گیلی پولی کی یادیں

کالم نگار  |  معین باری ....فیصل آباد
گیلی پولی کی یادیں

کرنل لہراسب خان میرے دوست اور کورس میٹ تھے۔ انتہائی پُراعتماد اور ذہین افسر تھے۔ انفنٹری سکول کوئٹہ میں ہم نے کورس کیا۔ ہم ایک ہی کمرہ میں رہتے تھے۔ وہ صبح فجر کے وقت مجھے جگاتے اور پڑھائی میں مشغول کر دیتے۔ پھر جی ایچ کیو پنڈی میں ہم ملے جہاں وہ ایم ایس برانچ میں تعینات تھے۔کرنل لہراسب کبھی کبھی ایک بات بڑے فخر سے کہتے کہ ’’میرے والد لارڈ مائونٹ بیٹن کے ذاتی محافظ رہے اور میرے دادا جو سواررسالے میں صوبیدار تھے انہوں نے گیلی پولی کی لڑائی میں حصہ لیا۔ انہوں نے کئی بار انگریز فوج کے ساتھ ترکوں پر حملے کئے اور ہمیشہ بچ نکلتے رہے۔‘‘ اس ناطے کرنل لہراسب نے گیلی پولی کی جنگ اور مصطفی کمال بارے بڑی تحقیق کی تھی۔
پچھلے دنوں گیلی پولی کی جنگ جس کا آغاز 25 اپریل 1915ء کو ہوا تھا‘ اس کی 10 سالہ تقریب لندن میں منائی گئی۔ ترکوں نے بھی تقریب کا اہتمام کیا اور شہداء کی قبروں پر پھول رکھے۔ لندن کی تقریب میں وزیراعظم پاکستان اپنے ساتھیوں سمیت شامل ہوئے‘ لیکن ترکی نہ جا سکے۔ بعض دانشوروں نے سوال کیا کہ وہ پھول وزیراعظم پاکستان نے اٹھا رکھے تھے۔ کیا وہ ترک فوجیوں کیلئے تھے جو اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے یا یورپی فوجیوں کیلئے تھے جو ترکی پر حملہ آور ہوئے اور مارے گئے۔
اخباروں میں ANZAC آپریشن اور گیلی پولی صد سالہ تقریبات کا پڑھ کر کرنل لہراسب یاد آئے۔ کرنل لہراسب صاحب کبھی کبھار جوش میں آکر کہتے کہ اسکے بابا کس طرح گھوڑے پر سوار انگریز افسر کی کمان میں تلوار لگائے‘ نیزہ سنبھالے للکارتے ہوئے ترک مورچوں پر حملہ آور ہوتے۔ میرے بابا نے اگلی صفوں میں ترک جرنیلوں کو فوجیوں کے ساتھ مل کر لڑتے دیکھا۔ کہنے لگے ایک دفعہ مصطفی کمال نے حملہ کے وقت جس کی قیادت وہ خود کر رہے تھے‘ پیغام دیا ’’ہم لڑنے نہیں‘ مرنے جا رہے ہیں۔‘‘ یہ لڑائی سنگینوں سے لڑی گئی اور دونوں اطراف ہزاروں مارے گئے۔‘‘
اب میں گیلی پولی کی لڑائی مختصراً بیان کرتا ہوں کہ قارئین کو دنیائے اسلام کی فیصلہ کن جنگوں میں ایک جنگ کا اندازہ ہو سکے۔ قسطنطنیہ پر قبضہ اور ترکی کو فتح کرنے کا منصوبہ سر ونسٹن چرچل نے بنایا تھا جو اس وقت نیوی کا فسٹ سی لارڈ تھا۔ برٹش پارلیمنٹ نے اس منصوبہ کی اجازت دیدی۔ پلان یہ تھا کہ رائل نیوی درہ دانیال سے گزر کر قسطنطنیہ پر قابض ہوگی۔ فرانس میں لڑائی کی وجہ سے یورپی فوج ساتھ نہ آسکی۔ البتہ روس نے ایک کور مہیا کر دی جس نے Black Sea سے شامل ہونا تھا۔ ساحل کنارے پہاڑیوں پر ترک توپ خانہ کو تباہ کرنا تھا۔ یہ کام برٹش بحری جہازوں کو سونپا گیا۔
درہ دانیال کا کھلا رہنا ضروری تھا اس لئے کہ روسی گندم اور خام مال اسی راستے سے یورپ کو سپلائی ہوتے۔ روس کو یورپ سے گولہ بارود سپلائی درہ دانیال کے راستے ہوتی۔ درہ دانیال فتح کرنے کے بعد سربیا‘ رومانیہ‘ بلغاریہ اور یونان کی فوجیں بھی برٹش فورسز سے آملنے کو تیار تھیں۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ قسطنطنیہ فتح کے بعد ترکی جنگ عظیم سے نکل جائیگا۔ ونسٹن چرچل خود حملہ آور نیول جنگی جہازوں کے ساتھ آیا۔
برٹش نیوی کے بحری جہازآدھی رات کے وقت حملہ آور ہوئے۔وہ ترک ساحلی پہاڑیوں کے قریب پہنچ گئے۔ ترکوں نے پاورفل ٹارچوں کے ساتھ ساحل کو روشن کر دیا اور ساحل پر نصب ترک توپوں نے انگریزوں کے کئی جہاز ڈبو دیئے۔ سمندر میں بچھی Minefields نے بھی برٹش نیوی کا نقصان کیا۔ ترکوں نے برٹش نیوی کے 50 فیصد جہاز غرق کر دیئے۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے برٹش نیوی پسپا ہوگئی۔ پسپائی کے علاوہ اتحادیوں کا Strategic Surprise بھی فاش ہو گیا۔ چرچل کو وسٹ سی لارڈ شپ سے سبکدوش ہونا پڑا اورشاید اسے میجر کارنیک دیکر فرانس محاذ پر بھیج دیا گیا۔اتحادیوں کی اس شکست کے بعد برطانیہ جو ان دنوں دنیا کی سپر طاقت گردانا جاتا تھا‘ ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پھر حکومت برطانیہ نے ترکی فتح کرنے کیلئے نیول آرمی فورسز تیار کیں۔ نیوی جنگی جہازوں کے ذریعے بری فوجوں کو جزیرہ نما گیلی پولی اتارا گیا۔ بحری جہازوں نے زبردست گولہ باری شروع کردی۔ بری فوجوں نے گیلی پولی کے مغربی حصہ پر قبضہ کرنا تھا۔ اس سے درہ دانیال پر قبضہ آسان ہو جاتا۔ جونہی انگریز بری فوج گیلی پولی پر قابض ہوتی‘ نیوی کا درہ دانیال پر یلغار کرنا آسان ہو جاتا۔
لارڈ کچنر نے اسی ہزار فوج جنرل  Hamilton کو دی جس نے گیلی پولی پر چھ اطراف سے حملہ کرنا تھا۔ فرانسیسی فوجی دستے بھی پہنچ گئے جو گیلی پولی کی سمت چڑھ دوڑے۔ اتحادی فوجوں کی پیش قدمی ساحل پر لگی ترک توپوں نے روک دی جو یورپی فوج رینگ کر ایک دو میل آگے بڑھی۔ وہ ترک مشین گنوں کے کراس فائر میں آگئی۔ اتحادی فوجیں ساحل پر چند سو گزوں پر رک گئیں۔ پھر Trench یعنی خندقوں میں جنگ شروع ہوئی جو کئی ماہ تک ہوتی رہی۔ ANZAC اور HELLES کی طرف سے اتحادی فوجوں کا بڑا حملہ ترکوں نے پسپا کر دیا۔ اس حملہ میں 23000 آسٹریلین اور نیوزی لینڈ کے فوجی شامل تھے۔ اس لڑائی میں تیرہ ہزار اتحادی فوجی مارے گئے۔ اتحادیوں کی تازہ دم فوج نہ آئی۔ اس فرنٹ پر آدھی یورپی فوج صرف پانی فرنٹ لائن پر لانے میں مصروف رہی۔ آخر اتحادیوں کو گیلی پولی فرنٹ سے پسپا ہونا پڑا۔
گیلی پولی کی لڑائی میں مصطفی کمال ایک ڈویژن کمان کر رہے تھے۔ وہ ڈویژن کو جنگی مشق کروا رہے تھے کہ اتحادیوں نے ANZAC کی طرف سے بھرپورحملہ کر دیا۔ راستے میں چند پسپا ہوتے فوجیوں نے بتایا کہ اس طرف سے بھاری تعداد میں حملہ آور آرہے ہیں۔ مصطفی کمال نے ڈویژن کیساتھ ANZAC کا رخ کیا اور ہائی کمان سے بغیر اجازت لئے اتحادی فوج پر ٹوٹ پڑا۔ دو دن دو راتیں جنگ ہوئی۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ مُردوں کو دفنانے کیلئے چند گھنٹے سیز فائر ہوا اور مصطفی کمال سارجنٹ کی وردی پہن کر دشمن کے مورچوں کو دیکھ آیا۔
یہ تو ایک لڑائی تھی۔ ترکوں کو اتحادیوں اور روسیوں کے ساتھ کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔ ان جنگوںمیں تقریباً 2لاکھ ترک اور پچاس ہزار اتحادی فوجی مارے گئے۔ یہ وہ دن تھے جب ہندوستان میں شہروں کے علاوہ دیہاتوں کی ان پڑھ مسلمان خواتین مصطفی کمال کا نام فخر سے لیتیں اور ترکوں کی فتح کیلئے دعائیں مانگتیں۔
مسٹر ایچ سی آرم سٹرانگ یورپی مورخ اور مصنف اپنی کتاب ’’گرے ولف‘‘ میں لکھتا ہے ’’ترکی میں محلات کی خواتین‘ دلالوں اور خواجہ سرائوں کا سلطنت میں عمل دخل تھا۔ ترکوں کے اندر سے فولادی قوت ختم کردی گئی تھی۔ بددیانتی‘ طوائف الملوکی اور کرپشن ان کے رگ و ریشے میں سما چکی تھی۔ ترک عوام بغاوت پر آمادہ ہو چکے تھے۔ ترکی اقتصادی اور عسکری لحاظ سے اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ ہمسائے ممالک اسکے حصے بخرے کرنے کی خاطر للچائی ہوئی نظروںسے دیکھنے لگے۔ روس نے کریمیا اور کاکیشش پر قبضہ کر لیا اور قسطنطنیہ پر قبضہ کی منصوبہ بندی کرنے لگا۔ یورپی ممالک نے ترکی کے صوبوں میں قابض ہونے کی تیاریاں کر لیں۔ اس وقت مصطفی کمال پاشا دھاڑتے ہوئے شیر کی طرح اٹھا ‘ ترک قوم کو منظم کیا‘ زبردست فوج تیار کی اور دشمنوں پر زخمی چیتے کی مانند ٹوپ پڑا۔ وہ جنگی محاذوں پر ہراول دستوں کے ساتھ ہو کر لڑا۔ ترک جرنیل فوج کی اگلی صفوں میں جا کر لڑتے۔‘‘
محب وطن پاکستانیوں نے ٹھیک محسوس کیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم کو گیلی پولی جنگ کی صد سالہ تقریب ترکوں کے ساتھ منانا چاہئے تھی۔ اگر وہ لندن میں اس تقریب میں شامل ہونے کے خواہاں تھے تو وزیراعلیٰ شہبازشریف کو استنبول بھیج دیتے جو مصطفی کمال اور ترک شہیدوں کی یادگاروں پر پھول رکھ آتے۔ اس سے بھی پاکستانیوں کی Face سیونگ ہو سکتی تھی۔