کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ کیسے ہے؟

کالم نگار  |  رشید ملک....کشمیر پوائنٹ
کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ کیسے ہے؟

پاکستان بھارت بعد میں مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری ہیں بھارت بتائے کہ کس تاریخ کو کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ بنا تھا، پاکستان سینٹ میں قائد ایوان مسلم لیگ کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق نے اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر پر حریت کانفرنس کی طرف سے بلائی گئی گول میز کانفرنس میں جہاں بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی مذمت کی ہے کہ کشمیر میں اکثریت مسلم آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں وہاں بھارت سے سوال کیا ہے کہ وہ بتائے کس تاریخ کو کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا گیا تھا اس چیلنج کا جواب نہ پہلے کبھی ملا ہے اور نہ آئندہ دیا جا سکے گا۔ بھارتی عزائم کی مذمت کرتے ہیں کشمیری پنڈتوں کی صورت میں کسی نئے سٹیک ہولڈر کو برداشت نہیں کرینگے۔ اقوام متحدہ استصواب سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے پاکستان حق خود ارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا‘ اس گول میز کانفرنس میں راجہ ظفر الحق، سنیٹر مشاہد اللہ خان، شیخ رشید، آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب خان اور وزیراعظم چودھری عبدالمجید نے بھی خطاب کیا یہ گول میز کانفرنس اس خوشگوار تاثر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں کشمیر کے مسئلہ کیلئے تڑپ ہر سطح پر موجود ہے۔
 راجہ ظفر الحق تحریک پاکستان سے بھی وابستہ رہے اور جہاد کشمیر میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے مختلف مراحل انکی نظروں کے سامنے رہے ہیں انکی یادداشت کیلئے عرض ہے کہ 84 ہزار مربع میل کی جنت نظیر ریاست جموں و کشمیر میں ڈوگرہ نظام میں جمہوری نظام لانے کیلئے ریاست کی 80 فیصد مسلم آبادی نے جو جدوجہد جاری رکھی تھی وہ نظریاتی اختلافات کے ساتھ تین جون 1947ء کو حتمی انجام پر پہنچی تھی جب وائسرائے ہند لارڈ مونٹ بیٹن نے آزادی ہند اور پاکستان کے قیام کا اعلان کیا تھا تقسیم ہند کے اس اعلان کے اصولوں کیمطابق ریاست جموں و کشمیر کو جغرافیائی، مذہبی، سماجی اور اقتصادی رشتوں کیمطابق پاکستان میں شامل ہونا تھا 26 جون 1947ء کو وائسرائے ہند لارڈ مونٹ بیٹن جنہیں بھارت نے اپنا پہلا گورنر جنرل بنایا تھا۔ سرینگر میں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ سے ملاقات کی اس وقت کانگریس کے صدر اچاریہ کرپلانی بھی سرینگر گئے۔
 شیخ عبداللہ نظربند تھے انہوں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کو تھپکی دی 19 جولائی 1947ء کو جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعہ مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان سے کرے ورنہ کشمیر کے مسلمان علم جہاد بلند کرینگے۔
یکم اگست 1947ء کاکشمیر پر قبضہ کیلئے کانگریس کی سازشوں کا نقطہ عروج ہندوستانیوں کے باپو مہاتما گاندی کا کوہالہ مظفر آباد سڑک کے ذریعہ سرینگر کا سفر تھا، گاندھی تین دن سرینگر میں رہے وہ خود چل کر مہاراجہ ہری سنگھ سے ملنے کیلئے انکے محل میں گئے۔ 25 اگست کو نیلہ بٹ کے مقام سے جہاد کشمیر کا اعلان کیا گیا تھا اس جہاد کی یلغار میں مہاراجہ ہری سنگھ سرینگر سے بھاگ کر جموں اپنے آبائی محل میں پناہ گزین ہوا یہاں پر بھارت کے وزیر خارجہ نے دہلی سے آ کر مہاراجہ ہری سنگھ سے فوجی امداد کی درخواست پر دستخط کرائے اور اپنی فوج کشمیر میں ہوائی جہازوں کے ذریعہ اتار دی اسکے ساتھ ہی بھارت کشمیر کے مسئلہ کو لیکر سلامتی کونسل میں گیا۔ سلامتی کونسل میں کشمیر پر بحث کا ماحاصل 13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کی دو قراردادیں ہیں جن میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ سلامتی کونسل کی زیرنگرانی رائے شماری کے ذریعے ہو گا بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اپنی پارلیمنٹ میں اور پھر سرینگر کے لال چوک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ ان قراردادوں پر عملدرآمد کرائیں گے خواہ انکے نتائج سے انہیں دکھ ہو گا ان قراردادوں پر آج تک عمل نہیں کرایا گیا۔ دو سال پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی اسکے ایجنڈا پر موجود ہیں۔ بان کی مون نے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ بھارت و پاکستان اتفاق کریں تو وہ ان قراردادوں پر ثالثی کرانے کیلئے تیار ہیں۔ بھارت ان قراردادوں کو ایجنڈا سے نکلوا نہیں سکا۔ عالمی قوتوں کی خاموشی کا غلط استفادہ کرتے ہوئے بھارت نے کشمیر میں اسمبلی کے انتخابات کرائے۔ سلامتی کونسل، کشمیریوں اور پاکستان کے اعتراضات پر یہ یقین دہانی کرا دی کہ ان انتخابات کا کشمیر کے اصل مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑیگا یہ انتخابات حکومت کے روزمرہ کے آئینی، مالی اور انتظامی امور چلانے کیلئے کرائے جاتے ہیں یہی پوزیشن آج تک قائم ہے اور بھارت اس میں تبدیلی نہیں لا سکا۔
بھارت نے 1951ء میں اپنے آئین میں ریاست جموں و کشمیر کا اٹوٹ انگ دفعہ 370 کے تحت خصوصی حیثیت کے ساتھ قرار دیا تھا لیکن سلامتی کونسل کی قراردادیں اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ بھارت کسی عالمی قوت کی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی ضمانت حاصل نہیں کر سکا جبر اور طاقت کے استعمال کے سوا بھارت کشمیر کے مسئلہ میں کمزور وکٹ پر ہے۔