرے یہ‘ قوم و ملک کی اسی طرح خدمت کرے جیسے اس نے حصولِ پاکستان میں کی تھی۔‘‘
یہ وہ جذبات ہیں جن کا اظہار مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے مرحوم حمید نظامی کے نام اس خط میں کیا جو انہوں نے 12مارچ 1952ء کو گورنر ہائوس لاہور سے لکھا۔اس سلسلے میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ اور حمید نظامی کے درمیان کراچی سے ایک اخبار شائع کرنے کے بارے میں بات چیت شروع ہوئی تھی۔ -9مئی 1950ء کو جناب حمید نظامی نے لاہور سے مادرِ ملتؒ کے نام خط میں لکھا:
قابلِ احترام خاتونِ پاکستان
کراچی میں ہمارے قابلِ اعتماد ذرائع سے حال ہی میں پتہ چلا ہے کہ آپ کراچی سے ایک اُردو روزنامہ شروع کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ہم آپ کی اس قابلِ تحسین سوچ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ واقعی کراچی کو اس وقت‘ مزید وقت ضائع کئے بغیر‘ ایک خود مختار اور آزاد اخبار کی ضرورت ہے اور کسی اخبار کے لیے آپ سے زیادہ قابلِ احترام سرپرستی اور قائدانہ صلاحیت نہیں مل سکتی۔
غالباً آپ جانتی ہیں کہ ہم بھی کچھ عرصہ سے نوائے وقت کا کراچی ایڈیشن نکالنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم نے ایک اچھی جگہ‘ رابسن روڈ پر ایک دفتر لے لیا ہے۔ ڈیکلریشن حاصل کرنے کیلئے درخواست دے دی تھی اور متعلقہ حکام نے ہمیں مطلوبہ اجازت بھی دیدی ۔ ہم نے اپنا پرنٹنگ پریس بھی نصب کر لیا ہے جو ہماری فوری ضروریات کیلئے کافی ہے اور وہ ایک یا دو ہفتے میں کام شروع کردیگا۔
ہم نے پریس کے علاوہ بلاک میکنگ کا پلانٹ بھی لگایا ہے جو پہلے ہی کام کررہا ہے۔ آپ یقینا محسوس کرینگی کہ کراچی ایڈیشن نکالنے کیلئے ہمارے انتظامات تقریباً مکمل ہیں۔ ہم اس حالت میں ہیں کہ جب چاہیں اسکی اشاعت شروع کرسکتے ہیں۔ اس کا مقصد پیسہ کمانا نہیں ہے اس کیلئے ہمارا لاہور کا ادارہ کافی ہے۔ درحقیقت ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی میں پہلے ایک دو سال ہمیں شدید محنت کرنے کے علاوہ کافی نقصان بھی برداشت کرنا ہوگا۔ ہمارے اردگرد رکاوٹیں پیدا کی جائیں گی اور ہمیں مقابلے میں بھی آنا ہوگا۔ کراچی کے موجودہ حالات میں ہمیں عام آدمی کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرنا ہوگی۔ ہم کافی عرصہ سے محسوس کررہے ہیں کہ ملک کے دارالحکومت میںعوام الناس کے ترجمان کا فقدان ہے۔ لاہور یہاں سے بہت دور ہے اور وہاں سے ہم یہ فرض ادا نہیں کرسکتے۔ آپ کراچی میں مقیم ہیں اور اس ضرورت کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔پاکستان کیلئے جدوجہد سے پہلے اور بعد میں ’’نوائے وقت‘‘ کا کردار اور ریکارڈ آپ سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔آپ نے اس جنگ میں بھرپور حصہ لیا اور آپ اس سے لاعلم نہیں ہوں گی۔ میں ایک بار پھر عرض کروں گاکہ جب تک نوائے وقت موجودہ ہاتھوں میں ہے‘ یہ اسی طرح وفاداری سے پاکستان کے مقاصد کیلئے کام کرتا رہے گا۔
اس سلسلے میں آپ جو قدم اٹھانے کا سوچ رہی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بالکل ہمارے مقصد جیسا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں دو روزناموں کا اجرا‘ دوہری کوششیں کرنے والی بات ہوگی۔
اگر ہماری یہ اطلاعات صحیح ہیں کہ آپ بھی کراچی سے ایک اُردو روزنامہ نکالنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں تو ہم آپ کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے مقابلے میں آپ کی کوششیں زیادہ کامیاب ہوں گی اور اسکے بہتر نتائج سامنے آئینگے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارے سمیت‘ اس پروگرام کی کامیابی کیلئے کوئی اور بہتر آدمی ہوگا۔ جس اخبار کو آپ کی نیک خواہشات اور سرپرستی حاصل ہوگی اس کی کامیابی یقینی ہے۔ان حقائق کی روشنی میں ہم اپنی کوششیں اور پروگرام سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔ ہمارے انتظامات مکمل ہیں اور انہیںآپکے سپرد کرنے میں ہمیں انتہائی خوشی اور فخر محسوس ہو گا۔ آپ انہیں اپنی مرضی سے استعمال کریں۔ اسکے علاوہ ہم اس سلسلہ میں ہر قسم کی مدد‘ تعاون اور کام کرنے کیلئے آپ کو ہر وقت دستیاب ہونگے۔
دوسری جانب اگر آپ سمجھتی ہیں کہ ہماری سرگرم صحافت یا آپکے ساتھ مشترکہ کوششوں سے بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں تو ازراہ کرم اس سلسلے میں ہمیں یاد کرنے میں رتی بھر ہچکچاہٹ نہ کریں یا اگر آپ ہمیں اپنی سرپرستی اور نیک خواہشات سے نوازتی ہیں تو ہم‘ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے لیے اس سے بڑی کوئی خوشی اور حوصلہ افزائی نہیںہوگی۔اگر اس سلسلے میں آپ کوئی بات چیت کرنا ضروری سمجھتی ہیں تو میں‘ کراچی آنے کیلئے تیار ہوں۔ دریں اثنا جب تک آپکی طرف سے کوئی جواب نہیں آتا‘ ہم اپنے کراچی ایڈیشن کی اشاعت مؤخر کررہے ہیں۔
نیک تمنائوں کے ساتھ
آپ کا مخلص … (حمید نظامی)
مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے حمید نظامی پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے الگ اخبار نکالنے کا ارادہ ترک کر دیا اور آخر دم تک نوائے وقت کی سرپرستی کرتی رہیں۔
مادر ملتؒکی حمایت
1964ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میںبنیادی جمہوریتوں کے 80ہزار ممبران کا انتخاب مکمل کراچکے تھے۔ پھر انہیں 80ہزار ممبران کو صدارتی انتخاب کیلئے انتخابی ادارہ بنا دیا گیا۔ اس طرح ایوبی آمریت نے پاکستان کے ہر عاقل اور بالغ شخص مرد اور عورت کو صدارتی انتخاب میں براہ راست ووٹ ڈالنے کیلئے نااہل قرار دے دیا۔ انتخاب سے قبل سب سے بڑی دھاندلی یہی تھی۔ 80 ہزار ممبران بنیادی جمہوریت کو قابو میں رکھناایوب خان اور اسکے حواریوں کیلئے آسان کام تھا۔ متحدہ اپوزیشن کے پاس اس وقت فیلڈ مارشل ایوب خان کے مقابلے میں لانے کیلئے کوئی بھی صدارتی امیدوار نہیں تھا۔ چنانچہ کونسل مسلم لیگ کے لیڈروں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو صدارتی امیدوار نامزد کیا۔ پھر دوسری جماعتوں عوامی لیگ‘ نظام اسلام پارٹی‘ جماعت اسلامی اور نیشنل عوامی پارٹی (ولی خان گروپ) نے بھی مادرِ ملتؒ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
مادر ملتؒ کا خطاب
محترمہ فاطمہ جناحؒ کو ’’مادرِ ملّتؒ‘‘ کا خطاب ’’نوائے وقت‘‘ نے ہی دیا تھا۔ مادرِ ملتؒ ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب کے میدان میں اتریں تو فوجی اقتدار کے قلعہ میں زلزلہ آگیا۔ مادرِ ملتؒ کے عام جلسوں میں حاضرین کی تعداد دن بدن بڑھتی گئی اور اخبارات حتیٰ کہ ٹرسٹ کے اخبارات بھی ان کی خبروں کو نمایاں طور پر شائع کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ایوب خان بوکھلا اٹھے چنانچہ انکے حکم پر وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے قومی اخبارات کو پریس ایڈوائس جاری کی گئی کہ ’’محترمہ فاطمہ جناحؒ کے نام کے ساتھ مادرِ ملتؒ‘‘ نہ لکھا جائے۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے سوا تمام اخبارات نے یہ پریس ایڈوائس تسلیم کرلی اور مادرِملتؒ کی تقریروں کو توڑ مروڑ کر شائع کرنا شروع کر دیا۔ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کو یہ فخر حاصل ہے کہ اسکے بانی مدیر جناب حمید نظامی پر بانیء پاکستان حضرت قائداعظمؒ بے حد اعتماد کرتے تھے اور انکی ہمشیرہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ ، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کو نہایت موقر‘ وقیع اور بااعتماد اخبار قرار دیتی تھیں۔ مادرِ ملتؒ نے دسمبر 1964ء میں ایک جلسہ میں روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا:’’ سرکاری اخبارات نے میری تقریریں غلط شائع کیں اور میں نے سوالات کے جو جوابات دئیے تھے انہیں غلط اور گمراہ کن عنوان لگا کر پیش کیا۔ اخباروں میں جو کچھ چھپتا ہے آپ اس پر اعتبار نہ کریں یہ ان کے خریدے ہوئے اخبار ہیں۔ یہ سب ٹرسٹ کے اخبار ہیں۔پاکستان میں اُردو کا اخبار صرف ’’نوائے وقت‘‘ ہے جو ہمت کرکے سچی بات کہتا ہے۔‘‘ (جاری)