بجٹ تجاویز

کالم نگار  |  شیخ منظر عالم
 بجٹ تجاویز

 (گذشتہ سے پیوستہ ) ہم نے اپنی نیتوں کے فتور کو ختم کرکے تمام قوانین کو اس کی اصل روح کے نافذ کیا تو آج بھی ہم اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اپنے ملک کو بہتر انداز میں چلاسکتے ہیں۔ اسکے لئے ٹیکس بڑھانے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔اسکے علاوہ ہمیں اپنے بجٹ میں خودانحصاری کی پالیسی کو لازمی عنصر کے طور پر شامل کرنا ہوگا اوراس کو صرف لفاظی اور نعرے کی صورت میں استعمال نہیں کرنا بلکہ اس کو عملی طور پر اپنانا ہو گا کیونکہ پاکستان میں نہ زیر زمین خزانوں کی کمی ہے ، نہ دریائوں اور پہاڑوں کی کمی ہے ، نہ قابلیت کی کمی ہے اور نہ ہی افراد ی قوت کی کمی ہے ہم صرف اپنی یہ صلاحیتیں استعمال کرکے آج بھی اس ملک کو قرضوں سے آزاد ایک مختار اور آزاد ملک بنا سکتے ہیں جس کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے انتظامی اخراجات کو کم سے کم کرنا ہوگا۔مختصراً اگر ہم اپنے وزرا ء کی تعداد ،گورنر ہائوس ، وزیر اعلیٰ ہائوس، ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کے اخراجات اپنے پڑوسی ملک ایران ہی کے برابر کرلیں اور جو ایران کا صدر اپنے لئے سہولتیں لیتا ہے ہمارے تما م حکومتی عہدیدار اسکے برابر لے لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے انتظامی اخراجات کم از کم75فیصد کم ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم اس نقطے کے اوپر سوچیں کہ ہمارے دور میں وزراء اور مشیروں کی تعداد25 سے زیادہ نہ ہو اور تمام صوابدیدی فنڈز ختم کر کے ترقیاتی فنڈ میں دے دیئے جائیں اور وہ بھی صرف تعلیم، صحت اور بنیادی ضرورتوں کی فراہمی پر خرچ ہوں تو میں سمجھتا ہوں اس سے ہم ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
 اسکے علاوہ جائیداد کی خرید فروخت میں بھی بڑ ے پیمانے پرٹیکس چوری کی جاتی اس لئے ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی جائیداد کیلئے خریدار اور فروخت کنندہ پر لازمی ہو کہ وہ اس جائیداد کی جس بھی رقم کا معاہدہ کریں وہ جائیداد نمبر اسکی تفصیل اور جس رقم کا معاہدہ ہو وہ تمام Public Web Site اور دیگر ذریعوں سے لازمی اطلاع دیں اور 30 دن تک ٹائم دیا جائے کہ کوئی بھی فرد اسکو 15 یا20 فیصد زیادہ دیکر خرید سکتا ہے تو اس سے سالانہ اربوں روپے اضافی رقم کی وصولی ہو سکتی ہے۔
 روزگار کی فراہمی کو بجٹ کا لازمی حصہ ہوناچاہیے مگربات یہ ہے کہ ملک میں پیداواری شعبے کو وسعت دیئے بغیر یہ خواب کبھی پورانہیں ہو سکتا اور بدقسمتی سے پاکستان میں پیداواری شعبے کو عموماً اور گذشتہ10 سال میں خصوصاً بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔ جسکی وجہ سے آج ملک شدید معاشی بحران میں مبتلا ہے خصوصاً توانائی اور گیس کی وجہ سے اس وقت پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں سال کے365 دنوں میں سے صرف175 دن کام ہو رہا ہے جبکہ کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑ ھ رہی ہے اور آئے دنوں کے ہنگاموں اور ہڑتالوں کی وجہ سے کراچی اور سندھ میں بھی پیداواری عمل کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
 بینک اور صنعت کا چولی دامن کا ساتھ ہے مگر بدقسمتی سے 2002 کے بعد آہستہ آہستہ بینکوںکو پولیس تھانوں میں تبدیل کیا جاتا رہا جن کا کام صرف جرمانے وصول کرنا، اضافی چارجز وصول کرنا اور تاجروں و صنعتکاروں کیلئے پریشانیاں کھڑا کرنا تھااس کو دیکھتے ہوئے میں نے اکتوبر2004 میں اپنے نوائے وقت کے کالم میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر ہمارے بینکار وزیر اعظم نے اپنی یہ بینکنگ پالیسی جارہی رکھی تو 2009-2008 تک اس ملک میں جس طرح جمعہ بازار کی طرح بینک کھل رہے ہیں نہ بینک ہونگے اور نہ ہی صنعتیں ہوں گی اور گذشتہ تین سالوں میں جس طرح کئی بینک اپنا بوریا بستر لپیٹ کر اس ملک سے جا چکے ہیں او رکئی بینک ایک دوسرے میں ضم ہو گئے ہیں او رابھی ضم ہو بھی رہے ہیں اور باقی ماندہ غیر ملکی بینک اس ملک سے جانے کی تیاری کر رہے ہیں یہ وہ کنزیومر بینکنگ اور دوسری پالیسیوں کے میٹھے زہرکا عملی نتیجہ ہے جس کا اشارہ میں نے2004 میں کیا تھا ۔ دوسری طرف اسی وجہ سے اس وقت کراچی میں 500 سے زیادہ صنعتیں ڈیفالٹ کر چکی ہیں اور باقی ماندہ ڈیفالٹ کی طرف رواں ہیں اس لئے اگر حکومت واقعی بینکوں اور صنعتوں کو بچانے میں سنجیدہ ہے اسے ایک ایسی کمیٹی بنانی چاہیے جس میں ڈیفالٹر صنعتوں کے نمائندے ،بینکوں کے نمائندے اور حکومتی عہدیدار پر مشتمل ہوں کیونکہ کوئی بھی غیر متعلقہ کمیشن یا کمیٹی یہ مسئلے حل نہیں کر سکتی۔ اسکے ساتھ ہی جس طرح بینکوں کو جرمانے لگانے اور صنعتوں کیلئے عذاب بنا کررکھ دیا تھا اس کو بھی لگام دی جائے اور بینک منیجرز کو جو بالکل ایس ایچ او والے اختیارات دے دیئے گئے ہیںاس پر بھی از سر نو پالیسی بنائے اور بینکوں کی پالیسیوں کو صنعت دوست پالیسیوں میں تبدیل کرکے اس بات کا جائزہ لے کہ گذشتہ دور میں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے جو صنعتیں بند ہوگئی ہیں ان کو کیسے چلایا جائے۔  آئی ٹی انڈسٹری پر جس طرح توجہ دینی چاہیے تھی اس طرح ہمارے ہاں نہیں دی گئی لیکن بھارت نے اس میں بنیادی کردارادا کیا اسی لئے آج وہ آئی ٹی میں دنیا پر حکمرانی کررہا ہے کیونکہ اس وقت واشنگٹن،پیرس، لندن یا کسی بھی مرکز سے فون کیا جائے تو بنگلور کا آپریٹر فون اٹھاتا ہے حالانکہ اسکے اوپر ہمارے ہاں بھارت سے پہلے کام شروع ہوا تھا مگر ہمارے ارباب اختیار کی ذاتی مصلحتوں کی وجہ سے اس کو آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔ غرض آج بھی ہمارے پاس نہ وسائل کی کمی ہے نہ افرادی قوت کی کمی ہے اور نہ ہی قابلیت کی کمی ہے کمی بس صرف عمل کی ہے ۔ مختصراً اگر ہم مندرجہ ذیل بنیادی نکات کوہی عملی صورت میں تشکیل دیں جو ناقابل عمل بھی نہیں ہیں تو ہم آج بھی اس برسوں کے قرضوں اور بھیک کی پالیسیوں سے نجات پاسکتے ہیں کیونکہ ہمارے بجٹ کا تقریباً 75فیصد تخمینہ قرضوں اور بھیک کی وصولیابی پر بنایا جاتا ہے۔
مختصراً آنیوالے بجٹ میںانکم ٹیکس کی سطح زیادہ سے زیادہ دس فیصد ہو۔ شرح سود پانچ فیصد ہو۔ تمام سطح پر سیلز ٹیکس پانچ فیصد ہو جو پوری دنیا کی طرح پرچون کی سطح پر نافذ کیا جائے یعنی صرف ایک بار لیا جائے۔ انڈرانوائسنگ کوختم کیا جائے کیونکہ آج کے کمپیوٹرائزڈ دور کی وجہ سے اس کو جڑ سے اکھاڑا جاسکتا ہے ۔ ایف بی آر کے افسران کے صوابدیدی اختیارات کو ختم کیا جائے۔ دستاویزی معیشت کو عملی شکل دی جائے۔ مصلحتوں اور منافقتوں سے ہٹ کر اگر حقیقی دستاویزی معیشت کو عملی شکل دے دی جائے تو ملک کو کسی غیرملکی مالیاتی ادارے کی ضرورت نہ ہوگی۔ پاکستان کی صنعتوں میں استعمال ٍہونیوالے خام مال خصوصاً کاٹن ، کاٹن یارن اور خام چمڑا وغیرہ کی برآمد پر فوری پابندی لگائی جائے اور ملک کو مختلف مافیائوں کے چنگل سے نکال کر تمام پالیسیاں ملک کے مفاد میں بنائی جائیں۔ کسٹم، ایکسائز اور سیلز ٹیکس کے شعبوں میں ہونیوالی باقاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کو کنٹرول کیا جائے تو ہم اس سے بھی سالانہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کراسکتے ہیں۔ اسی طرح نجکاری کی پالیسی میں محتاط انداز میں فیصلے کئے جائیں اور پاکستان برائے فروخت کا بورڈ نہ لگادیا جائے کیونکہ ہم کئی عوامی اداروں کو کرپشن، بدعنوانی اور انتظامی بے قاعدگیوں کو دور کرکے منافع بخش ادارے بنا سکتے ہیں جس طرح پاکستان ریلوے جو شائد پاکستان کا سرکاری شعبے میں سب سے زیادہ تباہ حال ادارہ بن چکا تھا مگر چند عملی اقدامات سے کم از کم ٹرینیں پٹڑی پر تو چل رہی ہیں اور اگر اسی طرح توجہ دی گئی تو یہ ادارہ دوسرے ملکوں کی طرح ایک نفع بخش ادارہ بن سکتا ہے تو اسی طرز پر دوسرے اداروں پر بھی کام ہونا چاہیے۔