گھمبیر ملکی حالات اور پنجاب کی تقسیم کا شوشہ

گھمبیر ملکی حالات اور پنجاب کی تقسیم کا شوشہ

اس میں شائد ہی کسی ذی ہوش انسان کو شک ہو کہ ملک اس وقت معاشی بدحالی سے نڈھال اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے رینگتے اور کراہتے ہوئے گذرنے کی کوشش میں ہے۔ ہمارے شیعہ بھائیوں کو بے رحمی سے قتل اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہمارے فوجیوں کو بے دردی سے ذبح کیا جا رہا ہے۔ حساس ترین دفاعی تنصیبات پر حملے ہو رہے ہیں اور مستقبل قریب میں مزید ایسے حملوں کا مژدہ قوم کو سنایا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین سر پکڑے بیٹھے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ شائد پاکستان دشمن قوتیں بھی ہمیں تاریخ کے ایسے تکلیف دہ موڑ پر نہ لا سکتیں جس پر آج ہمیں ہماری نا اہل معاشی ٹیم اور کرپٹ سیاسی قیادت نے لا کھڑا کیا ہے۔ حکومت سے باہر سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سوچ کر ٹھنڈے پسینے آ رہے ہیں کہ اگر اُن کو عوام اقتدار میں لے آئے تو وہ ملک کو اس معاشی، مالیاتی اوراخلاقی تباہی کے گڑھے سے کیسے نکالےں گے؟ اس صورتحال پر ہر محب وطن پاکستانی متفکر ہے اور وہ سوچتا ہے کہ کیا ان دگر گوں حالات میں جہاں قومی سلامتی حقیقتاً داﺅ پر لگی ہوئی ہے، ہماری ترجیحات میں سے پہلی ترجیح نئے صوبے بنانا ہونی چاہئے؟ خصوصاً ایسے وقت جبکہ حکمران اپنے اقتدار کی مدت بھی پوری کر رہے ہیں اور نئے انتخابات کا بگل بھی بجنے والا ہے۔ ایسی صورتحال میں کیا ہماری توجہ انتخابات کے فوری انعقاد ، غیر جانبدار عبوری حکومت کے قیام اور معاشیSlide backکو فوراً روکنے کی حکمتِ عملی کو وضع کرنے پر مرکوز نہیں ہونی چاہےے؟
یہ بات تو بالکل ٹھیک ہے کہ پچھلے 65 سال میں آبادی میں اضافے کی وجہ سے نئی تحصیلیں بنیں، بہت سی تحصیلوں کو ضلعوں کا درجہ ملا اور نئے ڈویژن بھی وجود میں آئے لیکن نئے صوبوں کو بنانے کی طرف، جنوبی پنجاب کے طویل مدت تک برسر اقتدار رہنے والے وڈیروں سمیت، کسی نے بھی دھیان نہیں دیا اس لئے قومی انتخابات کے بعد ہمیں ضرورقومی سطح پر اس مسئلے کو غیر سیاسی انداز میں حل کرنا چاہےے۔ لیکن یہ یاد رکھا جائے کہ لسانی یا نسلی بنیادوں پر ایک نظریاتی ریاست کی تقسیم ہمارے پاکستانیت کے تصور پر بھی ایک کاری ضرب لگا سکتی ہے ۔ تقسیم کے مقاصدصرف اورصرف بہتر ین حکمرانی ، اعلیٰ انتظامی معیار اور معاشی خوشحالی تک محدود رہنے چاہئیں، جس کےلئے پہلے ٹیکنو کریٹ اور ماہرین کا ایک کمیشن ملکی سطح پر اس مسئلے پر غور وغوض کرے ،اسکے بعد جیسے سترہویں ،اٹھارویں، اُنیسویں اور بیسویں آئینی ترامیم اور این ایف سی ایوارڈ پر سب جماعتوں نے جیسے پہلے اتفاق کیا ،ایسے ہونا ضروری ہے۔ ہندوستان میں دسمبر1953ءمیں نئے صوبے بنانے کی غرض سے پیشہ ور غیر سیاسی لوگوں کا نیشنل ری آرگنائزیشن کمیشن بناد یا گیا جو30 ستمبر 1955ءتک سوچ و بچار کرتا رہا۔ پھر قومی مناظرے ہوئے اور نئے صوبوں کی دو بڑی وجوہات سامنے آئیں:ایک تو یہ کہ1947ءکے بعد مختلف آزاد ریاستوں کو ہڑپ کرنے کی وجہ سے ہندوستان کے حجم میں تقریباً ایک تہائی کا اضافہ ہوچکا تھا، دوسرا یہ کہ آبادی بھی ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ سکھ اپنے صوبے کا نام پختون خواہ کی طرح خالصتان یا سکھستان رکھنا چاہتے تھے لیکن اس طرح کی نسلی بنیادوں پر تفریق کو اہل بصیرت اور محب وطن ہندوستانی قیادت نے ملکی مفادات کےخلاف سمجھا اور یہ مطالبہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ ساتھ ہی پنجاب ری آرگنائزیشن کمیشن کی سفارش پر ایک ایکٹ کے ذریعے یکم نومبر 1996ءکو پنجاب صوبے کو توڑ کر آبادی کو صوبہ پنجاب، ہریانہ اور ہما چل پردیش میں تقسیم کر دیا ۔
ہماری بیماری اس دن سے شروع ہو گئی جس دن سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے حکمران اتحاد نے صوبہ سرحد کا نام نسلی بنیادوں پر صرف خیبر کی بجائے خیبر پختون خواہ رکھوا لیا۔ اسی دن ہزارہ میں آگ بھڑک اٹھی اورپھر پر تشدد واقعات کے بعد بارہ لوگ جاں بحق بھی ہوگئے اور ساتھ ہی پاکستان کے دوسرے حصوں میںنئے صوبوں کے مطالبات بھی سامنے آنے لگے جن میں پختون خواہ میں ہزارہ اور قبائلی صوبے کے علاوہ بلوچستان میں پشتون صوبے اور سندھ اور پنجاب میں نئے صوبوں کی بات سامنے آنے لگی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے اپنا اُردو صوبہ بنوانے کی راہ ہموار کر نے کیلئے ہزارہ اور سرائیکی صوبے بنانے کا نہ صرف شوشہ چھوڑا بلکہ اس سلسلے میں اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پیش کردی۔ اس وقت پنجاب کی تقسیم کا مسئلہ اٹھانے کے مقاصد مندرجہ ذیل بتائے جاتے ہیں ۔
(۱)پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طاقت کو توڑنا (۲) گھمبیر معاشی حالات ، کمزور حکمرانی، ہر کسی کے جان و مال کو خطرات اور مہنگائی کے مسائل سے توجہ ہٹانا(۳) سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے جنوبی پنجاب کے عوام کو مسلم لیگ ن سے بدزن کرنا(۴) جنوبی پنجاب میں وڈیروں اورجاگیر داروں کی گدیاں قائم کرنے کی راہ ہموار کرنا۔
قارئین! پہلی ترجیح بڑے سے بڑے صوبے میں بھی عوامی مسائل حل کرنے کی ہونی چاہئے۔ بھارت کے صوبے اتر پردیش کی آبادی یکم مارچ 2001ءکی مردم شماری کے مطابق19.9کروڑ نفوس پر مشتمل تھی جو موجودہ پاکستان کی آبادی سے بھی زیادہ ہے ۔وہاں آج سے دس سال قبل ایک مربع کلومیٹر میں 828لوگ رہ رہے تھے ، اب حالات مزید مخدوش ہو چکے ہونگے۔ کینیڈا کے صوبے (Quebec) کیوبک کا علاقہ تقریباًفرانس، جرمنی اور سپین کے مجموعی علاقوں سے کچھ ہی کم ہے ، اسکے اندر شمال سے مزید علاقے بھی شامل کئے گئے ہیں لیکن صوبہ تقسیم نہیں ہوا۔ یوگو سلاویہ میں سارے صوبے نسلی بنیادوں پر بنے اور پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ یہ عظیم ملک ہاﺅس آف کارڈز کی طرح گر گیا۔ نئے صوبے ہمیں ضرور بنانے چاہئیں لیکن صرف قومی اتفاق رائے سے اور بالکل غیر سیاسی سوچ اور انداز کے ساتھ۔ کالا باغ ڈیم ایک اہم ترین قومی معاشی منصوبہ ہے، اُس کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھانے والوں نے پسِ پشت ڈلوا کر اپنی مادرِ وطن سے کوئی بھلا نہیں کیا ۔ اب صوبوں کی تشکیل نو میں سیاست لا کر نہ صرف حکمران سیاسی اتحاد نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کے ساتھ زیادتی کی بلکہ ابتر اندرونی حالات کی فضا میں ایک اور نفرت بھرا دانہ پھینک کر قومی سلامتی کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی کوشش کی۔ چھوٹے صوبوں میں تقسیم صرف انتظامی اور معاشی بنیادوں پر کرنا ضروری ہے لیکن اس کےلئے مندرجہ ذیل شرائط ہونی چاہئیں۔(۱) نئے صوبے بنانے سے پہلے ملک سے جاگیر داری نظام کا خاتمہ ہو تاکہ ان نئے صوبوں کو جاگیردار اپنی بادشاہتیں نہ بنا لیں۔ (۲)نئے صوبوں کا انتظامی ڈھانچہ ایسے ہو جیسے ترکی، ایران، افغانستان یا فرانس وغیر ہ میں ہے۔ جہاں اخراجات بچانے کیلئے کوئی وزیراعلیٰ ہے نہ کابینہ بلکہ صرف ایک گورنر یا ایڈ منسٹر یٹر محدود سٹاف کے ساتھ انتظامی امور چلاتے ہیں۔(۳) صوبے بنانے کا کام خالصتاً غیر سیاسی ، غیر جانبدار اور پیشہ ور لوگوں کے ہاتھوں میں دیا جائے جوایوانِ بالا میں نمائندگی کے اصولوں کے علاوہ انتظامی، معاشی، پانی، بجلی، پولیس، معدنی و مالی وسائل ، ذرائع رسل و رسائل اور سیکورٹی کے امور کو غور سے دیکھیں۔ا س کے بعد قومی سطح پر مناظرے ہوں پھر یہ معاملہ اسمبلیوں میں زیر بحث لایا جائے اوراسے دو تہائی اکثریت سے منظور کروایا جائے۔ اس وقت سینٹ میں ہر صوبے کی بائیس نشستیں ہیں اگر پنجاب کو تین ، خیبر پختون خواہ کو دو صوبوں میں تقسیم کرکے بلتستان کو بھی ایوانِ بالا میں مساوی نمائندگی دیں تو بلوچستان اور سندھ کی سینٹ کی نشستیں بائیس سے کم ہوکے صرف گیارہ رہ جائیں گی جس پر وہ یقینااحتجاج کرینگے۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ لسانی بنیادوں پر اگر سرائیکی صوبہ کھڑا کیا گیا تو اس میں تو میانوالی، پاکپتن، بنوں، ٹانک سے لےکر ڈیرہ اسماعیل خان تک کے علاقے شامل ہونا چاہئیں گے پھر ہندکو، پشتو، پوٹھواری، اُردو، پنجابی، سندھی اور بلوچی بولنے والے بھی صوبوں کا مطالبہ کر سکتےءہیں۔ اسی طرح خیر پور، نواب شاہ، سانگڑ، کاشمور اور تھرپارکر میں رہنے والے ہمارے سندھی بھائی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُن کےلئے کراچی جانا آسان نہیں، اسی طرح بلوچستان علاقے کے لحاظ سے صوبہ پنجاب سے بھی بڑا ہے ،اس لئے تربت، گوادر اور خضدار میں رہنے والے ہمارے بلوچی بھائی یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ اُن کےلئے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ آنا بھی آسان نہیں چونکہ گوادر بذریعہ سڑک کوئٹہ سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور ہے۔ (۴) میری دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ ٹیکنیکل پیشہ ور اور غیر سیاسی ماہرین پر مشتمل کمیشن کاقیام ہمیں غیر جانبدار عبوری یا بعد میں آنےوالی منتخب حکومت پر چھوڑ دینا چاہےے جسکی سفارشات کی بنیاد پر آنےوالی منتخب اسمبلیاں فیصلہ کر سکتی ہیں۔ (۵) پاکستان میں صوبوں کی تشکیل کےساتھ کالا باغ ڈیم سمیت آبی ذخیروں کو بنانے کے مسئلے کوبھی نتھی کر دیا جائے تاکہ خالصتاً اس تکنیکی منصوبے پر بھی کوئی سیاسی بلیک میلنگ سے ہٹ کر غیر جانبدارانہ اور دیانت دارانہ سفارشات قوم کے سامنے آ سکیں۔آخر میں سیاسی قیادت سے یہ استدعا کہ خدا کیلئے اس ملک پر رحم کیا جائے ، سیاست ضرور کریں لیکن قومی سلامتی کے اہم اور حساس ترین معاملات کو سیاست سے الگ رکھیں کیونکہ سیاسی جماعتوں کاوجود پاکستان کی بقا سے وابستہ ہے۔