نسل کشی … برما تا کشمیر!

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
نسل کشی … برما تا کشمیر!

یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ چند روز بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے ۔ اس مجوزہ اجلاس کا تھیم :
: Focusing on people
Striving for Peace and a Decent Life for All on a Sustainable Planet .
ہے ۔ غیر جانبدار حلقوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کے خوش کن اور خوشنما عنوانات کے تحت کسی بھی شے کا انعقاد یقینا ایسی بات ہے جو سننے والوں کے کانوں کو بڑی بھلی محسوس ہوتی ہے ۔ ایسے میں یو این جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے بھی اگر کسی نے توقعات باندھی ہوئی ہیں تو شاید کوئی حرج کی بات نہیں مگر یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہے تو بے جا نہ ہو گا کہ حالیہ دنوں میں میانمارمیں رہنے والے بے کس روہنگیا مسلمانوں کی جس انداز سے نسل کشی جاری ہے ، اسے دیکھتے ہوئے شاید یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔
معنی نہیں منیر کسی کام میں یہاں
طاعت کریں تو کیاہے ، بغاوت کریں تو کیا
اسی پس منظر میں پاکستان کی جانب سے میانمار میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی نسل کشی اور ملک سے ان کی جبری بے دخلی کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ کشمیری ، فلسطینی اور روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے لئے کھلا چیلنج ہے اور اگر اس وقت اصلاحِ احوال کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو عالمی امن جس طرح تہہ و بالا ہو گا ، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
میانمار میں مظالم کا عالم یہ ہے کہ خواتین اور بچوں سمیت روزانہ بیسوں افراد کو قتل کیا جا رہا ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نسل کشی کا یہ مکروہ کھیل امن کی نوبل انعام یافتہ حکمران ’’آنگ سان سوچی‘‘ کی نگرانی میں جاری ہے جو خود کو مودی کی طرح بڑی جمہوریت پسند کہلوانا پسند کرتی ہیں ۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے اپنی قابلِ مذمت روش کو جاری رکھتے ہوئے جس مانند کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے وہ بھی کوئی راز کی بات نہیں ۔ علاوہ ازیں یومِ دفاع پاکستان کے موقع پر آرمی چیف نے کہا ہے کہ بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر موجود لاکھوں نوجوانوں کی پرامن جدوجہد پاکستان یا آزاد کشمیر سے دراندازی کی محتاج نہیں بلکہ یہ امر خود بھارت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ اس مسئلے کے دیرپا حل کے لیے پاکستان کے خلاف گالی اور کشمیریوں کے خلاف گولی کے بجائے سیاسی و سفارتی عمل کو ترجیح د ے۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ دہلی کے حکمران ٹولے نے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا جو بھیانک سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کے منطقی نتائج خود ہندوستان کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ایسے میں اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پوری عالمی برادری سے یہ توقع رکھنی بے جا نہ ہو گی کہ وہ اپنے دعوؤں اور وعدوں کے پیشِ نظر نہ صرف میانمار بلکہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسئلوں کے حل کی جانب قابلِ ذکر پیش رفت کریں گے تا کہ جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا کو کسی بھی ممکنہ نا خوشگوار صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے ۔