میاں نواز شریف قائداعظم کی پیروی کریں

کالم نگار  |  قیوم نظامی
میاں نواز شریف قائداعظم کی پیروی کریں

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اپنے قریبی رفقاءکی عزت نفس اور وقار کا بہت خیال رکھتے تھے۔ لیاقت علی خان کے ساتھ ان کا تعلق خوشگوار اور باہمی احترام کارہا البتہ قیام پاکستان کے بعد مادر ملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت کے درمیان کشیدگی کی بناءپر دونوں لیڈروں کے درمیان غلط فہمی پیدا ہوگئی۔ لیاقت علی خان نے 27 دسمبر 1947ءکو قائداعظم کے نام ذاتی اور خفیہ خط لکھا جو جناح پیپرز میں محفوظ ہے۔
”میرے پیارے قائداعظم !میری بیگم نے مجھے وہ باتیں بتائی ہیں جو آپ نے گزشتہ شب ڈنر پر اس سے کیں۔ مجھے یہ جان کردکھ ہوا کہ اس نے نامعلوم وجوہات کی بناءپر آپ کی ناراضگی مول لی۔ ممکن حد تک وہ کوئی ایسی بات نہیں کرسکتی کہ آپ کی شدید تنقید کی مستحق ہو اور آپ اسے یہاں تک کہہ دیں کہ اس کی اصلاح ممکن نہیں اور وہ اپنی قبر کھود رہی ہے۔ گزشتہ بارہ سال سے مجھے آپ کے ساتھ کام کرنے اور قربت کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ ہم دونوں آپ کا انتہائی احترام کرتے ہیں میری بیگم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہے اور نہ ہی ایسا کوئی کام کرے جس سے ہمارا نصب العین مجروح ہو جو ہم سب کے لیے بڑا عزیز ہے بلکہ اس نے پوری کوشش کی ہے کہ وہ اسلامی اصولوں کی تعمیل کرے اور جب ایمر جینسی کی صورتحال پیدا ہوئی اس نے مدد کے لیے برضا و رغبت وہ سب کچھ کیا جو اس کے بس میں تھا۔ وزیراعظم کی بیوی خلاءمیں نہیں رہ سکتی۔ قوم کی زندگی میں اسے مناسب مقام ملنا چاہیئے۔ آپ نے اس کے بارے میں جس رائے کا اظہار کیا ہے اس کی روشنی میں ہم دونوں کے لیے وزیر اعظم اور وزیراعظم کی بیگم کی حیثیت میں کام کرنا پریشان کن اور مشکل ہوگیا ہے۔ آپ پاکستان کے معمار ہیں لہذا میں محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان کی تعمیر کے لیے آپ کے قریب وہ لوگ ہونے چاہئیں جن کو آپ کا مکمل اعتماد اور خیر خواہی حاصل ہو۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی ایسا کام کروں جس سے پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہو مگر جیسا کہ سب کو علم ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے میری صحت ٹھیک نہیں ہے میرا خاموشی کے ساتھ الگ تھلگ ہوجانا کسی غلط فہمی اور پریشانی کا موجب نہیں ہوگا۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں یہ خط ناراضگی کی بناءپر نہیں بلکہ آپ کے لیے گہرے احترام کی بناءپر تحریر کررہا ہوں۔ آپ کا مخلص لیاقت علی خان“لیاقت علی خان کا یہ خط ایک لحاظ سے استعفیٰ تھا۔ قائداعظم نے خط ملتے ہی لیاقت علی خان کو فون کرکے صدمے کا اظہار کیا اور ان کو گورنر جنرل ہاﺅس بلالیا۔ قائداعظم سخت پریشان تھے کیوں کہ ان کی دوستی باہمی احترام اور محبت کی بنیاد پر قائم تھی اور ہر دور میں بے مثال رہی تھی۔ قائداعظم نے لیاقت علی خان کے استعفیٰ پر غور کرنے سے بھی انکار کردیا اور وضاحت کی کہ انہوں نے ایک باپ کی حیثیت میں بیگم لیاقت سے بات کی تھی۔ قائداعظم نے لیاقت علی خان سے وعدہ لیا کہ بیگم لیاقت اور مس فاطمہ جناح دونوں ان کی دوستی کے درمیان حائل نہیں ہوں گی۔ قائداعظم پاکستان اور عوام کے محسن تھے مگر انہوں نے کبھی انا اور غرور کا مظاہرہ نہ کیا۔ قائداعظم نے دوست نوازی اور اقربا پروری کو مسترد کرتے ہوئے کابینہ کے وزیر، مشیر، سفیر، سول اور عسکری افسر صرف اور صرف میرٹ پر نامزد کیے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے اپنی زندگی کا ہر سانس اور اپنے جسم کے خون کا ہر قطرہ پاکستان پر نچھاور کردیا تھا۔ وہ کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ان کے کسی فیصلے یا اقدام سے پاکستان کا وقار مجروح ہو اور ریاست کمزور ہو اور مسلم لیگ پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ قائداعظم وزراءکے کام میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔ گورنر جنرل کی کار کی ری کنڈیشنگ کے لیے ایک سمری وزارت خزانہ کو ارسال کی گئی۔ سیکریٹری جنرل حکومت پاکستان چوہدری محمد علی نے فائیل پر نوٹ لکھا کہ قومی خزانے میں پیسے نہیں ہیں۔ قائداعظم نے بلا تامل فائیل پر "Agreed" لکھ دیا۔ گورنر جنرل کے طیارے ڈیکوٹا کو اپ گریڈ کرانے کے لیے ایک سمری وزیرخزانہ چوہدری غلام محمد کو ارسال کی گئی۔ وزیرخزانہ نے فائیل پر نوٹ لکھا قائداعظم قوم کے باپ ہیں اور پاکستان کے گورنر جنرل ہیں ان کے لیے کچھ بھی
کیاجاسکتا ہے مگر قومی خزانہ یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ قائداعظم نے اس نوٹ سے اتفاق کیا اور کسی ردعمل کا مظاہرہ نہ کیا۔ 1945-46ءکے انتخابات میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم سے گزارش کی کہ وہ پنجاب پارلیمانی بورڈ سے ان کے پارٹی ٹکٹ کے لیے سفارش کریں۔ قائداعظم نے مداخلت سے انکار کیا اور مولانا سے کہا کہ وہ صوبائی پارلیمانی بورڈ کے فیصلے کے خلاف مرکزی پارلیمانی بورڈ میں اپیل کرسکتے ہیں جس پر نظرثانی ہوسکے گی۔ پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی چند ہفتوں سے اپنی سرکاری ذمے داریاں پوری نہیں کررہے وہ قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں نظر نہیں آئے۔ تحفظ پاکستان آرڈی نینس کی منظوری بھی ان کی عدم موجودگی میں ہوئی۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے شمالی وزیرستان میں آپریشن ہورہا ہے اور اندرونی سکیورٹی کا ذمے دار تین ہفتے خاموش رہا۔ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما ہیں۔ قومی اسمبلی کے نو بار رکن منتخب ہوئے
 انہوں نے ہمیشہ معیاری اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ شب و روز محنت کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوئی انہوں نے انجیو گرافی کرائی۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل صحت مند قراردیا۔ چیف ایگزیکٹو کا فرض تھا کہ فون کرکے اپنے وزیرداخلہ کی صحت کے بارے میں دریافت کرتے۔ اطلاعات کے مطابق چوہدری نثار علی کو اپنے لیڈر کے انداز حکومت کے بارے میں اصولی تحفظات ہیں۔ وزیراعظم کا یہ آئینی فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے وزراءکو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے اگر وزیراعظم یہ تصور کرلے کہ چونکہ اسے عوام کا مینڈیٹ حاصل ہے اس لیے وہ مختار کل ہے اور جو چاہے فیصلہ کرے تو ایسے طرز حکومت سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ ریاست اور جمہوریت کمزور ہونے لگتے ہیںاور غیر جمہوری عناصر اس کمزوری سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت میں ریاست کو آئین، قوانین اور رولز آف بزنس کے مطابق چلانا پڑتا ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق چوہدری نثار کی خواہش تھی کہ جنرل مشرف کے ای سی ایل کے مقدمے کے سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل نہ کی جائے اور انہیں علاج کے لیے پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دے دی جائے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے سلسلے میں بھی چوہدری نثار کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ تحفظ پاکستان آرڈی نینس اور پی پی پی کے لیے نرم گوشہ کے بارے میں بھی ان کے تحفظات تھے۔ چوہدری نثار نے شب و روز محنت کرکے قومی سلامتی پالیسی تیار کی تھی مگر وزارت خزانہ نے اس کے لیے فنڈز جاری کرنے سے انکار کیا۔ چوہدری نثار کے اختلافات چند وفاقی وزیروں سے زیادہ اور وزیراعظم سے کم تھے۔ وزیراعظم کے قریبی وزراء”لاہوری کشمیری گروپ“ چوہدری نثار کے بارے میں قیادت کو بدظن کرتے رہتے تھے۔ چیف ایگزیکٹو کا آئینی اور قومی فرض تھا کہ وہ بروقت گروہی اختلافات کا نوٹس لیتے مگر انہوں نے سردمہری کا مظاہرہ کیا جس سے چوہدری نثار مضطرب ہوئے اور انہوں نے وزارتی سرگرمیاں معطل کردیں۔ قومی اسمبلی کے بیس ارکان نے چوہدری نثار سے ملاقات کرکے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنے مو¿قف پر ڈٹے رہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے چوہدری نثار سے تین تفصیلی ملاقاتیں کرکے ڈیڈ لاک ختم کیا اور رائے ونڈ لاہور میں ان کی وزیراعظم سے ملاقات کرانے میں کامیاب رہے۔ عوام حیران ہیں کہ میاں شہباز شریف نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اُٹھارکھا ہے مگر وہ حلف کے برعکس وفاقی امور میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ وزیراعظم اگر قائداعظم کی پیروی کرتے ہوئے ابتداءمیں ہی فون کرکے چوہدری نثار کو بلالیتے تو معاملہ طویل نہ ہوتا اور میڈیا کو مسلم لیگ کے اندرونی اختلافات کے سلسلے میں قیاس آرائیوں کا موقع نہ ملتا۔ وزیراعظم پاکستان پانچ بار اپنے رب کے سامنے سرجھکاتے ہیں وہ عاجزی اور انکساری اختیار کریں، پارٹی اور حکومت کو چلانے کے لیے قائداعظم کو رول ماڈل بنائیں۔ عوام قائداعظم کے جانشین سے سرد مہری، انا، غفلت، دوست نوازی اور اقربا پروی کی توقع نہیں کرتے ۔