فون ٹیپنگ

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی
فون ٹیپنگ

امریکی قومی سلامتی کے ادارے کی طرف سے 2010 میں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی ٹیلی فون گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ کی خبریں شاید اتنی حیران کن نہیں تھیں جتنا مضحکہ خیز ہماری سیاسی جماعت اور حکومت کا ردعمل تھا‘ پیپلزپارٹی نے اپنے احتجاجی بیان میں امریکی حکومت سے معافی کا مطالبہ کر ڈالا اور وزارت خارجہ نے ایسی امریکی سرگرمیوں کو روکنے کا تقاضہ کیا ‘ اس ردعمل سے کچھ دیر کے لئے عام شہری کا سر بھی فخر سے بلند ضرور ہوا ہوگا مگر پھر ایک بے قابو ہنسی بھی آئی ہوگی پہلے بات کرتے ہیں فرحت اﷲ بابر کے بطور پارٹی ترجمان بیان کی جنہوں نے پیپلزپارٹی کے رہنما¶ں کی فون ریکارڈنگ کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ رویہ گرادنا۔ بیرونی دنیا کے لیے تو یہ بیان جاری کرنا ضروری تھا ہی مگر شاید ہم پاکستانی اس ردعمل کو اتنا ہی سنجیدگی سے لینگے جتنا امریکی حکومت اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ جس ملک کے وزیراعظم سے لے کر عام شہری تک ٹیلی فون پر گفتگو کو محفوظ نہ سمجھتے ہوں اور جہاں امریکی اور دنیا بھر کے جاسوسوں کی بھرمار ہو اور اعلی افسران وحکام امریکی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہوں وہاں غیر ملکی ایجنسی کی طرف سے فون ٹیپنگ پر ایسے احتجاجی بیانات جاری کیے جائیں۔ فرحت اللہ بابر تو شاید بے نظیر بھٹو حکومت کا وہ دوسرا دور بھی بھول گئے جس میں محترمہ پر ججوں ‘ سیاستدانوں اور اعلی افسران کی فون ریکارڈنگ کے ثبوت سپریم کورٹ میں ایک بھرے بکسے کی صورت پیش کیے گئے تھے اس معاملے میں ہم کس منہ سے دنیا کو ذمہ دارانہ رویے کا درس دیتے ہیں۔ آج بھی ہمارے سول اور فوجی خفیہ اور نیم خفیہ ادارے آزادانہ طورپر بغیر قانونی طریقہ کار کے عام شہریوں کی ٹیلی فون گفتگو سنتے اور ریکارڈ کرتے ہیں اور اس حوالے سے سول حکومتیں بھی بے بس نظر آتی ہیں۔ گزشتہ سال قومی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کی رکن بشریٰ گوہر اور چند دوسرے اراکین نے ٹیلی فون ٹیپنگ پر صدائے احتجاج بلند کی مگر پھر کچھ بھی نہ ہوا۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ملک کا وزیراعظم بھی ساری گفتگو ٹیلی فون پر نہیں کرتا جناب آصف علی زرداری کے بارے میں تو مشہور ہے کہ بطور صدر انہوں نے جب بھی اہم سیاسی فیصلے کرنا ہوتے تھے تو وہ اپنا ملک ہی چھوڑ کر دوبئی چلے جاتے تھے ان حالات میں امریکی حکومت سے معافی کا مطالبہ کرنا ویسا ہی ہے کہ کوئی شخص گندگی کے ڈھیر پر بیٹھا محلے والوں کو صفائی کا درس دے رہا ہو۔ ہماری وزارت خارجہ نے بھی اپنے ردعمل میں ”ایسی سرگرمیوں“ کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری حکومت غیر ملکی جاسوسی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے خود کیا کر رہی ہے سوائے سرخی پوﺅڈر والے ان بیانات کے ۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان میں امریکہ سمیت مختلف ممالک کے جاسوس حضرات دندناتے پھرتے ہیں آج تک ہم نے کتنے سی آئی اے کے ایجنٹ پکڑے اور انہیں جیل میں ڈالا۔ ریمنڈ ڈیوس نے بھی اگر دو قتل نہ کر دئیے ہوتے تو وہ بڑے آرام سے اپنا کام جاری رکھتا اور ہمارے اعلی حکام اس کو مشترکہ تعاون کا نام دیتے۔ مگر اس قتل کے باوجود آج وہ امریکی ایجنٹ اپنے ملک میں بیٹھا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ردعمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس جماعت کی جاسوسی صرف امریکی سی آئی اے ہی کرتی رہی ہے اور یا پھر سی آئی اے پاکستان میں صرف پیپلز پارٹی کے معاملات میں دلچسپی رکھتی تھی۔ پیپلز پارٹی یا تو معصوم ہے یا پھر لوگوں کو بیوقوف سمجھتی ہے ۔ کیا ہماری سیاسی جماعتیں نہیں جانتیں کہ جنرل مشر اور حتی کے اس کے بعد کے ادوار میں بھی تمام سیاسی جماعتوں کے فون ٹیپ ہوتے رہے ہیں۔ کیا آج تک ہمارے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعتوں نے اپنے ملکی خفیہ اداروں کی طرف سے کی جانے والی غیر قانونی فون ریکارڈنگ کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیے؟ کیا فرحت اللہ بابر اس حوالے سے بھی کوئی بیان جاری فرمائیں گے ؟ کیا آج تک فون ٹیپنگ کے حوالے سے قوانین بنائے گئے ؟ حال ہی میں تحفظ پاکستان بل کی منظوری کے بعد فون ریکارڈنگ ایک خصوصی مجسٹریٹ کی اجازت سے مشروط کر دی گئی ہے مگر سب جانتے ہیں کہ اس نئے قانون کے باوجود غیر قانونی فون ٹیپنگ جواب بھی جاری ہے نہیں رکے گی۔ہماری حکومتیں‘ سیاسی جماعتیں‘ عدالتی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے قانونی ضابطوں سے مکمل طورپر نابلا ہیں کیا ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ہاں ایسے سرکاری ٹیلی فون ایکسچینج کام کررہے ہیں جہاں پر خود کار نظام کے ذریعے تمام اہم شخصیات کی ٹیلی فون گفتگو ریکارڈ کی جاسکتی ہے ہم شاید یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلی فون گفتگو کو ریکارڈ کرنے کی صلاحیت پر فوج کے خفیہ اداروں کی مکمل اجارہ داری ہے ۔ حتی کہ انٹیلی جنس بیورو جو سویلین خفیہ ادارہ ہے اس کو بھی فون ٹیپنگ کا محدود اختیار اور صلاحیت دی گئی ہے اس تمام صورت حال میں امریکی حکومت سے احتجاج کرنا ایک رسمی اور ضروری کاغذی کاروائی تو ہوسکتی ہے مگر یہ سب بے معنی اور مضحکہ خیز لگتا ہے امر یکی نظام حکومت میں اتنی جرا¿ت تو ہے ہی کہ اس کے خفیہ ادارے اپنی منتخب کانگریس کے اراکین کو نہ صرف جوابدہ ہیں بلکہ انکے مالیاتی نظم وضبط میں بھی ہیں کیا ہماری حکومت اور پارلیمنٹ اپنے تمام خفیہ ادراروں کے مالیاتی معاملات سے آگاہ ہے یقیناً ایسا نہیں ہے تو پھر حکومت کس بات کی۔ جس ملک میں تمام قومی اداروں کی آمدنی اور اخراجات کا ریکارڈ حکومت کے پاس نہ ہوتو اس ملک میں بنائے گئے بجٹ کی کیا ساکھ ہوگی۔ ان حالات میں لازم ہے کہ ملک کے تمام خفیہ اداروں کو قانون کے تابع کرتے ہوئے ان کے مالیاتی امور اور ٹیلی فون ریکارڈنگ کی صلاحیت کی کڑی نگرانی کی جائے یہ ٹیلی فون گفتگو سے حاصل شدہ معلومات ہی ہیں کہ جن کی بدولت ادارے اپنا قانونی اور غیر قانونی تسلط قائم کرتے ہیں امریکہ سے احتجاج ضرور کیجئے مگر خدارا اپنے گریبان میں بھی جھانکیں اور دنیا پر اپنے مہذب ہونے کا جعلی عکس نہ ڈالیں۔