القدس پر جدید ابراہہ' ٹرمپ کا کاری وار

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
القدس پر جدید ابراہہ' ٹرمپ کا کاری وار

ترک صدر اردگان کی ’سرخ لکیر‘ صدر ٹرمپ نے عبور کرلی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے ۔ ٹرمپ کہہ رہاہے تم نے جو کرنا ہے کرلو' وہ پڑی ہے تمہاری پامال شدہ سرخ لکیر۔ اگلے ہفتے مسلم دنیا کا باضابطہ ردعمل سامنے آئے گا لیکن "صفروں" کا مجموعہ اپنے دلیر اور بہادر سپہ سالار اردگان کی قیادت میں کیسے داد شجاعت دے سکے گا۔ اس بارے میں کچھ حوصلہ افزا آس امید کا سلسلہ نہیں ہوسکے گا۔ ویسے یہ تاریخ کا جبر ہے کہ امریکی قیادت میں شام کے خلاف بنایا جانے والا فوجی اتحاد تتر بتر ہو چکا ہے خون خوار داعش تباہ و برباد ہوچکی ہے۔ لاکھوں کرائے کے قاتل دربدر ہیں۔

اس عالم میں اردگان نے سارے عالم اسلام کی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے واشگاف اعلان کیا کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین اور قراردادوں کی خلاف ورزی اور انسانیت کے ضمیر پر داغ ہے۔ اوآئی سی کے صدر کی حیثیت سے پانچ سے دس روز میں استنبول میں اجلاس بلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیاامریکہ کے پاس کرنے کو اور کوئی کام نہیں؟کیا امریکہ نے داعش کا خاتمہ کرلیا ہے؟اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کرپشن سکینڈل میں اپنے عوام کے احتجاج کا سامنا ہے۔ اردگان واحد مسلم رہنما ہیں جنہوں نے عزم وہمت سے اس معاملے میں پیچھے نہ ہٹنے اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔
ٹرمپ کہتا ہے کہ امریکا دو دہائیوں تک یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے گریز کرتا رہا۔ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ تل ابیت سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے بہت انتظار کرلیا لیکن اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے کوئی آثار نظرنہیں آتے اس لئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا OIC ' عرب لیگ یا جنرل راحیل شریف کی قیادت میں 40 مسلم ممالک کا فوجی اتحاد امریکہ یااسرائیل کا راستہ روک سکے گا؟ دہشت گردی کے خلاف تشکیل دیا جانے والا اور عرب یا مسلم نیٹو کہلانے والا یہ اتحاد اصل میں ایران کی راہ روکنے اور یمن میں جارحانہ جنگ جیتنے کے لئے بنایا گیا تھا لیکن پاکستان کی موجودگی نے امریکی حاشیہ برداروں کے اس اتحاد کو توازن بخشا ہے اور کسی قسم کی مہم جوئی سے باز رکھا ۔ ویسے بھی اتحاد میں ایران،شام اورعراق کی عدم موجودگی میں یہ فرقہ وارانہ فوجی اتحاد ہے اور رہے گا۔
ٹرمپ نے عالمی امن کو تباہ کرنے والا جن بوتل سے باہر نکال دیا ہے۔ اس کا تازہ وار ایک تیر سے دو شکار کرنے کی حکمت عملی پر ہے۔ ایک طرف وہ مسیحی انتہاپسندوں کو خوش کرنا چاہتا ہے تو دوسری جانب قدامت پسند صہیونیوں کے دل جیتنا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا فیصلہ کرانے کے لئے ایک پاگل یا فاترالعقل آدمی کی ضرورت تھی۔ جو عالمی شاطروں نے ٹرمپ کی صورت میں ڈھونڈ نکالا۔ اس فیصلہ پر سابق صدور کلنٹن، بش اور باراک اوبامہ بھی عمل کرنا چاہتے تھے لیکن اس پر عملدرآمد کرنے کی ان میں ہمت نہ تھی اور نہ ہی اعلان کرنے کا دل گردہ رکھتے تھے۔ یہ سیاہ بختی ٹرمپ کے حصے میں آئی ہے۔ یہودی داماد رکھنے والے ٹرمپ کے اس اقدام کی ایک دلیل یہ بھی تراشی جارہی ہے کہ اس طرح امریکی صدر کے طورپر وہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان اس لاینحل مسئلہ کا کوئی حل نکالنے کی قوت حاصل کرلے گا۔
صورتحال کو اعصابی تنائو کی معراج تک لیجاکر وہ فریقین کو شرائط پر رضامند کرنے کا حتمی پتہ کھیلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اب امریکہ ثالث نہیں رہا فریق بن چکا ہے ۔اسرائیل میں خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں۔ اسرائیل اس احسان کے جواب میں ٹرمپ کی پذیرائی بڑھانے میں اہم کردارادا کرے گا اور اسرائیلی قدامت پسندوں کی تمام تر ہمدردیاں امریکی صدر کے ساتھ ہوں گی۔ اس کے علاوہ فلسطین اور عرب دنیا کے ساتھ ’ڈیل‘ کرنے کی بہترین پوزیشن بھی اسے حاصل ہوجائے گی۔ ایک نہایت اہم پہلو مالیات سے جڑا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے اور ان کا انتظام چلانے والے ساہوکار ٹرمپ کے لئے نرم گوشہ رکھیں گے۔ جوئے کے اڈے چلانے والے شیلڈن ایڈلسن کی طرح کے مالیاتی دیو ٹرمپ کے گرویدہ ہوجائیں گے۔ ان پر واضح ہوگیا کہ ٹرمپ نے ان سے کیاوعدہ پورا کردکھایا۔ صدر ٹرمپ کے اقدام نے امریکی انتظامیہ کے حکام کی ’بولتی بند‘ کردی ہے۔
جارڈ کوشنر ٹرمپ کا یہودی داماد ہے جس کے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ ۔ ان دونوں کا یہ اتفاق ہے کہ مسئلہ کا آئوٹ آف باکس‘ حل تلاش کیاجائے۔ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ سعودی عرب تمام عرب دنیا کی حمایت جارڈ کوشنر کے مرتب کردہ منصوبہ کی حمایت کو یقینی بنائے گا۔
متحدہ عرب امارات کا ولی عہد شہزادہ محمد بن زید بھی شہزادہ محمد والا کردار ادا کررہا ہے اور مصر کے فرعون جدید آمر جنرل السیسی کے ذریعے فلسطینی گروہوں اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی الفتح تحریک اور حماس کے درمیان مفاہمتی بلاک بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔حماس غزہ کی پٹی پر کنٹرول رکھتی ہے۔ ٹرمپ کا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اس نظریہ کی تردید ہے جس کے تحت مشرقی یروشلم فلسطین اور مغربی یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت قرار پائے۔ اس نظریہ کا مقصد یہ تھا کہ اس شہر انبیا کو دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہونے کی حیثیت دے دی جائے۔
شہزادہ محمد نے محمود عباس کے گزشتہ ماہ سعودی عرب کے دورہ کے دوران جارڈ کوشنر کے منصوبہ سے آگاہ کیا۔ سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ شہزادہ محمد کا رجحان اسرائیل کی طرف زیادہ ہے جس کااظہار محمود عباس کے پراسرار دورہ سعودی عرب کے دوران ہونے والی گفتگو کے دوران ہوا۔ وہ کچھ ایسا نظریہ منوانے کی کوشش میں دکھائی دیتے ہیں جو کسی بھی فلسطینی رہنما کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اس منصوبہ کے تحت رقبہ اور اختیار دونوں محدود ہوں گے اور فسلطینی جائے ماندن ، نہ پائے رفتن کی مثال بن جائیں گے۔
اس منصوبہ کے تحت مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کو نہیں چھیڑا جائے گا جس کی پوری دنیامخالفت کرتی اور تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ مشرقی یروشلم کے حصے سے بھی انہیں دستبردار ہونا پڑے گا۔ 1948 اور1967 کی جنگوں میں جو فلسطینی اور اسرائیلی ہجرت کرگئے تھے، ان کی واپسی کے حق سے دستبرداری بھی اس ’شاندارمنصوبہ‘ کی ایک شرط بتائی جارہی ہے۔