امریکہ تیرا شکریہ!

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
امریکہ تیرا شکریہ!

امریکہ کیلئے اتنی قربانیاں دینے اور انکی جنگ لڑنے کے باوجود جب صدر ٹرمپ نے پاکستان کو ’’ڈومور‘‘ کی دھمکی دی۔بھارت کی تعریف کی اور اسے افغانستان میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کی آفر کی تو میرے دوست ملک صاحب کا فوری رد عمل بڑا شدید تھا۔ ملک صاحب نے غصے سے کہا :’’یہ تو ہونا ہی تھا ۔یہ سراسر ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے‘‘۔ ملک صاحب نے تھوڑی دیر بعد اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے فرمایا : ’’جس ملک کا چار سال تک کوئی وزیر خارجہ ہی نہ ہو ۔کوئی خارجہ پالیسی بھی نہ ہو۔ کہیں ہماری لابنگ نہ ہو۔ اپنی قربانیوں اور بھارت کی طرف سے اپنے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کو ہم بین الاقوامی فورمز پر پروجیکٹ ہی نہ کر سکیں کیونکہ ہمارا کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا تو ہمارے ساتھ یہی کچھ ہونا تھا جو کچھ ہو رہا ہے ۔ ہم سے امریکہ خوش ہے نہ ہمارے پڑوسی اور نہ ہمارے دوست ممالک‘‘۔ملک صاحب کی باتوں میں بہت وزن تھا ۔ہر وقت شاندار ملکی ترقی کے نغمے گانے والی ہماری حکومت کی بین الاقوامی کارکردگی کا لب لباب یہی ہے جو کچھ سامنے آگیا ہے۔ہمارے سابق وزیر اعظم صاحب نے سو سے زائد بیرونی ممالک کے دورے کئے۔ دل بھر کر سیر و تفریح کی۔ قومی سرمایہ بھی دل کھول کر خرچ کیا۔اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور صحافیوں کی بھی بڑی بڑی ٹیمیں ساتھ لے کر گئے لیکن حاصل کیا کیا؟ ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ آجکل دنیا میں کوئی ملک تنہا نہیں رہ سکتا۔ دنیا ایک گلوبل گائوں بن چکی ہے۔ ملکی سلامتی ،ملکی امن اور ملکی ترقی کا دارومدار بین الاقوامی تعلقات پر منحصر ہے جس کیلئے ایک خصوصی پالیسی اور بہت ہی منجھی ہوئی متحرک اور فعال ٹیم کی ضرورت ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے ہماری سابق حکومت نہ بنا سکی تو آج ہم ناکامیوں کا گلہ کس کو دیں؟بطور سابق وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی خان:’’ہم اپنی ناکامیوں کے خود ذمہ دار ہیں‘‘۔ بہر حال بھارت اور افغانستان امریکی دھمکی پر بہت خوش ہیں کیونکہ انکے دل کی مراد پوری ہوئی ہے۔
معزز قارئین! امریکہ اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔عسکری طور پر اور سیاسی طور پر بہت ترقی یافتہ ملک ہے اس لئے ہر ملک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر سے بہتر بنانا چاہتا ہے ۔کوئی ملک امریکہ کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتا۔جن ممالک نے بھی امریکہ کے سامنے کسی قسم کی سر کشی دکھانے کی کوشش کی انکا حشر آج ہمارے سامنے ہے۔ویسے بھی ہمیں خوامخواہ امریکہ کی ناراضگی مول لینے کی کیا ضرورت ہے؟اب بھارت ہی کی مثال لے لیں ہمارے مقابلے میں اس نے ایک بہت ہی مئوثر ملکی مفادات کے تابع ،متحرک اور فعال خارجہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔ان کے وزیر خارجہ اور سفراء حضرات کی ٹیم بہت تجربہ کار،شاطر اور اہل حضرات پر مشتمل ہے اس لئے انہوں نے تمام ممالک کیساتھ اپنے تعلقات بہت بہتر انداز میں جوڑ رکھے ہیں۔ روس اسے دوست سمجھتا ہے اور امریکہ کیلئے فطری اتحادی ،سٹریٹجک پارٹنر اور معاشی معاون ہے یہاں تک کہ ہمارے دوست ممالک بھی ہم سے زیادہ بھارت کی طرف جھکائو رکھتے ہیں۔ہمارے پڑوسی تو زبان بھی بھارت کی بولتے ہیں اور یہ سب کچھ مئوثر خارجہ پالیسی، فعال وزیر خارجہ اور تجربہ کار بین الاقوامی تعلقات کی ٹیم کی مشترکہ کو ششوں کا نتیجہ ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی بہتری کیلئے مختلف ممالک میں کام کرنیوالے بھارتی شہری اور وہاں پڑھنے والے بھارتی طلباء بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ بھارتی حکومت انہیں باقاعدہ گائیڈلائنز دیتی ہے۔ جبکہ ہماری طرف سے کوئی ایسی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔ اب ایک دفعہ پھر امریکہ کی مثال لیں۔ امریکی صدارتی الیکشن کے موقعہ پر امریکہ میں پڑھنے والے بھارتی طلباء اور امریکہ میں کام کرنیوالے بھارتی شہریوں کو بھارتی وزارت خارجہ نے متحد کرکے ٹرمپ کوسپورٹ کرنے کی گائیڈلائن دی۔ لہٰذا بھارتی امریکیوں نے دل کھول کر ٹرمپ کی مدد کی۔ مختلف مقامات پر ٹرمپ کیلئے جلسے کیے۔ ٹرمپ کو بطور مہمان خصوصی مدعو کی جاتا۔ ان جلسوں میں مسلمانوں اور خصوصاً پاکستان کو انسانیت کے دشمن دہشتگرد ثابت کیا جاتا رہا۔ بھارتی شہریوں سے ٹرمپ اسقدر متاثر ہوا کہ اس نے اپنی ایک تقریر میں کہا: ’’مجھے ہندو بہت پسند ہیں۔ بھارتی وزیراعظم ایک عظیم لیڈر ہے۔ مجھے اسکے ساتھ کام کرکے بہت خوشی ہوگی۔ میری صدارت میں بھارت کو وائٹ ہائوس میں ایک گہرا دوست ملے گا‘‘ ۔یاد رہے کہ امریکہ میں اسوقت 30لاکھ بھارتی شہری موجود ہیں۔
بھارتی امریکیوں کے تعاون کے علاوہ بھارت میں بھی ٹرمپ کی کامیابی کیلئے دعائیہ اجتماعات منعقد کئے گئے۔ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد بھارتیوں نے خصوصی طور پر نئے صدر اور نئی حکومت سے رابطہ بڑھایا۔ پھر مودی صاحب امریکہ یاترا پر بھی گئے اور امریکی صدر کو پاکستان کے خلاف خوب ورغلایا۔ جنوبی ایشیا، کشمیر میں بغاوت اور افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا جبکہ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد پاکستان کی طرف سے کوئی موثر رابطہ نہ کیا گیا۔ فاطمی صاحب کو بھیجا گیا لیکن انکا سفارتی عہدہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ کسی ذمہ دار آفیسر سے مل سکتا۔ ہماری حکومت اور خصوصاً وزیراعظم کی طرف سے مزید کسی رابطے کی اطلاع نہیں ہے۔ ان حالات کے پس منظر میں پھر بھلا ٹرمپ سے کس بھلائی کی امید کی جاسکتی ہے۔ سعودی عرب میں ہونیوالی مسلم سربراہوں کی کانفرنس میں ٹرمپ نے بھارت اور افغانستان کی تعریف کی لیکن پاکستان کا نام تک نہ لیا۔ اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم صاحب بنفس نفیس موجود تھے۔ انکے منہ سے اپنے دفاع کیلئے ایک لفظ تک نہ نکلا پھر آج گلہ کس بات کا ہے؟ اس پس منظر میں امریکہ سے پاکستان کیلئے کسی بہتری کی امید رکھنا بھی بچگانہ سوچ ہوگی۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات1948یعنی پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے وقت سے قائم ہیں۔ ان تعلقات میں وقت کیساتھ ساتھ اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں۔ دونوں طرف سے غصہ بھی کیا جاتا ہے لیکن تعلقات قائم رہتے ہیں۔ جب سے امریکہ افغانستان کی جنگ میں انوالو ہوا ہے وہ اپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا رہا ہے۔ وقتاً فوقتاً دھمکیاں بھی دیتا رہا ہے۔ امداد پر بھی شرائط اور پابندیاں لگاتا رہا ہے لیکن اسدفعہ حد سے زیادہ ہی آگے نکل گیا ہے۔ اس دفعہ پاکستان کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سب سے پہلا رد عمل پاکستانی عوام کی طرف سے سامنے آیا۔ 1965 کی جنگ کی طرح عوام ایک متحد قوم کی طرح اٹھ کھڑی ہوئی اور امریکی دھمکی کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔ کشمیر سے لیکر گوادر اور تورخم سے کراچی تک ہر جگہ مظاہرے ہوئے۔ریلیاں نکالی گئیں۔ صدر ٹرمپ کے پتلے اور امریکی جھنڈے جلائے گئے جو کہ امریکہ سے سخت نفرت کا اظہار تھا۔یہ قومی اتحاد کا ایک بے مثال مظاہرہ تھا۔وزیر خارجہ جناب خواجہ آصف صاحب امریکہ دورے پر جانیوالے تھے۔ عوامی ردعمل دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ دورہ ملتوی کردیا اور امریکہ کی بجائے چین، روس ،ترکی اور ایران جانے کا منصوبہ بنایا تاکہ دوستوں سے مشورہ کیا جا سکے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز پاکستان کی ناراضگی دور کرنے یا محض وعدوں کا’’لولی پاپ‘‘ دینے پاکستان آرہی تھیں۔حکومت نے عوامی رد عمل کے تناظر میں انکی میزبانی سے بھی انکار کر دیا۔ ہمارے دوست چین اور روس نے حق دوستی ادا کرتے ہوئے پاکستان کے حق میں بیانات دئیے جن سے ہمارے حکمرانوں کو سہارا ملا اور انکی کپکپی کسی حد تک کم ہوئی۔ عوام کی دیکھا دیکھی تمام سیاسی راہنما وٗں نے بھی امریکی بیان کیخلاف عوامی جذبات کی خوب ترجمانی کی۔ یہ واقعی ایک معجزہ تھا کیونکہ ہمارے سیاسی راہنمائوںکی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ذاتی مفادات کے علاوہ کسی بھی نقطہ پر متحد نہیں ہوتے مثلاً تنخواہیں یا مراعات بڑھانے کا معاملہ ہو تو سب ایک ہوجاتے ہیں۔ آگے پیچھے نہیں لیکن اس دفعہ سب نے امریکی دھمکی کیخلاف بیان دیا سوائے جناب نواز شریف کے جو بقول اپنی ذات کے ’’عوام کا مقدمہ لڑ رہا ہے‘‘بھارت کے متعلق انہو ں نے پہلے بھی کبھی کوئی لفظ نہیں بولا۔
اس دفعہ عوام کا اتنا پریشر آیا ہے کہ حکومت بھی اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ حکومت نے خطے کی اہم طاقتوں کے ساتھ روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے امریکہ پر ہمارا انحصار کافی کم ہو جائیگا۔ عوام کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حکومت نے جو امریکہ کو ہمارے بری ، بحری اور فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے وہ ختم کی جائے۔ حکومت نے نئی پالیسی ترتیب دینے کیلئے اس ہفتے تمام سفراء کی کانفرنس بھی بلا ئی ہے۔ مزید خوشخبری یہ ہے کہ حکومت نے متفقہ طور پر امریکی بیان مسترد کر دیا ہے۔ خارجہ امور پر بین الوزارتی ٹاسک فورس بھی قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارے آرمی چیف نے بھی امریکی سفیر کو کھلے انداز سے بتایا کہ پاکستان کو ’’ہتھیار یا ڈالر نہیں بلکہ امریکی اعتماد کی ضرورت ہے‘‘ اس قومی رد عمل کے تناظر میں امریکی افسران پاکستان کے حق میں چکنے چپڑے بیانات دیکر پاکستان کو رام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی صاحب جو پاکستان کیخلاف بیانات دینا اپنا فرض سمجھتے تھے انہوں نے بھی عید الاضحی کے موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے ’’پاکستان کیساتھ امن ہمارا قومی ایجنڈا ہے۔ جامع سیاسی مذاکرات کیلئے تیار ہیں‘‘۔ اگر قوم متحد ہو تو حالات تبدیل ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ امریکی دھمکی نے ہمیں خواب غفلت سے جگادیا ہے۔ یہ قومی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ امریکی دھمکی نے قوم کو متحد کر دیا ہے۔ اسوقت حکومت ،اپوزیشن، فوج اور سول سوسائٹی سب ہی قومی سلامتی اور قومی خودداری کیلئے ایک ہی پیج پر ہیں۔ لہٰذا امریکہ تیرا شکریہ کہ تو نے ہمیں جگا کر ایک قوم بنادیا ہے۔