عوام کا مقدر‘ نعرے‘ دعوے

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری
 عوام کا مقدر‘ نعرے‘ دعوے

’’چہرے نہیں نظام بدلو‘‘ یا ’’چہرے نہیں نظام بدلیں گے‘‘ یہ نعرے اور دعوے پاکستان کی سیاسی فضائوں میں اکثر گونجتے سنائی دیتے ہیں‘ لیکن چھیاسٹھ سالہ قومی و سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بات نعروں اور دعوئوں سے آگے نہیں بڑھ سکی کیونکہ نظام اور اس سے فیض یاب چہرے ایک خاص طبقہ کے مفادات کے محافظ ہیں۔ جمہوریت اگرچہ عوام کی حکومت کی شہرت رکھتی ہے مگر درحقیقت یہ اس خاص طبقہ کی اقتدار و اختیارات پر گرفت مضبوط بنانے کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسند اقتدار تک رسائی اس خاص طبقہ کی معاونت و حمایت کے بغیر ناممکن ہے جس کی واضح مثال نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگانے والے عمران خان کی یہ تمنائے بے تاب ہے۔
مجھے ایلیکٹ ایبل (جو انتخابات میں خود منتخب ہونے کی اہلیت رکھتے ہوں) امیدوار چاہئیں یہ جس کے سبب بیمار ہوئے اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کے مترادف ہے۔ ایلیکٹ ایبل تو پیارے پاکستان میں صرف بڑے زمیندار یا سرمایہ دار ہی ہیں اور یہی استحصالی نظام کے ناخدا ہیں جس کی تبدیلی ان کے مفادات پر ضرب کاری ہے۔ وہ یہ کیوں گوارہ کریں گے۔ یہ معاملہ صرف وطن عزیز میں ہی نہیں پوری دنیا میں جہاں جہاں جمہوریت ہے‘ وہاں یہی نقشہ دیکھا جا سکتا ہے‘ لیکن ایک فرق ضرور ہے اور بہت واضح فرق ہے۔
مرشد اقبال کے بقول شریعت کے پیمان جو ہم نے توڑے وہ بے جا کے سب اہل مغرب نے جوڑے کی عملی تفسیر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس خبر نے کہ وزیراعظم ٹونی بلیئر کے بچوں نے ٹیوشن پڑھنی شروع کر دی ہے۔ ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا کہ ملک کا تعلیمی نظام ایسا کیوں نہیں بنایا کہ بچوں کو ٹیوشن کی ضرورت ہی نہ رہے۔ اسی وزیراعظم کی اہلیہ اپنے وکالت کے دفتر جاتے ہوئے جلدی میں بلا ٹکٹ ٹرین میں سوار ہو جاتی ہیں تو دس پونڈ جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
ناروے کے ایک وزیر کو جو بچوں کی بہبود کے ذمہ دار تھے‘ قواعد ضوابط سے ہٹ کر بعض این جی اوز کو گرانٹ دینے پر مستعفی ہونا پڑا۔ سویڈن کے وزیراعظم کو دوران ڈرائیونگ بیلٹ نہ باندھنے پر جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ جرمنی کے صدر کو اپنے منصب سے الگ ہونا پڑا کہ اپنے مکان کی تعمیر کیلئے نرم شرائط پر قرض لے لیا تھا۔ ٹرین کے حادثے پر بھارت کے وزیر ریلوے لال بہار شاستری نے اسعتفیٰ دیدیا تھا جبکہ پاکستان کے وزیر ریلوے شخ رشید نے ایسے حادثے پر جس میں کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں‘ استعفیٰ کے سوال پر فرمایا تھا ’’میں استعفیٰ کیوں دوں کیا میں ٹرین چلا رہا تھا۔‘‘ صدر کلنٹن اپنی بیوی ہیلری اور بیٹی چیلسی کے ساتھ دس چھٹیاں کسی پروٹوکول کے بغیر گزارتا ہے کہ اس دوران صدر امریکہ کے فرائض انجام نہیں دے رہا تھا۔
برطانیہ کے ایک وزیر کی سابق بیوی کے اس الزام پر کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر پولیس ریکارڈ سے بچنے کیلئے سابق شوہر نے الزام اس پر لگادیا تھا۔ وزیر صاحب کو وزارت سے ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں۔ جاپان کے ایک وزیر نے کرپشن کا الزام لگنے پر ہی جو ثابت نہیں ہوا تھا‘ خودکشی کر لی جبکہ پیارے پاکستان میں کرپشن کے باقاعدہ مقدمات کے باوجود آصف زرداری استثنیٰ کے قلعے میں محفوظ رہے۔ جس ملک کی معیشت شدید دبائو کا شکار ہو‘ مختلف بحرانوں کے چنگل میں ہو اور وہ ملک سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں سب سے زیادہ ڈالر اکائونٹ رکھنے والے ملکوں کی فہرست میں 48 ویں نمبر پر آجائے۔ ان ڈالر اکائونٹس کے مالک کون خوش نصیب ہیں‘ اگر کسی کے ڈالر سوئس بینکوں میں نہیں تو اس کا سرمایہ یورپ اور امریکہ کے بینکوں میں ہے۔ کاروبار اور جائیدادیں برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ سپین اور دیگر ملکوں میں ہیں۔ عوام کو جمہوریت کا لولی پاپ دیدیا گیا ہے۔ وہی حکمران ان کے ذریعہ حکومت اور ان ہی کیلئے حکومت‘ جبکہ ان ’’حکمران‘‘ عوام کی حالت یہ ہے کہ مشرف کے غیر جمہوری دور میں ہر پاکستانی 35 ہزار روپے کا مقروض تھا۔ آج 85 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ یہ قرض اتارنے کیلئے من مانی شرائط پر عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لیا جاتا ہے جسے ادا کرنے کیلئے عوام کو بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور دیگر تمام اشیاء پر زائد ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یہ اربوں کے حساب سے لیا جانے والا قرضہ کہاں جاتا ہے جبکہ اس کی ایک ایک پائی کی ادائیگی کے ذمہ دارعوام کی زبوں حالت تو اول روز جیسی ہی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ عوام حکومت بنانے کا اختیار رکھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوکر جو عوامی نمائندے چُنتے ہیں‘ ایک پورٹ کے مطابق ان کی ایک مدت کے اخراجات کا تخمینہ 85 ارب 44 کروڑ روپے بنتا ہے۔ 2008ء سے اسمبلیوں کی دو مدتوں کا حساب لگایا جائے تو یہ ایک کھرب 70 ارب 88 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ یعنی پیارے پاکستان کے 20 کروڑ لوگوں نے اپنی جیب سے ان عوامی نمائندوں کا خرچہ برداشت کیا ہے جنہوں نے خود اپنے لئے تنخواہ اور مراعات میں سو فیصد اضافہ منظور کر لیا ہے جبکہ ضعیف العمر صنعتی مزدوروں کے 3600 روپے پینشن میں اضافہ کیلئے سرکاری خزانہ بیوہ کی مانگ کی طرح اُجڑا ہوا ہے۔ یہ پیارے پاکستان میں ہی نہیں جہاں کہا جاتا ہے عوام کی حالت اس لئے خراب ہے کہ یہاں جمہوریت کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا جہاں جمہوریت خوب پنپی ہے‘ خوب پھلی پھولی ہے‘ وہاں صورت یہ ہے کہ کینیڈا میں 53 فیصد‘ ڈنمارک میں 65 فیصد‘ برطانیہ میں 56 فیصد اور ناروے میں 50.5 فیصد اور سوئٹزرلینڈ میں 71.3 فیصد دولت پر صرف دس فیصد لوگوں کا قبضہ ہے جبکہ امریکہ میں 42.1 فیصد دولت صرف ایک فیصد لوگوں کے پاس ہے۔ یہ سب کچھ جمہوریت یعنی عوام کی حکمرانی‘‘ کے نام پر ہے جنہیں ’’چہرے نہیں‘ نظام دام ہمرنگ زمین میں پھنسا دیا گیا ہے۔