برادران یوسف اور آزمائش!

کالم نگار  |  نعیم مسعود
 برادران یوسف اور آزمائش!

سچ تو یہ ہے کہ بجٹ کو کامیاب و کامران بنانا صرف وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ یا وزرائے خزانہ ہی کا کام نہیں اس میں دیگر وزرائ، وزرائے مملکت، صوبائی وزرائ، پارلیمانی سیکرٹریز اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور بیوروکریسی کا ٹیم ورک بھی ہوتا ہے۔ کچھ مہنگا ہوتااور کچھ سستا ملکی معاملات کا ایک حصہ ہے۔ اشرافیہ بھی بری الذمہ نہیں۔ بڑے تاجران، بڑے صنعتکار، بڑے امپورٹرز جب تک درست ٹیکس نہیں دیں گے تب تک کوئی شخص یا کوئی پارٹی انسان دوست بجٹ کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں کر سکتا۔ جاگیردار اور رئیل اسٹیٹ کا اربوں کا کاروبار بھی ٹیکس نیٹ کا حصہ بننا ضروری ہے… لیکن کریں کیا؟ اشرافیہ، جاگیردار و صنعتکار، تاجران اور رئیل اسٹیٹ کے پرانے دولتمند اور نودولتئے بھی تو کثرت میں ممبران اسمبلی اور حصۂ سرکار ہیں اور برادران یوسف بھی! بجٹ سے سیاسی و معاشرتی حکمت عملیوں تک حکومت اگر بہت مثالی نہیں تو ناکام بھی نہیں۔ اگر مجموعی جائزہ لیا جائے تو میاں نواز شریف سے میاں شہباز شریف کی ان تھک محنت نظر آتی ہے۔ پھر مرکزی ٹیم میں سے احسن اقبال سے بلیغ الرحمن تک اور اسحق ڈار سے سائرہ افضل تارڑ تک کی بھی کاوشیں اور لگن ریکارڈ پر تابندہ اور درخشندہ ہیں مگر کچھ وزراء کل وقتی آزمائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ جہاں تک میاں شہباز شریف کی ٹیم کا معاملہ ہے تو اس کے تذکرے سے قبل جان کی امان کی فریاد کرنی پڑے گی۔ کاش کوئی میاں شہباز شریف کو بتائے اور پڑھائے کہ صحت اور تعلیم کے ساتھ ساتھ قانون کی وزارتوں اور محکموں کا برا حال ہے۔ یہ درست ہے کہ دیگر وزرائے اعلیٰ میاں شہباز شریف کی کارکردگی پر رشک اور حسد کا آمیزہ رکھتے ہیں لیکن رانا مشہود سے سلمان رفیق تک اور رانا ثناء اللہ سے کرنل (ر) شجاع تک کیلئے بھی کہیں کسی صوبے میں رشک ہے؟ مانا کہ کافی حد تک کامیابیاں حکومت کے قدم چوم رہی ہیں، لاہور کے بعد راولپنڈی و اسلام آباد کے حسن و جمال کو بھی میٹرو نے چار چاند لگا دیئے۔ شہر اقتدار سے قلب پاکستان تک ترقی، کسی حد تک ہی سہی، مگر نظر آ رہی ہے۔ مانا کہ میاں صاحبان میٹرو ملتان میں بھی آپ تغافل نہیں کریں گے۔ اور واقعی آپ مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن یہ دل، یہ پاگل دل چاہتا ہے کہ کسی سلمان رفیق جیسے ’’ہونہار‘‘ اور رانا مشہود جیسے ’’کلاکار‘‘ کو بھی کوئی مبارک شبارک دے… لیکن کیسے؟ آخر کیوں؟ جناب سلمان کو پتہ ہے کہاں اسپرین دستیاب ہے اور کس کو ہے؟ کتنے بنیادی ہیلتھ یونٹ کھنڈر بن چکے ہیں؟ کس آر ایچ یو، ٹی ایچ یو یا ڈی ایچ کیو میں کتنے ڈاکٹر، کتنے فارماسسٹ، کتنی فارمیسی، کتنے ڈسپنسر اور ٹیکنیشن فنکشنل اور نان فنکشنل ہیں؟ فارمیسی کونسل کا دفتر کہاں ہے اور ڈرگ اتھارٹی والے کس کھیت کی مولیاں ہیں؟ چھوٹی اتھارٹی والے کتنے ’’اتھاری ٹیٹو‘‘ ہیں اور سیکرٹری ہیلتھ سے ڈی جی ہیلتھ تک تساہل پسندی کے کتنے دلدادہ ہیں؟ ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں! ہم نے ایک ’’دوست‘‘ سیکرٹری کا جو ذکر خیر کر دیا تو اس نے خوداحتسابی یا باہمی احتساب کا دامن تھامنے یا اصلاح کرنے کی بجائے ’’احسانات‘‘ گنوانا شروع کر دیئے۔ ایسے کمال مگر مائیکرو افسران کے بھاری بھرکم اختیارات کا تذکرہ کریں تو… ہم ’’بلیک میلر‘‘۔ اگر ان کی تعریف و توصیف کریں، ان کے مخالف یا رقیب ان کی ناپسندیدہ پارٹی کی چٹکی لیں، تو ہم ہیرو اور ناصح۔ کاش تساہل پسند افسران، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو نظر آ جائے کہ ان سے لے کر، ان کے نیچے بیٹھے چند ملازمین کس قدر بلیک میلر ہیں، کیسے کیسے رشوت لیتے ہیں اور عوام کو پریشان کرتے ہیں اور ایک ایک سانس اور ایک ایک اسپرین کیلئے کتنا بلیک میل کرتے ہیں۔ ہسپتالوں میں کیسے کیسے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اور کئی جعلی ادویہ سے مر جاتے ہیں۔ افسرشاہی کو معلوم ہے کہ ایک پٹواری اور تھانے کے منشی سے لے کر سرکاری ہسپتالوں میں بیٹھے نام نہاد مسیحا، چیف ایگزیکٹو، ایم ایس وغیرہ کیسے کیسے مردہ، نیم مردہ اور بے بس لواحقین کو بلیک میل کرتے ہیں؟ جناب سلمان رفیق مجبوروں، بے کسوں اور بیماروں سے ملا کریں کہ آپ کو پتہ چلا کہ سیکرٹریٹ والوں اور ڈی جی ہیلتھ والوں کو جہاں پروٹوکول ملتا ہے وہاں سے عام آدمی کو دھکے اور غریبی کے طعنے ملتے ہیں پھر وہ گھر بیچ کر چند دنوں کیلئے زندگی خرید لیتے ہیں۔ انسان بجٹ کی مہنگائی سے نہیں مرتے سلمان رفیق جیسوں کی عدم توجہ اور عدم دلچسپی سے مرتے ہیں!!! کاش مسٹر سلمان رفیق آپ اپنے قائدین کے نقش قدم پر چلتے تساہل کی شاہراہ پر نہیں… شکر کریں میاں شہباز شریف آپ جیسے ’’برادران یوسف‘‘ کی لاج رکھ لیتے ہیں اور اپنی توجہ سے آپ کے میک اپ کر دیتے ہیں اور آپ ان میک اپ شدہ چہروں سے عوام میں جا کر جیت آتے ہیں۔ کاش ہم آرمی کے بعد سب سے بڑے محکمہ، محکمہ تعلیم اور وہ بھی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے تعلیمی سپہ سالار کا کوئی قصیدہ کہتے۔ جناب رانا مشہود کے حسن کارکردگی پر کوئی غزل چھیڑتے، کسی نغمگی اور شگفتگی کو آواز دیتے اور ان کی دلربائی کی کوئی قسمیں کھاتے۔ آہ! کاش کوئی مبارکباد انہیں بھی دیتے لیکن کہاں؟ کتنی یونیورسٹیوں سے انہوں نے اپنے ایم پی ایز کی مداخلت ختم کرائی؟ کسی شہر کی کسی بستی کے کسی سکول کو دانش سکول بنا دیا؟ ان کے ہاں کچھ دن پہلے 10 یونیورسٹیوں کیلئے وی سی سرچ کمیٹی نے جس انداز، دلچسپی، سنجیدگی و رنجیدگی سے ملک بھر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ کی تضحیک کی اس کی کوئی خصوصی رپورٹ، کوئی خط انہوں نے وزیراعلیٰ کو ارسال کیا؟ رانا صاحب! آپ کی کارکردگی سندھ کے نثار کھوڑو اور آزاد کشمیر کے مطلوب انقلابی کی سی ہے۔ کاش کے پی کے مشتاق غنی سی ہوتی تو مبارکباد دیتے۔ ریسرچ سے خالی یونیورسٹیوں، امتحانی بورڈز کے نااہل افسران، پروفیسروں سے خالی کالجوں، چار دیواری اور چھت کے بغیر سکولوں کی آنکھیں آپ کی آمد کیلئے ترس رہی ہیں! قارئین کرام! بلوچستان کے ڈاکٹر مالک، کے پی کے کے پرویز خٹک اور سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ بھی حیران ہوتے ہیں کہ شہباز شریف اپنی کمزور ٹیم کے ان کمزور کھلاڑیوں کو بھی کیسے ’’کور‘‘ ہی نہیں دیتے فاتح بھی بنا لیتے ہیں اور وزیر بھی جن کے حلقوں میں ان کا ٹماٹروں اور انڈوں کی ’’ڈش‘‘ سے استقبال ہوتا ہے۔ حال ہی میں میاں شہباز شریف نے دو نئے تجربات کئے ہیں (اللہ خیر کرے!) ایک تو انہوں نے عائشہ غوث پاشا کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا ہے۔ دوسرا رانا ثناء اللہ کو پھر سے قانون کا قلمدان ’’فراہم‘‘ کر دیا ہے۔ جانے رانا صاحب ’’حاجی ثناء اللہ‘‘ بن کر لوٹے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تعلیم، صحت اور قانون کو میاں شہباز شریف ہی چلاتے ہیں یا اس نئے مالی سال میں تساہل پسندوں اور خودپسندوں میں بھی چیتے کا جگر اور شاہین کی آنکھیں دریافت ہوتی ہیں؟ بہرحال عائشہ غوث کے حوالے سے حسن ظن قائم لیکن…! تریخ گواہ ہے کہ پی پی پی کے اعتزاز احسن، جہانگیر بدر، بابر اعوان، مخدوم شہاب، نذر محمد گوندل، قمر زمان کائرہ جیسے لوگوں میں جب خودپسندی آ گئی تھی تو پھر عوام نے ان کی بساط لپیٹ دی محض چند کو ایوان میں ’’سینٹری‘‘ کے سبب پناہ ملی اور آئندہ بھی رسک پر ہیں! آج پی پی پی پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے کا کوئی سیاسی و پارلیمانی نام و نشان نہیں ملتا۔ بلاشبہ و بلامبالغہ میاں نواز شریف کی ٹیم نے حالات و واقعات و سیاسیات سے بہت کچھ سیکھا ہے اسی لئے احسن و بلیغ، اسحاق و خرم اور سائرہ افضل تارڑ میں محنت اور حکمت کے عناصر ہیں۔ اچھی ٹیم بے جان بجٹ کو بھی جاندار کر سکتی ہے اور بری ٹیم جاندار بجٹ کو بھی بے جان بنا دیتی ہے! لیکن میاں شہباز شریف کی ٹیم کی خودپسندی اس لئے عروج پر اور محنت تساہل کی دہلیز پر ہے کہ ان کا کپتان ہر دفعہ کیپٹن اننگ کھیل کر جتوا دیتا ہے۔ شہباز شریف کی ٹیم کو چونکہ عنان اقتدار زیادہ میسر آئی ہے چنانچہ ان کے رگ و پے میں رعونیت اور خوش فہمیوں نے ڈیرے ڈال لئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی وزیر ہے وہ بلوغت کا دامن تھامے، غیرمتحرک، غیرفعال اور نااہل وزرا اپنی حکومتوں کیلئے زہر بھی ہوتے ہیں اور وجہ جگ ہنسائی بھی۔ بہرحال یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ پنجاب میں چراغ تلے اندھیرا کیوں ہے؟ کمسن، کم فہم، کم عقل اور کم علم وزراء کو کیا اب تک سمجھ نہیں آئی کہ آخر میاں شہباز شریف کو بیوروکریسی پر کیوں تکیہ اور اعتماد کرنا پڑتا ہے؟ پھر کیوں روتے ہیں جب آپ کی دال بیوروکریسی کے آگے نہیں گلتی؟ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف متذکرہ وزراء کے ساتھ بہت اچھے چل رہے ہیں۔ پنجاب کے چند وزراء اگر فرض شناسی، دانشمندی اور عوام پسندی کا مظاہرہ کریں تو مبارکوں کے مستحق یہ بھی قرار پا سکتے ہیں بصورت دیگر ’’برادران یوسف‘‘ ملک و قوم اور شرفاء کیلئے بڑی آزمائش دکھائی دے رہے ہیں!!!