کیا عمران خان وزیر اعظم بن پائیں گے

کیا عمران خان وزیر اعظم بن پائیں گے

اس میں شک نہیں کہ عمران خان نے سیاست میں قابل رشک محنت کی ہے۔ کوئی سیاسی پس منظر نہ ہونے کے باوجود جو سیاسی حیثیت انہوں نے بنا لی ہے وہ لائق تحسین بھی ہے۔ مگر سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان کا مقابلہ ’’سیاسی جن ‘‘سے ہے۔ میاں محمد نواز شریف بے حد مقبول سیاستدان ہیں۔ انہوں نے سیاست میں شرافت اور ادب و آداب کا بہت خیال رکھا ہے۔ انہوں نے کبھی یہ گفتگو نہیں کی کہ اوئے عمران ، اوئے مشرف یا اوئے زرداری…

انہوں نے ملک میں اور خاص طور پر پنجاب اور لاہور میں ’’بڑے کام کئے ہیں‘‘ عمران خان کے الزامات نے جناب نواز شریف کو ایک حد تک متنازعہ ضرور بنایا ہے مگر بے اقتدار ہونے کے بعد وہ نفرت تقریبایباً ختم ہو گئی ہے جو عوام کو نفسیاتی طور پر حکمرانوں سے ہوتی ہے بلکہ مظلومیت اور ہمدردی کا ووٹ بھی انکے ساتھ ہے، اب عمران کا مقابلہ مظلوم نواز شریف سے ہے۔بیشک ایک عدالتی کارروائی کے ذریعے عمران خان ،جناب نواز شریف کو نا اہل قرار دلوانے میں کامیاب ہوئے ہیں مگر فیصلہ آنے کے بعد کئی سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ کیا عدالت کو Jurisdictionتھی کیا، Petitionکی Maintabiltyکا سوال نہیں تھا۔ اس حوالے سے نواز شریف سے تحریر کا حصول کس حد تک قانونی عمل تھا اس کا فیصلہ تاریخ کریگی۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ معزز اور محترم ججوں نے تیسری بار منتخب وزیر اعظم کو بے اقتدار کر دیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تنقید کے باوجود نواز شریف نے فیصلے پر مکمل عمل کیا ہے۔فیصلے کے حصول سے یہ آسانی ضرور ہوئی کہ اب عمران خان اپنے حریف سیاستدان کو ’’ڈاکو‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں ، گاڈ فادر اور مافیا کہتے ہیں، مگر انتخابات کے بغیر عمران خان کا اقتدار میں آنا محال بلکہ نا ممکن ہے۔
ہم سر سری طور پر الیکشن کے نتائج کے حوالے سے گزارش کرینگے ۔ سندھ میں شاید کراچی میں عمران خان/ 2 سیٹیں حاصل کر لیں، وہ بھی کراچی کا اعتماد جو اس نے تھوڑا بہت عمران خان پر کیا تھا بحال ہو گیا، اس دوران یعنی 2013ء کے بعد تو کراچی میں عمران خان یا تحریک انصاف کی کوئی کارکردگی رہی بھی نہیں ہے۔ یہ خیال خام ہے کہ محض 3,2 جلسے کرنے سے اندرون سندھ عمران خان سندھ کو فتح کر لیں گے۔ سندھ میں وہ تقریباً ناکام ہونگے۔ بلوچستان کی بھی یہی صورتحال ہو گی۔ PKPمیں اب MLN ,ANP ,JUIاورPP پہلے کی طرح غافل نہیں ہیں سخت مقابلہ ہو گا اور تحریک انصاف کی نشستیں پہلے سے کم ہوں گی۔
اصل میدان جنگ پنجاب ہے، جہاں نواز شریف کی مقبولیت عمران خان سے کہیں زیادہ ہے۔ عمران خان نے ایک ایک بار کسی شہر کا چکر لگا بھی لیا ہے تو وہاں سیٹیں محض اس بناء پر حاصل نہیں ہوں گی۔کسی اور سیاسی جماعت سے عمران خان کا اتحاد بھی نہیں ہے۔ بہت ہو سکا تو وہ پنجاب سے زیادہ سے زیادہ 40سیٹیں حاصل کر پائیں گے۔
عمران خان کو پتہ نہیں ہے کہ جیل اور سزا لیڈر کی مقبولیت گھٹا بھی سکتی ہے اور بڑھا بھی دیتی ہے۔ یہ دو دھاری تلوار ہے۔ کیا پھانسی سے بڑی بھی کوئی سزا ہوتی ہے؟ بھٹو کو تو پھانسی ہو گئی مگر آج بھی PPاس بڑی سزا کو یہی کیش کر ا رہی ہے۔ انتخابی سیاست کے حوالے سے بھی عمران خان نعرہ بازی اور جلسوں کے باوجود نواز شریف سے پیچھے رہ جائیں گے۔جس جمہوریت پر ہم یقین رکھتے ہیں وہ مغربی جمہوریت ہے۔ جہاں ’’ذاتی زندگی‘‘ پر سوالات لازم ہیں، یہ تو یہاں کا کلچر اینکر پرسنز نے بنا دیا ہے کہ ذاتی بات ہے متوقع وزیر اعظم کی ذاتی زندگی کیسی ہے سٹیبلشمنٹ سو بار اس موضوع پر غور کریگی۔ کرکٹ کے دوران سیاست کے دوران لیڈر بن جانے کے بعد ایک خاتون MNA شور کرتی پھر رہی ہیں ریحام خان کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہو سکتا ہے۔ الیکشن ابھی دور ہے ، وزیر اعظم بن جانے سے پہلے یہ ’د کالی گھٹائیں ‘‘ عمران کو سونے نہیں دیں گی۔ 2018کا آغاز ممکن ہے کہ ایک بڑے طوفان کی صورت میں ہو ۔پھر پاکستان کی سیاست میں خود سیاستدانوں کے طرز عمل کی وجہ سے اور خاص طور پر بھارت کے گھیر ائو اور افغانستان کے معاملات علاقے میں امریکہ روس اور چین سمیت بڑی طاقتوں کی دلچسپی کی وجہ سے سٹیبلشمنٹ کا بڑا Roleہے۔ جو ایک حد تک ناگزیر بھی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ Roleپر ملک میں ہوتا ہے۔ بڑے سے بڑے جمہوری ملکوں میں بھی جہاں سٹیبلشمنٹ سلامتی کے معاملات سے کبھی لا تعلق نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے وزیر اعظم بننے کے امیدوار لیڈر کے ’’ معمولات ‘‘ مصروفیات کے علاوہ اس کا ذاتی مزاج بھی لازم و ملزوم ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جناب نواز شریف ’’بالغ نظر‘‘ اور ’’بردبار‘‘ ہوتے چلے گئے ۔ وہ ایک مدبر وزیر اعظم رہے۔
عمران خان کے ’’ temper‘‘ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مگر ہم اس پہلو پر زیادہ ’’ رائے زنی‘‘ سے گریز کریں گے۔ سٹیبلشمنٹ میں بڑے دانشمند ہوش مند ،مدبر ٹھنڈے مزاج کے دور اندیش اصحاب موجود ہیں۔ ہمیں اپنی عسکری قیادت پر فخر ہے۔ میاں نواز شریف نے اردگرد کے مشکل ترین حالات کے پیش نظر وزیر خارجہ نہیں بنایا اور یہ معاملات حالات کے تحت سٹیبلشمنٹ پر چھوڑ دئیے۔ اتنی احتیاط کے باوجود نواز شریف دو وزیروں کی بے دخلی کے باوجود ، ایک مشیر کی قربانی کے باوجود سازش کا شکار ہو گئے۔
اول تو الیکشن میں ہی عمران خان کی ملک گیر کامیابی اور خاص طور پر پنجاب میں نشستوں کی برتری کا حصول ہمیں نا ممکن نظر آتا ہے۔ پھر عمران خان کا ماضی بھی رکاوٹ بنے گا۔ آخری امتحان سٹیبلشمنٹ لے گی کیا انہیں پاکستان میں ایک ٹرمپ ، قبول ہے؟ ہمارے ایمان کے مطابق تقدیر بھی اہم فیصلے صادر کرتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ تقدیر نواز شریف یا عمران خان کو وزیر اعظم بناتی ہے مریم نواز یا شاہ محمود کو؟