سیاسی میچ

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
سیاسی میچ

دو ہزارہ تیرہ کے الیکشن میں عوام تبدیلی کی راہ تک رہے تھے اور ایسی عوامی مقبولیت شاید اب کبھی عمران خان کو نہ ملے جو انہیں اُس وقت حاصل ہوئی تھی، لیکن تب انہیں اپنی جماعت کے اندر سے ہی سیاسی جغادری پڑ گئے، کہیں ٹکٹوں کا کاروبار ہوا تو کہیں گروپ بندی اور نامناسب فیصلوں نے کسر نکال دی، تبدیلی کے نعرے پر کئی حلقوں میں فرسودہ نظام کے ٹھیکیدارنئے لبادے میں امیدوار بن کر دوبارہ نازل ہوئے تو ووٹرز کو مایوسی ہوئی۔الیکشن میں ان کی جماعت کو توقع سے کم کامیابی ملی لیکن کے پی کے میں تحریک انصاف کو حکومت سازی کا موقع دے دیا گیا۔ وزیراعلٰی کے انتخاب کا موقع آیا تو تبدیلی کا نعرہ اور نوجوان قیادت آگے لانے کا جنون غبارے سے ہوا کی طرح نکل گیا بعد میں کے پی کے کو مثالی صوبہ بنانے کی بجائے عمران خان مسلم لیگ نون کی حکومت پرچڑھ دوڑے۔
عمران خان کی بہت سی سیاسی ناکامیوں میں واحد کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ نون بُری طرح آگے لگا رکھا ہے، مینارِ پاکستان پر تحریک انصاف کے یادگار جلسے سے نواز لیگ کچھ ایسی احساس کمتری میں مبتلا ہوئی کہ اقتدارمیں آنے کے باوجود کپتان کے دبائو سے نہ نکل سکی۔الیکشن میں عوام نے ووٹوں کی بارش کرکے نون لیگ کی قیادت کے دل سے عمران خان کا ڈر نکالنے کے لئے پورا زور لگایا لیکن وہ اپنی اس کوشش میں ناکام رہے۔پچھلے چند ماہ سے عمران خان نے حکومت پر دبائو میں اضافہ کر دیا ہے، جس طرح عمران خان بغیر سوچے سمجھے حکومت کو دھمکائے چلے جارہے اسی طرح حکمران بھی اس بات کا جائزہ لئے بغیر دبائو قبول کرتے جارہے ہیں کہ عمران کے پاس ایسی کون سی طاقت ہے کہ وہ آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے انہیں چلتا کر دیں گے اور وہ بھی اس صورت میں جب پی ٹی آئی کے لئے عوامی حمایت کا عالم پہلے جیسا نہیں رہاکیونکہ کپتان جو گُل کھلا رہے ہیںوہ اب سب پر عیاں ہے،کپتان کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے تھا کہ ان کا ووٹ بینک باشعور ہے، اندھی وفاکا قائل نہیں ۔
 مصطفٰی رمدے کی بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ارسلان افتخار کی بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے تقرریوں پر اپوزیشن کے احتجاج پر حکومت کو یو ٹرن لینا پڑا۔حکمران نجم سیٹھی پر کچھ ایسے مہربان ہوئے کہ بار بار کرکٹ بورڈ کا سربراہ بنا کر ان کی فرمائش پوری کی ، ذکاء اشرف جہاں ریلیف لینے میں کامیاب ہوئے حکومت آڑے آگئی۔ حکومت کی اس محبت نے انتخابات میں نجم سیٹھی کے بطور نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے نون لیگ کی خاطر 35 حلقوں میں پنکچر لگانے کے سکینڈل میں بھی خوب رنگ بھرے۔چیئرمین نادرا ، چیئرمین پیمرا کو حکومت نے سزاوار قرار دے کر رخصت کر دیا، پی آئی اے، زرعی ترقیاتی بینک اور اسٹیل مل جیسے اہم اداروں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومت نے توانائی بحران مہنگی ترین بجلی سے حل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ کا شور مچانے والے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اب وہ بجلی بند ہونے پر سکھ کا سانس لینے لگے ہیں ۔
ماضی کے برعکس اس بار مسلم لیگ نون کی حکومت میں ٹیم ورک نظر نہیں آتا،ان کی سِمت ایک جانب نہیں، پارٹی کے اندر گروپ بندی ہے، صرف اقتدار کے مزے لوٹے جا رہے ہیں ،حکومت اور پارٹی کے لئے سوچنے کا وقت کسی کے پاس نہیں،حکومتی ٹیم نے جوابدہی کا بوجھ قیادت کے سرڈال دیا ہے، پارٹی کا یہ حال ہے کہ مرکز میں نواز شریف اور پنجاب میں شہباز شریف کی کی آواز میں آواز ملانے اورمشکل میں ساتھ کھڑے ہو کر مدلل انداز میں حکومت کا دفاع کرتا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔حکومت کے بعض اچھے کام بھی تنقید کے ریلے میں بہہ رہے ہیں وزراء کو اپنی اپنی پڑی ہے،حکومتی کارگردگی پر بات کرنے کی بجائے وزراء اپنی کہانیاں سنانے تک محدود ہیں، پارٹی کا میڈیا سیل ہے یا نہیں ہے لیکن لاپتہ ضرور ہے، محکمہ اطلاعات سمیت پورا سرکاری میڈیا پرویز رشید سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف چھوٹی چھوٹی باتوں کی وضاحتیں کرتے نظر آتے ہیں جو ان کے مناصب کے اعتبار سے مناسب نہیں۔قیادت ہمیشہ فارورڈ پوزیشن پر کھیلتی ہے اورحکومت کے دفاع کے لئے ایک اہل اور متحرک ٹیم کام کر رہی ہوتی ہے۔۔وہ کہاں ہے؟
پچھلے دور میں بدترین کارگردگی کے باوجود نواز شریف نے آصف زرداری کی مکمل حمایت کی اور جواب میںاب سسٹم بچانے کے نام پر پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون کی حکومت کی محافظ بنی بیٹھی ہے۔پیپلز پارٹی جب بھی نون لیگ کی حکومت کو مشکل میں دیکھتی ہے مدد کو پہنچ جاتی ہے، اب پیپلز پارٹی کو جمہوری قوتوں میں اتحاد واتفاق اور سول ملٹری تعلقات کی نئے سرے سے تشریح بھی یاد آگئی ہے،جسے اس نے اپنے دور اقتدار میں کبھی اہمیت نہیں دی۔ اس وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون میں فاصلے اس حد تک سمٹ چکے ہیںکہ عمران خان ایک گیند پر ان دونوں کی وکٹیں گرانے کا دیرینہ دعویٰ سچ ثابت کر سکتے ہیں، لیکن اب تک ان کے 14 اگست کے ایڈونچر کو پذیرائی نہیں مل پا رہی ، عوام مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں ، ان حالات میں ان کے کان صرف ریلیف کی بات سننے کو ترس رہے ہیں ، ایسے میں عمران خان اور نواز شریف کے مابین ٹکر سے کوئی نتیجہ تو نہیں نکل سکتا البتہ دونوں بے ہوش ضرور ہو سکتے ہیں۔