ضرب عضب کا ایک سال

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
 ضرب عضب کا ایک سال

وزیراعظم نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں بھارت کی بالا دستی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اور مشیر خارجہ نے بھی حالیہ دنوں میں ایک سے زائد مرتبہ اسی عزم کا اظہار کیا ہے ۔دو سری جانب جنرل راحیل شریف نے چند روز قبل’’ نیشل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد‘‘ میں پاکستانی عوام کے دلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر اور پاکستان آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور جموں کشمیر کی آزادی تقسیم ہند کے ایجنڈے میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے اور جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حق نہیں ملتا تب تلک تقسیم ہندوستان کا ایجنڈہ نا مکمل رہے گا اور اس کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے
مقبوضہ کشمیر کے عوام اور قائدین نے آرمی چیف کے اس واشگاف اعلان کا خیر مقدم کرتے کہا ہے کہ اس تازہ پیش رفت سے کشمیری قوم کے مورا ل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔پاکستان کے خاص و عام میں بھی جوش و ولوے کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے ،علاوہ ازیں افواج پاکستان کے سپہ سالار نے کہا ہے کہ ’’ آئندہ نسلوں کو دہشتگردی سے پاک پاکستان فراہم کریں گے ۔ (انشاء اللہ ) ‘‘ انھوں نے ان خیالات کا اظہار آرمی میڈیکل کور کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔ آرمی چیف نے کہا کہ کہ قدرتی آفات اور دہشتگردی کے خلاف فوجی آپریشنز میں پاک فوج کی میڈیکل کور کا کردار متاثرکن ہے ۔ اس سے پہلے گذشتہ چند دنوں میں وزیر اعظم نے ایک سے زائد مرتبہ اس موقف کا اظہار کیا کہ ’’ مسلح جتھوں اور پرائیویٹ لشکروں کا دور ختم ہو چکا ۔اب دہشتگردوں کو مذہب یا سیاست کی آڑ میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک پاکستانی قوم اور افواج کی جدو جہد جاری رہے گی‘‘ ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ گذشتہ برس 15 جون سے پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ضربِ عضب کے نام سے آپریشن شروع کیا گیا ، تب سے پاک آرمی نے جس موثر طریقے سے شدت پسندی کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کا اعتراف ساری دنیا میں کیا جا رہا ہے اور یہ آپریشن بلا تفریق ِ رنگ و نسل اور کسی تعصب کے جاری ہے ۔ اس کے آغاز میں چند ایک مذہبی جماعتوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ اس کا نشانہ صرف دینی جماعتیں بن رہی ہیں مگر جلد ہی زمینی حقائق سے ثابت ہو گیا کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف یہ الزام تراشی سرا سر بے جواز تھی ۔ کیونکہ گزشتہ عرصے میں کوئٹہ کراچی سمیت پورے ملک میں کئی دہشتگردوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور بہت بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی بر آمد کیا گیا اگرچہ اس دوران چند افراد اور تنظیموں کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا کہ اس آپریشن کا ہدف کچھ مخصوص سیاسی جماعتیں ہیں ۔ مگر گذشتہ کئی دنوں سے یہ امر پوری طرح واضح ہو چکا ہے کہ حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کا اصل ٹارگٹ صرف دہشتگرد ہیں اور چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت ، طبقے یا گروہ سے ہے، ان کو کچلنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے بلا امتیاز کاروائی کر رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے دھیرے دھیرے ریاستی اداروں کے خلاف جاری پروپیگنڈہ دم توڑتا جا رہا ہے ۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا کہ اگرچہ امن و امان کی بحالی آئینی اعتبار سے خالصتاً صوبائی مسئلہ ہے مگر گذشتہ ایک عشرے سے چونکہ حالات کا بگاڑ کافی شدت اختیار کر چکا تھا اس لئے بلوچستان اور خیبرپختونخواہ نے اپنی امداد کے لئے ’’ ایف سی ‘‘ کی خدمات حاصل کیں، علاوہ ازیں کراچی میں رینجرز کافی عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں مگر ماضی قریب تک خاطر خواہ ڈھنگ سے مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے تھے مگر جب سے جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کا منصب سنبھالا تو لگا کہ اگر عسکری اور سیاسی قیادت کے مابین اگر کسی قسم کی ذہنی ہم آہنگی کی کمی تھی تو وہ خلیج بھی دور ہو گئی ہے اور اب ملک بھر کے عسکری اور سیاسی قائدین یکجا ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ ملک و قوم کے دشمنوں کا صفایا کرنے کی بابت کمر بستہ ہو چکے ہیں ۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں شدت پسندی کے خاتمے کے حوالے سے ٹھوس اور مثبت نتائج قابلِ رشک حد تک سامنے آنے لگے ہیں ۔ اسی وجہ سے 23 مارچ 2015 کو ایک طویل عرصے کے بعد افواجِ پاکستان نے جس پروقار اور موثر ڈھنگ سے فوجی پریڈ کا مظاہرہ کیا اس نے بھی ایک جانب وطنِ عزیز کے دشمنوں کو دہلا کر رکھ دیا تو دوسری طرف قوم کے ہر خاص و عام میں ایک نیا جوش و ولولہ اور احساسِ تحفظ پیدا ہوا ۔علاوہ ازیں پاک چین اقتصادی راہداری کے معاہدے سے بھی خوش گوار اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ یہ الگ موضوع ہے کہ مخالفین خصوصاً بھار ت نے وطنِ عزیز کے اندر اپنے مہروں کے ذریعے سازشوں کا نیا جال پھیلا دیا ہے ۔ایسے میں آپریشن ضرب عضب کا پہلا برس مکمل ہونے پر امید کامل ہے کہ انشاء اللہ آنے والے دنوں میں ملک دہشتگردی کے ناسور سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا ۔