خواتین کے حقوق دراصل انسانی حقوق ہیں

 خواتین کے حقوق دراصل انسانی حقوق ہیں

خواتین کے حقوق عالمی انسانی حقوق کا ایک ضروری حصّہ ہیں۔ یہ اقوامِ متحدہ کا مرکزی اصول تشکیل دیتے ہیں، جو کہ اس سال اپنی سترھویں سالگرہ منا رہا ہے۔ لیکن اب بھی حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیاں جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا شکار ہیں جو کہ انہیں ناکافی تعلیم، غربت ، صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی اور تشدد جیسے مسائل سے دوچار رکھتا ہے۔
یہاں پاکستان میں کام کرنے والی چھوٹی عمر کی چھ کروڑ لڑکیوں کا دو تہائی حصہ ، جو کہ برطانیہ کی مکمل آبادی کے برابر ہے، لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ ہر سال یہاں زچگی کے دوران بارہ ہزار خواتین موت کا شکار ہوجاتی ہیں اور نوّے لاکھ لڑکیاں اسکول جانے سے محروم ہیں۔ ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل، جبری شادی، بے حرمتی اور دیگر تشدد کے غلبے کے باعث پاکستان کو ساری دنیا میں خواتین کیلئے تیسرے نمبر کا خطرناک ترین ملک کہا گیا ہے۔ اقتصادی مواقع کی کمیابی، تعلیم تک دشوار رسائی اور صحتِ عامہ کی سہولیات میں کمی کے علاوہ فیصلہ سازی میں خواتین کی کم نمائندگی پاکستان کو عالمی اقتصادی فورم کے جینڈر گیپ انڈکس میں ایک سو چھتیس ممالک کی فہرست میں ایک سو پنتیسویں نمبر پر رکھنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اچھی بات یہ ضرور ہے کہ پاکستان ان مسائل کو تسلیم کرتا ہے اور ان کا سامنا کرنے کیلئے حکومت جیسے دیگر بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی مدد سے سخت کاوش میں مصروف ہے۔
پاکستان میں میری تعیناتی کو چھ ماہ ہوچکے ہیں اور میں گواہ ہوں کہ پاکستان مستقبل میں درپیش آزمائشوں کو تسلیم کرتا ہے۔ پاکستان نے معاملات میں بہتری کیلئے مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ خواتین کے تحفظ اور انکے حقوق کے استحکام کیلئے پاکستان نے وفاقی اور صوبائی سطح پر اہم قانون سازی متعارف کرائی ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد اہم بل منظور کیے گئے ہیں۔ ان میں کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کرنے، تیزاب سے متعلق جرائم اور گھریلو تشدد سے تحفظ کے بل شامل ہیں۔ برطانوی حکومت ان ابتدائی اقدامات کا خیر مقدم کرتی ہے جو کہ برطانیہ میں کام کی جگہ پر خواتین اور لڑکیوں کو بغیر کسی تشدد اور تفریق کے اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر ممکنہ مواقع کے حصول میں مددگار ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال کئی آزمائشیں اور رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر، جو کہ ہم آج منا رہے ہیں، ہم اس پیش قدمی اور ترقی کا جشن منارہے ہیں جو کہ 1911؁ میں منائے گئے خواتین کے پہلے عالمی دن سے آج تک ہوئی ہے لیکن آج کا دن دنیا بھر کی خواتین بشمول پاکستان کی نو کروڑ خواتین اور لڑکیوں کیلئے پہلے سے زیادہ برابری کے موقع کی فراہمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ خواتین کے عالمی دن کیلئے اس سال کا موضوع ’ایسا ممکن کردو‘ ہے۔ مردوں اور خواتین کیلئے مساوی حقوق اور مواقع کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم مردوں سے تعاون حاصل کرنا ہے۔ تبدیلی کیلئے مردوں اور خواتین کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نہ صرف یہ کہ یہ صحیح ہے بلکہ یہ بہتر اقتصادیات کا احساس بھی دلاتا ہے۔ ثبوت موجود ہیں کہ وہ ممالک زیادہ خوشحال اور پیداواری صلاحیت رکھتے ہیں جہاں لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم اور اقتصادی مواقع تک برابر رسائی حاصل ہے۔ پاکستانی معیشت صرف اسی صورت میں ترقی کی منازل طے کرسکتی ہے جب مرد اور خواتین برابر حصہ لیں۔
ورلڈ بینک کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں مردوں کے بیس فیصد حصے کے مقابلے میں خواتین کی پیداواری صلاحیت کا تقریباً نصف حصہ مکمل استعمال نہیں ہورہا ۔ اسی لیے اقتصادی ترقی میں سب کو شامل کرنا نہ صرف خواتین اورلڑکیوں کیلئے، بلکہ پورے ملک کیلئے اقتصادی ترقی کا باعث بنے گا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایسے ماحول کی تشکیل جہاں خواتین اپنے لیے مواقعوں تک رسائی کرکے حاصل کرسکتی ہیں، تو یہ امر خواتین اور ان کے خاندانوں کو غربت سے نجات دلانے میں مددگار ہوگا۔ خواتین اپنی آمدنی کا تمام حصہ اپنے خاندان پر خرچ کرتی ہیں خاص طور پر اپنے بچوں کی خوراک اور انکی تعلیم کیلئے ۔یہی وجہ ہے کہ خواتین اور لڑکیاں برطانوی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ترقی کے کاموں کیلئے مرکزی مقام رکھتی ہیں۔
پچھلے ہفتے برطانوی ہائی کمیشن نے یو این او میںپاکستان کی جانب سے صنفی مساوات کی عالمی مہم کے آغاز میں تعاون فراہم کیا۔ ’ہی فور شی‘ کیمپین ایک یکجہتی کی تحریک ہے جو مردوں کو صنفی مساوات کی وکالت کیلئے مدعو کررہی ہے۔ دنیا بھر میں مردوں کو سماجی اور ادارتی قوت تک رسائی کے باعث غالب جماعت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ عموماً خواتین کی یہاں رسائی نہیں ہوتی۔ صنفی مساوات صرف ایک صنف کی کوشش سے حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس بحث میں مردوں کی شمولیت ضروری ہے۔ پچھلی جمعرات کو چیوننگ المنائی ایسوسی ایشن آف پاکستان نے پاکستانی پارلیمنٹ کی خواتین ممبران اور برطانوی ہائی کمیشن کے تعاون سے ایک بحث منعقد کی جہاں افتتاحی تقریر میں خواتین اور لڑکیوں کے بطور تبدیلی کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کیلئے مردوں اور لڑکوں کی اہمیت پر بھی بات کی گئی۔
برطانیہ اور پاکستان ہماری ثقافتی وسعت اور عوام کے درمیان روابط کے باعث ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ ہم پاکستان کی جانب سے سماجی و اقتصادی پیش رفت، صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے کی جانیوالی کوششوں کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے پُرعزم ہیں۔ حالیہ برسوں میں یقینی طور پر پیش رفت ہوئی ہے۔ غربت میں مزید کمی کیلئے برطانیہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ اس میں صحت کی سہولتوں اور تعلیمی خدمات تک رسائی اور اقتصادی ترقی میں اضافہ بھی شامل ہے۔
صحت مند، تعلیم یافتہ اور تشدد سے محفوظ خواتین ترقی کرتی ہیں۔ اگر خواتین کو کام کرنے کا موقع ملے اور معاشرے میں برابر کی شراکت دار کے طور پر کما سکے تو ان کا خاندان ، معاشرہ اور ملک بھی ترقی کریگا۔ برطانوی ہائی کمیشن اس اہم شعبے میں مزید پیش رفت کیلئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ہم برطانوی ہائی کمیشن میں اپنے تمام ساتھیوں کی جانب سے تمام مردوں اور خواتین کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر برابر مبارک باد کا پیغام دیتے ہیں۔