پاکستان سعودی عرب تعلقات

کالم نگار  |  نعیم قاسم
پاکستان سعودی عرب تعلقات

جب پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچے تو سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے اپنے ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز، نائب ولی عہد شہزادہ فیصل بن بندر اور اپنی تمام کابینہ کے ہمراہ تمام تر پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر ریاض کے کنگ خالد انٹر نیشنل ائر پورٹ پران کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا۔ نواز شریف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ سعودی شاہی خاندان کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ بادشاہ خود کسی دوسرے ملک کے مہمان حکمران کو ائرپورٹ پر ریسیو کرنے آئے۔ شاہ سلمان اور میاں نواز شریف کے درمیان شاہی محل میں ہونیوالی ملاقات میں اس بات کا بھرپور اعادہ کیا گیا کہ باہمی دفاع اور توانائی کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان بھرپور تعاون کومزید فروغ دیا جائیگا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی معاشی مشکلات کم کرنے کیلئے فراخ دلانہ مدد کی۔ نواز شریف کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے فوراً بعد سعودی عرب نے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کیلئے ڈیڑھ ارب ڈالرز کی خطیر رقم بطور تحفہ عنایت کی ۔ سعودی عرب گلف کونسل کے ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسکے علاوہ ہمارے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ سعودی عرب میں بھی ان کو بے پناہ پذیرائی ملی اور جلد ہی سعودی ولی عہد شہزادہ مقرن پاکستان کا دورہ کرنیوالے ہیں۔ اس سے پہلے سعودی ڈپٹی ڈیفنس منسٹر اور وزیر خارجہ بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ ریاض اور اسلام آباد کے درمیان گہرے مذہبی، سیاسی، ثقافتی، تجارتی اور سٹریٹجک تعلقات کا آغاز پاکستان بننے کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پیو ریسرچ سنٹر کے سروے کے مطابق 95 فیصد پاکستانی سعودی عرب کے متعلق بڑے مثبت جذبات رکھتے ہیں اور پاکستان جو نیوکلیئر طاقت ہے اور بڑی مضبوط، پروفیشنل اور ایک بڑی فوج کا حامل ملک ہے، ہمیشہ سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا رہاہے۔
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے سعودی شاہی خاندان سے گہرے ذاتی مراسم ہیں کیونکہ سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے پرویز مشرف کو مجبور کرنے پر ہی نواز شریف کو 1999ء میں فوجی انقلاب کے بعد سعودی عرب جلاوطن کیا گیا اور یہ بھی رپورٹ ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو جے ایف 17 تھنڈر طیارے بیچے گا اور دوسرا پاکستان سعودی عرب کے اصرار پر داعش کیخلاف شام میں اپنے فوجی دستے بھی بھیجے گا۔ ال مانیٹر Al Monitor کے مطابق سعودی عرب کی یہ تاریخی تمنا ہے کہ وہ اپنے نان عرب مسلمان اتحادی پاکستان کی فوجی طاقت کی مدد سے عرب دنیا میں اپنی بالادستی قائم رکھے اور خطے میں اسکو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل رہے اور پاکستان کو اپنی دفاعی خدمات کے بدلے میں سعودی عرب کی طرف سے معاشی امداد کی فراہمی جاری رہے گی۔ سعودی عرب کا شاہی خاندان پرویز مشرف کا بھی بہت قدر دان ہے ۔ایک تو جب حرم شریف میں کچھ مسلح بدو گھس آئے تو جس پاکستانی دستے نے حرم میں داخل ہو کر ان شرپسندوں کا خاتمہ کیا تھا اس دستے کی قیادت پرویز مشرف نے کی تھی اور دوسرا پرویز مشرف نے شاہ عبداللہ کے ایک اشارے پر نواز شریف کو سعودی عرب بھجوا دیا تھا اور آج شائد پرویز مشرف اپنی اس اعلیٰ ظرفی کی سزا بھگت رہے ہیں کہ انہیں موجودہ حکومت نے شاہ عبداللہ کی تعزیت کیلئے سعودی عرب بھی نہ جانے دیا۔
سعودی عرب کے بانی فرماں روا شاہ عبدالعزیز ابن سعود برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل اور دکھوں سے گہری دلچسپی رکھتے تھے اس لئے آزادی کے حصول سے پہلے بھی اس خطے کے مسلمانوں کو سعودی حکومت کی دوستی اور بھائی چارے کی دولت حاصل رہی۔ 1943ء میں بنگال میں قحط پڑا تو شاہ عبدالعزیز نے قائداعظمؒ کو دس ہزار پاؤنڈ بھیجے تاکہ قحط زدہ مسلم بنگالیوں کی خوراک کا بندوبست ہو سکے۔ قیام پاکستان کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہونیوالی تھی تو مسلم لیگ کو اسلامی دنیا سے سیاسی و اخلاقی امداد کی ضرورت پڑی تو قائداعظمؒ نے اے ایچ اصفہانی کی قیادت میں ایک وفد سعودی عرب بھیجا جس کی سعودی عرب کے فرمانروا نے بڑی پذیرائی کی۔ دونوں ممالک کے درمیان 1951ء میں دوستی اور تعاون کا باقاعدہ معاہدہ ہوا۔ معاہدہ پر دستخط کے بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ امیر الفیصل نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ دوستی تاریخی اہمیت کا حامل ثابت ہو گا اور آنیوالی نسلیں بھی اس سے مستفید ہونگی۔ 1954ء میں شاہ سعود نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستانی عوام نے ان کی آمد پر والہانہ انداز میں خوشیوں کا اظہار کیا۔ سعودی فرمانروا اپنے استقبال سے بے حد خوش ہوئے اور انہوں نے پاکستان کو اپنا گھر قرار دیا اور بڑے جذباتی انداز میں کہا ’’یہ جھنڈا میرا ہے میرے ملک کا ہے‘‘ سیاسی اور بین الاقوامی امور میں قوموں کی برادری میں بھی دونوں ملکوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کیا۔ دسمبر 1954ء میں انگلینڈ اور سعودی عرب میں نخلستان برائمی کا جھگڑا طے کرنے کے لئے ثالثی طریقہ کار میں سعودی عرب نے پاکستان کو بھی ثالثی کمیٹی کا ممبر نامزد کیا۔ پاکستان کے نمائندے ڈاکٹر محمود حسین نے سعودی نقطہ نظر کو واضح کیا۔ سعودی عرب کے پاکستان پر اعتماد کا یہ ایک عمدہ مظہر تھا۔
1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کے دوران پاکستان کو سعودی عرب کی مکمل سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور فوجی و اقتصادی حمایت حاصل رہی اسکے علاوہ سعودی سفارتکاروں نے 1948ء اور 1966ء میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر کے بارے میں پاکستان کے نقطہ نظر کی مکمل تائید کی۔ 1962ء میں جب شاہ فیصل سعودی عرب کے حکمران بنے تو انہوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا ذکر کیا۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کی خبر سن کر شاہ فیصل کے آنسو نکل آئے اور وہ دیر تک امت مسلمہ کی شکست پر روتے رہے اور انہوں نے کہا کہ یہ ایک سازش کا نتیجہ ہے جو اسلامی دنیا کیخلاف کی گئی ہے۔ شاہ فیصل پاکستان سے بے حد محبت کرتے تھے اور پاکستانی عوام بھی انہیں اپنا محبوب لیڈر مانتی رہی ہے۔ پاکستان میں ہر پانچویں بچے کا نام فیصل ہوتا ہے۔ لائلپور کا نام بدل کر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔ شاہ فیصل مسجد اور اسلامی یونیورسٹی کے کمپلیکس کی تعمیر کیلئے سعودی عرب نے مالی مدد کی ۔
جب اسلامی ممالک کے سربراہان کی پاکستان میں کانفرنس منعقد کی تو شاہ فیصل لیبیا کے سربراہ معمر قذافی اور یاسر عرفات کو پاکستانی عوام نے اپنی عقیدتوں اور محبتوں سے اس قدر نوازا کہ تینوں رہنماؤں نے ہمیشہ پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم قلعہ بنانے کا عزم دہرانا شروع کر دیا جس پر سامراج کے کان کھڑے ہو گئے اور مغربی ممالک کیخلاف تیل کا ہتھیار استعمال کرنے پر شاہ فیصل کو شہید کرا دیا گیا۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے پر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ سعودی عرب کی لاکھ کوششوں کے باوجود ضیاء الحق نے بھٹو کی جان نہیں بخشی جس کا سعودی حکمرانوں کو آج تک بڑا قلق ہے کہ بھٹو جیسے عظیم لیڈر کی صلاحیتوں سے عالم اسلام کو فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے خوشگوار رہے ہیں کشمیر، قبرص، فلسطین، عراق، ایران تنازعہ، افغانستان میں روسی جارحیت، عراق کویت مسئلہ، ہندوستان و پاکستان کے تنازعات، اسرائیلی جارحیت حتٰی کہ ہر عالمی مسئلے اور علاقائی تنازعوں پر دونوں ممالک کی قیادتوں میں ہمیشہ ہم آہنگی پائی جاتی رہی ہے۔ عراق کے کویت پر قبضے کے بعد جب سعودی عرب کو بھی اس کی جارحیت سے خطرات محسوس ہوئے تو پاکستان نے فوراً سعودی عرب کی حفاظت کیلئے اپنے فوجی دستے روانہ کر دئیے جس نے سعودی عرب کے عوام اور حکمرانوں کے دل جیت لئے۔ شاہ فیصل نے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کے متعلق فرمایا ’’دونوں مملکتیں دینی، روحانی اور اعلیٰ و ارفع رشتوں میں بندھی ہوئی ہیں اور انکا تعلق وقتی فائدے اور مصلحت کی بنیاد پر نہیں سعودی اور پاکستانی بھائی ایک جسم واحد ہیں اور تمام مسلمان جسم کے مختلف اعضا کی طرح ہیں اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو اس کا احساس سارا جسم کرتا ہے۔