دفعہ 2۔ الف اور گورنر پنجاب کی منطق

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
دفعہ 2۔ الف اور گورنر پنجاب کی منطق

وطن کی روز مرہ کی صورتحال پر اہل وطن اپنے اپنے خلوص اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق اصلاح احوال کی تجاویز دیتے ہیں۔ کچھ لوگ پوری طرح سے باخبر ہیں اور کچھ لوگ پوری طرح سے بے خبر ہیں۔ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو نہ پوری طرح سے باخبر ہے اور نہ ہی پوری طرح سے بے خبر ہے۔ ان میں سے کچھ حالات کے مارے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو بدنیتی کا شکار ہیں۔ ان کا شعور ان کی ذات اور مفادات تک محدود رہے اور وہ لوگ پوری قوت سے ملک و سلطنت کو اپنی مرضی کی ڈگر پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔یہ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد فطرت کو للکارتے ہیں اور اپنی مادی زندگی کو سنوارتے ہیں بظاہر وہ دانشور اور دانش پسند ہیں لیکن صحیفہ و فطرت نے برملا ان لوگوں کو:
”خبردار یہی لوگ بے وقوف ہیں“ کہہ کر فساد آدمیت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کچھ اصطلاحات ہیں، علمی ہیں، سیاسی ہیں، حادثاتی ہیں یا آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے جادوئی لفظ قرار دے لیجئے۔ ان میں سے ایک اصطلاح سیکولر ازم ہے۔ یہ اصطلاح انسانیت کی بربادی کیلئے ایک خفیہ ابلیسی کوڈ ہے جو عموماً ظلم وتعدی کی سیاسی حفاظت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کی جدید توضیحات کیلئے سیاسیات کے مضمون میں نئے ابواب شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ لفظ و اصطلاع دور جدید میں منافقت، مداہنت اور مکارانہ ظلم کے معانی کو بیان کرتی ہے۔ حق، حقیقت، حقانیت اور حقوق کو پامال کرنے کیلئے اس اصطلاح کا سہارا لیا جاتا ہے اور انسانوں کو حیوانوں کی ڈگر پر چلانے کیلئے افراد اور ریاست اس اصطلاح کا سہارا لیتے ہیں۔ پاکستان میں اس اصطلاح کی درآمد کافی عرصے سے اہل قلم اور اہل بیان کے دماغوں میں اتاری جا رہی ہے اور اب تو ذمہ داران مملکت بھی اپنے ضمیر میں اس اصطلاح کو تلاش کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک عجیب سا مسئلہ اٹھا اور اس مسئلے کی نوعیت و حقیقت پر غور کیے بغیر کچھ انجانے اور جانے لوگوں، گروہوں اور زبان درازوں نے سیکولر سوچ کو مذہبی نقاب اوڑھا کر عام کرنے کی کوشش کی بلکہ اسلام کی روح عظمت مصطفی کے خورشید تاباں کو گہنانے کی بدنیت کوشش کی ہے۔ پاکستان کا سیاسی مزاج کبھی بھی اقلیت کش نہیں رہا جبکہ بھارت کا سیاسی، ریاستی اور مذہبی جنون اس کے برعکس ہے۔ پاکستان میں اقلیتیں نہایت سکون اور عزت سے زندگی بسر کر رہی ہیں۔ اس کا اعتراف مختلف اقلیتوں کے راہنما وقتاً فوقتاً اپنے بیانات میں کرتے رہتے ہیں لیکن پاکستان کے دوست نما دشمن جن کی ذہنی آبیاری چند ٹکوں کے عوض یہودی اور ہندو لابی کرتی ہے وہ ہمہ وقت اقلیتوں کا درد لیے اسلام اور پاکستان کو کوستے رہتے ہیں وہ ہمدرد نہیں بلکہ ہم غرض ہیں۔اس درد افزائی کا مظہر یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے قانون سے تحفظ عظمت رسالت کی شق کو کسی طرح سے ختم کروا دیا جائے۔
توہین قرآن اور دیگر مذہبی شعائر و جذبات کی توہین کے قوانین کو توہین رسالت کے قانون کے ساتھ ملا کر توہین رسالت کے قانون کی شقوں کو گڈ مڈ کرکے اس قانون کے خاتمے کیلئے بے راہ روقلم اوربے بصیرت زبانیں دلخراش انداز سے تنقید پر اتر آتی ہیں اور گستاخان رسول کے تحفظ کیلئے لاقانونیت اور عدم اخلاق کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس مہم میں قانون اور غیر قانونی حلقے برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ راقم نے اپنے کئی کالموں میں یہ گزارزش کی تھی کہ اگر 295C کا غلط استعمال کرنے والے شخص کی بدنیتی کا سراغ مل جائے تو وہ شخص خود بھی مجرم قرار پائے گا اور سزا کا مستوجب ہو گا۔
دنیا بھر کے قوانین میں سخت سے سخت تعزیریں اور سزائیں موجود ہیں لیکن لوگ اسکے باوجود اپنے مکروفریب کا سہارا لیکر قانون کی زد سے بچ جاتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے ایسے نظائر اور مثالیں موجود ہیں کہ لوگوں نے دن دیہاڑے اجتماعی قتل کیے اور لوگوں نے اس فعل کو کھلی آنکھوں سے دیکھا، مقدمے چلے، عدالتی کاروائیاں ہوئیں لیکن سزا کے عمل تک بات نہ پہنچ سکی۔ تو کیا آپ ایسے عالم میں قتل کی دفعات کو قانون کی کتاب سے خارج کروا دیں گے سچے جھوٹے الزامات کو تحقیق و تفتیش کے ایمان دارانہ مراحل سے گزارنا نیک نیت اور نیک عمل والے لوگوں کا کام ہے تاکہ خاموش قانون کو متحرک اور درست راستے پر گامزن کیا جا سکے نہ کہ قانون کو بنیاد ہی سے ختم کر دیا جائے۔ دانش مند کہتے ہیں کہ اگر ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو عقل مند مکھی کو اڑانے کی تدبیر کرتے ہیں اور مورکھ اپنی ناک کو کوستے ہیں۔ کچھ لوگ تو الفاظ و خیالات کی بھمبھیریاں اڑاتے ہیں اور اسے خوبصورت تتلی قرار دینے پر تلے رہتے ہیں، بالکل اسی طرح شہرت کے نشہ باز جب چینلز پر گفتگوکرنے آتے ہیں تو وہ اپنی بدنام شہرت کو مزید بڑھانے کیلئے جو اول فول کہتے رہتے ہیں اس سے ان کا نشہ شہرت تو سرآتشہ ہو جاتا ہے لیکن قوم و ملت کیلئے ننگ و عار کا میدان لگتا ہے۔
حیرت ان دینی و مذہبی حلقوں پر جو 295C کی قانونی شق پر حملہ آور لوگوں اور انکی بے دین سرگرمیوں پر خاموش رہتے ہیں اور اپنے فرائض سے بے خبر رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ سے الیکٹرونک میڈیا پر مگر مچھ کے آنسو بہانے والوں اہل ایمان کی غیرت کو مسلسل للکارے رکھا مگر جواب میں خاموشی اور سناٹا ہی نظر آیا۔ قانون کی شقیں تو تنقید کی بے رحم موجوں کی زد میں رہیں تو رہیں اسکے ساتھ ساتھ ظلم پر ظلم یہ کہ گورنر پنجاب نے آئین کی کتاب پر حرف تنقید اٹھایا کہ قرار داد مقاصد کی روح 2A کو آئین سے نکال کر باہر کیا جائے۔ آئین کی یہ شق قرآن و سنت کی بالا دستی کی ضمانت ہے۔ پاکستان کا نظریہ قیام اپنی اساس میں:
 اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
کی روح لیے ہوئے ہے اگر آپ آئین پاکستان سے نظریاتی و فکری بنیاد کو ختم کر دینگے تو کل ایک اور ظالمانہ ترمیم کے ذریعے پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ختم کر دیا جائےگا اور پھر سیکولر پاکستان ہو گا۔ مادر پدر آزادی، مذہب بیزار ماحول اور حیوان پرور معاشرے کی داغ بیل ڈال دی جائےگی۔ اسلام اور پاکستان اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو جائےگا۔ روس کے خواب پورے ہونگے امریکہ کی تمنائیں بر آئیں گی اور بھارت کی بالا دستی کا دور آ جائےگا۔ خون مسلم ارزاں ہو گا۔ عصمت نسواں برسربازار ہو گی غیرت و حمیت کے جنازے کو کاندھے دینے کیلئے کوئی فرد بھی ڈھونڈھے سے نہ ملے گا۔ خدا کرے ایسا نہ ہو، ہم تہہ خاک چلے جائیں یا ہمارے حواس معطل ہو جائیں ہم یہ سب نہ دیکھ سکیں۔فطرت کی تعزیریں اگرچہ سخت ہیں لیکن در توبہ ابھی تو بند نہیں ہوا۔ اذان کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ رحمت کی بدلیاں اب بھی خال خال تیر رہی ہیں توبہ کرنے والوں کو ڈھونڈ رہی ہیں کہ کوئی تو در رحمت پر دستک دے۔....
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں