وہ بھی پاکستان ہی کے بیٹے تھے

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
وہ بھی پاکستان ہی کے بیٹے تھے


سابقہ مشرقی پاکستان کے موضوع پر مزید لکھنے کا میرا کوئی ارادہ نہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ بنگلہ دیش کے معافی مانگنے والے ناجائز مطالبے کے بعد ہماری حکومت سرکاری سطح پر شاید کوئی بیان دے لیکن وہاں مکمل خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ ملا۔ البتہ اس موقعہ پر جب 16دسمبر 2012کوبھارتی اور بنگلہ دیشی پاکستان کی شکست کی یاد میں خوشیاں منا رہے تھے توہمارے ہر دلعزیز وزیرداخلہ صاحب سرکاری دورے پر بھارت تشریف لے گئے جویقینا ان کی خوشیوں میں اضافے کا باعث بنا ہوگا۔ یہ تو خیرتھا حکومتی رویہ جسے عوام سے شاید ہی کوئی سروکار ہوتا ہو لیکن مجھے غیر ممالک میں رہنے والے اپنے ہموطنوں کی طرف سے چند مضامین موصول ہوئے ہیں جو ان کے خیال میں اپنی نئی نسل تک پہنچائے جانے چاہئیں۔ یہ کالم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ دراصل پاکستان کی عزت۔ وقار اور محبت کا جتنا شدید احساس پاکستان سے باہر رہ کر ہوتا ہے اتنا شاید پاکستان میں رہ کر نہیں ہوتا۔ ویسے بھی دیار غیر میں رہنے والے پاکستانیوں کو بنگالیوں سے اکثر واسطہ پڑتا رہتاہے اور انہیں بنگالیوں کی نفرت کاہم سے بہتر اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ اور اخبارات کی کچھ خبریں بھی ہیں جنکا جواب دینا قومی فریضہ بنتا ہے۔پہلی خبر تو یہ ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے 1971 کے جنگی جرائم کی تفتیش کےلئے مارچ 2010میں ایک ٹریبونل قائم کیا تھا جس میں جماعت اسلامی کے پروفیسر غلام اعظم۔ دلاور حسین سعیدی اور مطیع الرحمن نظامی جیسے معزز راہنماﺅں کو مجرم قرار دیکر انکے خلاف قتل و غارت۔ ریپ اورر لوٹ مار جیسے الزامات لگائے گئے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ کچھ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے لوگ بھی شامل کئے گئے۔ اب خبر یہ ہے کہ بنگلہ دیش حکومت نے انہیں پھانسی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جسکا اعلان کسی بھی وقت ٹریبونل کے ذریعے کرایا جا سکتا ہے۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو متحدہ پاکستان کے حامی تھے اور بنگلہ دیش حکومت ہر وہ سوچ اور ہروہ یادگار جسکا تعلق متحدہ پاکستان سے تھا ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس میں مزید پریشانی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بھارت میں جنگی قیدیوں میں سے کچھ قیدی اس وقت بھارت نے واپس نہیں کئے تھے انہیں Missingقرار دیا گیا تھا۔ یہ شاید وہ لوگ تھے جن کے ذریعے بھارت پاکستان کو بلیک میل کرنا چاہتا تھا۔ اب سنا یہ ہے کہ بنگلہ دیش انہیں بھی جنگی جرائم کے ٹرائل کے لئے بھارت سے مانگ رہا ہے۔ ان دونوں باتوں سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ بنگلہ دیش مستقبل میں پاکستان کے ساتھ کیسے تعلقات رکھنا چاہتا ہے ۔
دوسری خبر یہ ہے کہ ہمارے کچھ پاکستانیوں نے ڈھاکہ کی شاہراﺅں پر 1971 میں پاکستان فوج کے مظالم کے خلاف بنگلہ دیشیوں سے معافی کے بینزز لگائے رکھے ۔یہ شاید واقعہ تو کچھ پرانا ہے لیکن بنگلہ دیش کی ویب سائٹ پر موجود ہے (www.truthbykbaig.com) پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔جنگی تصاویر بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ اس سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ کچھ ہمارے لوگ بھی اپنی فوج کو مجرم قرار دیتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں۔ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ایسا کرنے کے پس پردہ ان کے کیا مقاصد ہیںایک سنجیدہ مسئلہ ہے جسکا کوئی حکومتی سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔ تیسری اہم خبر یہ ہے کہ بنگلہ دیش حکومت نے ہر سال کی طرح اس سال بھی 15دسمبر کو ڈھاکہ میںجشن آزادی کے طور پر ایک بہت بڑی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ان لوگوںکو خصوصی ایوارڈز دئیے گئے جنہوں نے 1971 کی جنگ میں بنگلہ دیش کے قیام یا بعد میں اس کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آنجہانی اندرا گاندھی اور اس وقت کے سرکردہ پاکستان مخالفین کو پہلے ہی نوازا جا چکا ہے۔ موجودہ لسٹ میں کچھ یورپی اور امریکی نمائندوںکے علاوہ سب سے زیادہ بھارتی تھے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں کچھ پاکستانی بھی شامل ہیں۔ گو ان ”محب وطن“ پاکستانیوں کے نام تو تاحال سامنے نہیں آئے لیکن اس سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے وقت جہاں ہمارے فوجی ملکی سلامتی کےلئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے وہیں کچھ ”مخلص “پاکستانی ان فوجیوں کا خون بہانے میں دشمن کی مدد کر رہے تھے۔ ” حب الوطنی“ کا ایک یہ بھی انداز ہے ۔بقول شاعر: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات جو میں اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ16دسمبر2012کومجھے ایک غیر ملکی ٹی وی چینل پر بنگلہ دیش کی آزادی پر ایک خصوصی پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ پروگرام شاید کسی تعلیمی ادارے میں ہو رہا تھا کہ شرکاءزیادہ تر طلباءتھے۔اس میں بنگلہ دیشی۔ بھارتی۔ پاکستانی۔ سری لنکن اور کچھ برطانوی طلبا بھی شامل تھے۔ بھارتی اور بنگلہ دیشی طلباءبڑھ چڑھ کر پاکستانی طلباءپر الزامات کے حملے کر رہے تھے جبکہ پاکستانی طلباءگھبراہٹ کا شکار نظر آئے۔ یہ لوگ بنگلہ دیشیوں اور بھارتیوں کے حملوں کا مکمل اور مدلل جواب نہیں دے پا رہے تھے جو واقعی افسوسناک تھا۔ یہ سب ہماری کمزوری ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو صحیح حالات سے آگاہ ہی نہیں کیا۔ ہم خود تو بھارتی پروپیگنڈا کے کرتوتوں کاشکار ہوئے اور اب یہی کچھ ہماری نئی نسل کے ساتھ بھی ہو رہا ہے جسکی حفاظت ضروری ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش نے اپنی نئی نسل کے لئے ڈھاکہ میں ایک شاندار جنگ آزادی کا میوزیم قائم کیا۔ ہزاروں کے حساب سے کتب لکھیں جن میں پاکستان فوج کے فرضی مظالم اور نوجوان بنگالیوں کے تخیلاتی بہادری کے کارنامے شامل کیے۔ بھارتی فوج۔ بھارتی ائیر فورس اور مکتی باہنی کی طرف سے کی گئی قتل و غارت سمیت 1970 کے سمندری طوفان کی اموات اور تباہی کے فوٹوگراف اس میوزیم کی زینت بنے۔ اس سب تباہی کے الزامات پاکستان فوج کے ذمہ لگائے گئے ۔ مزید یہ کہ ایسے واقعات بنگلہ دیش کے تعلیمی نظام میں شامل کئے گئے۔ اب تو باقاعدہ یونیورسٹی میں یہ مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ شنید یہ ہے کہ اس میں طلباءکو ڈاکٹریٹ کرنے کی سہولت بھی حاصل ہے۔ اس طرح نوجوان بنگالی اس جنگ میں اپنے بزرگوں کے شاندار کارناموں پر فخر کرتے ہیں اور پاکستان سے نفرت کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ اس امرسے لگایا جا سکتا ہے کہ 1971 کی جنگ میں فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن نے پاکستان ائیر فورس کا طیارہ اغواہ کرنے کی کوشش کی تھی جسے ہمارے نوجوان زیر تربیت فلائیٹ کیڈٹ راشد منہاس نے ناکام بنا دیاتھا۔ نتیجتاً جہاز کریش ہوا۔ مطیع الرحمن اور راشد منہاس دونوں موقعہ پر ہلاک ہوگئے ۔ راشد منہاس نے اپنے ملک پر قربانی دی اور مطیع الرحمن نے اپنے تصوراتی آزاد ملک پر قربانی دی۔ اس وقت تک وہ پاکستان کا شہری تھا اور اسکا یہ فعل غداری کے زمرے میں آتا تھا۔ اس شخص کو کراچی میں دفن کیا گیا۔ 2006میں بنگلہ دیشی حکومت اسکا تابوت یہاں سے بنگلہ دیش لے گئی اور بطور ایک قومی ہیرو کے اسکی وہاں تدفین کی۔ سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز سے نوازا۔راجشاہی ائیربیس اسکے نام سے منسوب کیا۔ میری نظر میں زندہ قوموں کا یہی طرز عمل ہونا چاہیے لیکن اپنی کارکردگی پر نظر ڈالیں۔ ہمارے وہاں تقریباً5ہزار آفیسرز اور جوان شہید ہوئے جن کے نہ تو جسم خاکی یہاں لائے جا سکے نہ ہی انکے لئے کوئی یادگار قائم ہوئی اور نہ ہی ان کی یاد میں کوئی دن منایا جاتا ہے۔ یہ ہے قوم کی طرف سے اعزاز اپنے شہداءکے لئے۔حالانکہ ہمارے آفیسرز اور جوان بہت بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت سے لڑے حتیٰ کہ کچھ سیکٹرز کی جنگوں کی بھارتیوں نے بھی تعریف کی ۔ بھارتی اور بنگلہ دیشی سٹاف کالج میں ان جنگوں کو بطور ماڈل پیش کیا گیا۔بھارتی جنگ کے منصوبہ ساز جنرل جیکب نے لکھا تھا: ”پاکستانی ایک ایک انچ زمین کے لئے لڑے“ اس سے زیادہ بھلا کیا ہو سکتا تھا؟ لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے نہ تو اس سے کوئی فائدہ اٹھایا اور نہ ہم نے یہ شاندار کارکردگی اپنی نئی نسل تک منتقل کی جو میری نظر میں مجرمانہ غفلت کے سوا کچھ نہیں۔ آخر ہم یہ جنگ اور بھارتی جارحیت کیوں اپنے نصاب میں شامل نہیں کرتے۔ اپنے شہداءکی کیوں یادگاریں تعمیر نہیں کی جاتیں۔ وہ اس پاک وطن کے بیٹے تھے۔ وطن کی سلامتی پر قربان ہوئے ۔ان کی یاد میں ایک دن مخصوص ہونا چاہیے ۔ ہم امریکہ میں مرنے والے مزدوروں کے لئے تو یکم مئی منا لیتے ہیں لیکن اپنے شہدا کے لئے نہیں۔یاد رہے کہ جس قوم کو اپنے ماضی پر فخر نہ ہو وہ اپنا مستقبل بھی قابل فخر نہیں بنا سکتی۔