سلگتا بلوچستان ابلتا پاکستان........(۱)

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
سلگتا بلوچستان ابلتا پاکستان........(۱)


بلوچستان ایک عرصہ سے میرا محبوب مضمون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں پاکستان میں جیسے بھی سیاسی حالات ہوں بلوچستان کی جانب توجہ دلاتا رہتا ہوں۔ بلوچ قیادت سے طویل نشستوں کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا میڈیا بتانا ہے۔ وہاں تہہ در تہہ مسائل جمع ہو کر ایک بڑے سانحہ کی طرف بڑھ رہے ہیں پاکستانی قیادت برملا اس بات کا اظہار کرچکی ہے کہ بلوچستان میں غیر ملکی قوتیں ملوث ہیں اور وہاں پر بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں یہ ثبوت ان کیمرہ اجلاسوں میں ملک کی موجود سیاسی قیادت کو پیش بھی کئے جا چکے ہیں۔ اور اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو آگاہ کر چکے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے۔ تمام قیادت منہ میں گھونگے ڈال کر بیٹھی ہے۔ چلیں موجودہ حکمرانوں کی تو سمجھ آتا ہے کہ انہیں اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں اور ان کے لئے بھارت امریکہ کی خوشنودی سب سے اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ پاکستان میں جو مرضی پوائنٹ سکورنگ کریں لیکن بھارت اور امریکہ کے سامنے لب کشائی کی ہمت نہیں کر سکتے لیکن دیگر جماعتوں اور ان کے قائدین کو کیا مصلحت درپیش ہے میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کوئی آج کی بات نہیں‘ ماضی میں بھٹو صاحب بھی وہاں کی صوبائی حکومت کو صرف اس وجہ سے ختم کر بیٹھے تھے کہ ایران کو وہ حکومت پسند نہیں تھی۔ آج بلوچستان میں افغان باڈرز اور اندرون ملک سے بھارتی روپیہ امریکی ڈالر اور برطانوی پا¶نڈ یہاں تک کہ اسرائیل کی کرنسی بھی پانی کی طرح بہائی جا رہی ہے یہ سمجھ لیں کہ وہاں پر تمام پاکستان مخالف قوتیں بلوچستان کو علیحدہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جیساکہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ بلوچستان تہہ در تہہ مسائل کی چکی میں پس رہا ہے غیر ملکی قوتوں اور انکے آلہ کار ایجنٹوں کی ریشہ دوانیوں کے ساتھ وہاں یہ قبائل کی آپس میں چپقلش بھی پوری آب و تاب سے موجود ہے قبائلیوں کے جھگڑوں میں بھی روزانہ متعدد افراد مارے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ قبائلیوں کا آپس کا تصادم روکنا بظاہر ممکن نہیں ہے یہ قبائل اپنے تعصب میں اس قدر مضبوط ہیں کہ وہ مذہب‘ عقائد اور قومیت سے بالاتر ہو کر صرف اپنے قبیلے کی سوچتے ہیں ۔ اسی طرح بلوچستان کے نوابوں کے درمیان جاری کھینچا تانی بھی بلوچستان کے مسائل میں روز بروز اضافہ کر رہی ہے بلوچستان روایتی نوابوں کے ساتھ سرکاری سطح پر بنائے گئے نوابوں میں بیلنس آف پاور نہ ہونے کے سبب بلوچستان کا ماحول مزید خوفناک صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ان نوابوں میں اختیارات وسائل پر قبضہ اور چودھراہٹ کی جنگ بھی بلوچستان کے ماحول کو آلودہ کر رہی ہے۔ میڈیا میں بلوچستان کے حوالے سے ہلاکتوں کی رپورٹس میں تمام کے ذمہ دار ضروری نہیں کہ صرف دہشت گرد ہی ہیں جیساکہ میں نے پہلے عرض کی ہے کہ نوابوں اور قبائل کے درمیان جاری تصادم بھی ہلاکتوں میں اضافے کا سبب ہیں۔ بلوچستان میں نوابوں کے درمیان جاری اس جنگ کے حوالے سے میں ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہو جس سے آپ کو ان نوابوں کی بلوچستان سے محبت وہاں کی عوام سے محبت کی جھلک نظر آجائے گی نواب اکبر بگٹی مرحوم بلوچستان کے ان زعما میں شامل رہے ہیں جنہوں نے پاکستانی ریاست کے اہم کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دیں وہ بلوچستان کے گورنر رہے وزیراعلیٰ رہے وزیر مملکت برائے دفاع رہے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں انتہائی فعال کردار ادا کیا۔ بلوچ عوام انہیں شہید سمجھتے ہیں تو ہم بھی انہیں شہید سے کم نہیں سمجھتے اور سمجھتے ہیں کہ انکی شہادت نے بلوچستان اور مرکز میں ایک ایسی دراڑ پیدا کی جو سردست ختم کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔
جنرل مشرف کے گناہوں میں یہ گناہ کسی طرح بھی ناقابل معافی ہے اکبر بگٹی مرحوم سوئی گیس کے حوالے سے وفاق سے 35 کروڑ روپے وصول کرتے تھے اسکے ساتھ وہ سوئی کے مقام سے نکلنے والے سو ٹرک کے بھی مالک تھے وہ بلوچستان کے طاقتور ترین نواب تھے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو گیس کی رائلٹی بھی وصول کرتا تھا اور وسائل میں حصہ بھی پاتا تھا وہ بلوچستان کے ایک عام آدمی کے لئے کچھ کیوں نہ کر سکا۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار اور زندگی میں اپنے علاقے میں ایک سکول نہیں بننے دیا ۔