تحفظِ پاکستان :معیشت، تعلیم اور صحت!

کالم نگار  |  نعیم مسعود
تحفظِ پاکستان :معیشت، تعلیم اور صحت!

یہ قانون بھی کس قدر بے نیاز اور ہرجائی ہو گیا ہے! کبھی نہیں کہتا کہ تعلیم دشمن عناصر، صحت دشمن عناصر اور تجارت و صنعت دشمن عناصر کو گولی مار دو۔ ارے، اور تو اور، یہ اندھا اور کالا قانون (نہ، نہ! بینا اور گورا قانون) پولیس کے 15ویں سکیل پر اعتماد اور یقین رکھنے لگا ہے تاہم قرآن و سُنت اور شرفاءکے 22ویں گریڈ پر بھی اسے کوئی اعتبار نہیں! راز کی بات یہ ہے کہ، ہمارے ہاں قانون کا فقدان تو سن 47ءسے ہے لیکن اختیار کی فراوانی سن 47ءسے قبل ہی کی ہے۔ اپنی پیاری پولیس اور رینجر کے پاس گولی مارنے کا اختیار تو ازل سے ہے، یہ کوئی تحفظِ پاکستان ایکٹ 2014ءسے نہیں ملا۔ اس عظیم ایکٹ سے تو محض ”قانون“ ملا ہے۔ قانون کی ایک سرمئی بات جو ریشمی لفاظی پر مشتمل ہے وہ یہ ہے کہ ”ہم لوگوں سے اُس وقت تک قانون پر عمل کرنے کی امید نہیں رکھ سکتے جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے خود عمل پیرا نہ ہو جیسی کہ وہ امید رکھتے ہیں!۔ اختیار کی حدود جہاں سے شروع ہوتی ہیں وہاں بھی قانون کھڑا ہوتا ہے، کھڑا ہی نہیں ہوتا نافذ العمل ہوتا ہے اور اختیار کی حدود جہاں ختم ہوتی ہیں وہاں بھی قانون کھڑا ہوتا ہے، یہ ہے زندہ اور ترقی یافتہ اقوام کا معمول۔ جہاں بادشاہ بھی زنجیر عدل کا حامل نہیں ہوتا بلکہ عدل کا احترام کرتا ہے، جہاں وزرائے اعظم ہوں یا صدور، وہ اختیار سے ہم کلام نہیں ہوتے بلکہ قانون کو سلیوٹ کرتے ہیں۔ اپنے ہاں تو قانون اور اختیار ایک دوسرے کے مقابلے پر کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن باشعور اور ترقی یافتہ ممالک میں قانون غالب حقیقت اور اختیار مغلوب حقیقت کا نام ہوا کرتا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف 3 جولائی کو فرماتے ہیں کہ ”قوم کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فخر ہے۔“ شاید اسی لئے پولیس کیلئے فخریہ پیشکش ہے کہ وہ گولی مار سکے گی۔ پھر عدالت عظمیٰ (4 جولائی 2014ئ) کو کہتی ہے کہ ”قانون سازوں اور ایگزیکٹو کے غیر آئینی اقدامات کا جوڈیشل ریویو ہو
سکتا ہے۔ عدلیہ اُس وقت مداخلت کر سکتی ہے جب ادارے آئینی حدود سے تجاوز کریں۔“ یہاں ایک طرف قانون سازوں کو 15ویں گریڈ والے پولیس مین پر اعتبار اور اعتماد ہے کہ وہ بوقت ضرورت خود عدالت اور حاکم بن سکتا ہے اور وزیراعظم پولیس کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عدلیہ کے ہاں شک و شبہ کی گنجائش پائی جاتی ہے کہ، ادارے بھی آئینی حدود سے باہر نکل سکتے ہیں۔ ایک آدھ 15ویں گریڈ کی بات نہیں، پورے ادارے کا تذکرہ ہے۔ وہ ادارہ جو عام طور پر نائب قاصد سے جی ایم، ایم ڈی، سیکرٹری اور وزیر تک جاتا ہے۔ یہاں دو زمینی حقائق کا تذکرہ بہت ضروری ہے -1 پاکستان کی تاریخ اور اس کے اختیارات اور قوانین کا
تذکرہ -2 امریکہ کے ”پیٹریاٹ ایکٹ“ کا تذکرہ جو نائن الیون کی پاداش میں بنا اور 26 اکتوبر 2001ءکو قانون کی شکل اختیار کر گیا۔ واضح رہے کہ، تحفظِ پاکستان بل کے پیش کرنے اور پیٹریاٹ ایکٹ آف امریکہ کا پس منظر تو یقیناً ایک سا لگتا ہے مگر پیش منظر میں بہت فرق ہے۔ اول، امریکہ نے یہ داخلی حوالے سے کم اور خارجی حوالے سے یہ ایکٹ زیادہ بنایا کیونکہ نائن الیون کا ملبہ انہوں نے اسامہ بن لادن، افغانستان اور مسلمانوں پر ڈالا تھا اور تقریباً بھی خارجیوں پر زیادہ جاتا تھا۔ دوم، امریکی پولیس قانون کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے، کسی تعصب یا اختیارات کے نشے پر تکیہ نہیں کرتی۔ خیر اس مماثلت کو چھوڑیں، اور اب دیکھتے ہیں پاکستان کی تاریخ اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور قوانین کے اندھے استعمال کے ابواب :
-1 دورِ ایوب خان میں، 1965ءمیں ڈیفنس رولز آف پاکستان آرڈیننس نافذ کیا گیا۔ مقصد جنگی حالات میں رونما ہونے والے واقعات کے خلاف اقدام تھا۔ بہرحال اس کی زد میں ذوالفقار علی بھٹو، مولانا مودودی اور مولانا عبدالستار نیازی سمیت کئی سیاستدان بھی آئے -2 بھٹو دور میں ای ڈی پی آر نے جنم لیا تو اصغر خان، ولی خان، نوابزادہ نصراللہ، جاوید ہاشمی اور عطااللہ مینگل جسے سیاستدانوں نے خوب مزہ چکھا، بھارتی آلہ کار و تخریب کار نے بھی مزہ چکھا کہ نہیں اس پر تاریخ خاموش ہے -3 جنرل ضیاالحق کے ”دورِ بے ضیا“ میں کہیں فیصلے نظریہ ضرورت کے تابع تھے اور کہیں بھٹو خاندان کے قلع قمع کیلئے منصوبہ بندیاں تھیں۔ کہیں ”مارشل“ کا لاءنہ جھکنے والوں کیلئے کوڑے برساتا اور سجدہ کرنے والوں کو مجلسِ شوریٰ تک لے جاتا۔ گویا قانون بھی تھا اور ستم بھی۔ گویا حُبِ قانون کی آڑ میں بُغضِ دستور تھا -4 پھر میاں نواز شریف (1977) دور میں انسداد دہشت گردی ایکٹ آیا اور خود اس ایکٹ کا کرشمہ میاں برادران کو بھگتنا پڑا۔ علاوہ بریں جنرل پرویز مشرف کے سبھی قوانین کا رُخ مسلم لیگ (ن) کی جانب تھا، ق لیگ اور پی پی پی پیٹریاٹ نے تو گنگا نہا لیا تھا --- یوں ایک ہی ہاتھ سے مصلیٰ بچھانے اور مقتل سجانے کے حوالے سے چشمِ فلک گواہ ہے۔ تحفظِ پاکستان ایکٹ 2014 کی دفعات 8، 10 اور 14 سے کوئی آنکھ مچولی ہے یا مک مکاﺅ، اس کا پتہ کوئی آج اعتزاز احسن، ایس ایم ظفر، بابر اعوان، علی احمد کرد، اکرم شیخ اور عزت مآب افتخار محمد چوہدری سے لوگ دیں، تو ہم سادہ لوح عوام کو بھی پتہ چلے کہ، اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے یا بٹھایا گیا ہے؟اب ہوش کریں وہ الیکشن میں دھاندلی کا تذکرہ کرنے والے۔ جی! طاہر القادری بھی احتیاط سے کام لیں ”مشکوک“ افراد کو گولی ماری جا سکتی ہے۔ پکڑے گئے دہشتگردوں کی تو کبھی نقاب کشائی ہوئی ہے نہ سزا کا سامنا۔ اب کے برس کیا لاتی ہے؟ ”بہار“ یہ ابھی دیکھنا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز سے مزدور کسان تک اور ایف آئی آر درج نہ ہونے کے سبب تھانے کے سامنے لاشے لانے والے بھی چارپائیاں زیادہ ساتھ لائیں، نہ جانے واپسی پر ۔۔۔! نوجوان بھی ہوش و حواس میں رہیں جوانی کا جوش اور موٹر سائیکل کی تیزی یا کسی بھارتی اور ہالی وڈ مووی کا سائیڈ افیکٹ کسی 15ویں گریڈ پلسئے کی گولی چکھنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ویسے مجھے بہت سے پولیس والے ایس ایچ اوز، ڈی ایس پی، ایس پی اور ایس ایس پی پر بھی ترس آ رہا ہے کیونکہ وہ بھی تو مشکوک ہیں، کہیں 15ویں گریڈ والے ”افسر“ شک کی بنیاد پر گورنر تاثیر والا حشر نہ کر دے۔ میرے پیارے ممبران اسمبلی اور وزراءبھی احتیاط سے کام لیں، مشکوک نہ لگئے گا، سمجھ گئے نا! گورنر تاثیر والا واقعہ؟ 15ویں گریڈ پُلس نفاذِ قانون والے زندہ باز۔ ایک نوجوان وکیل اور ریسرچر خرم اقبال نے دیوارِ کتاب چہرہ پر لکھا ہے کہ پولیس کو جیل میں ڈال دیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ نوجوان ہے ہم اُسے بھی سمجھاتے ہیں اور کہتے ہیں تاریخ پاکستان اور کالے قوانین کا بھی مطالعہ کر لیں اور معافی مانگ کر ”پولیس زندہ باد“ کے فلک شگاف نعرے لگا کر امر ہو جا ورنہ انسان کی موت مارا جائے گا۔ میرے قارئین کرام تو اس بات سے آشنا ہیں کہ، کراچی کے گرد و نواح میں بھاگتے بھاگتے ایک کتے نے دوسرے کتے سے کہا تھا کہ ”بھاگ! شہر سے کہیں دور بھاگ، کسی بھتہ خور نے نہ مارا تو کوئی قانون نافذ کرنے والا مار دے گا اور تُو فضول میں انسان کی موت مارا جائے گا!“ آہ! یہاں ہر کوئی مارا جا سکتا ہے سوائے تعلیم دشمن، صحت دشمن (دو نمبر ادویہ بنانے والے)، تجارت و صنعت دشمن اور امن دشمن عناصر کے! پس کرنا ہے تو تعلیم، صحت اور صنعت و تجارت کا تحفظ کریں پورے پاکستان کی حفاظت ہو جائے گی۔