امریکی وزیر دفاع کا دورہ

کالم نگار  |  وقار مسعود خاں
امریکی وزیر دفاع کا دورہ

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے پیر کو پاکستان کا مختصر دورہ کیا۔ صدر ٹرمپ کے دور صدارت اور افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اگست میں ان کی پالیسی کے اعلان کے بعد کسی امریکی عہدہ دار کا یہ سب سے اہم دورہ تھا۔ اس سے قبل اکتوبر میں وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں، جس کا ذکر ہم نے اپنے کالم ’امریکی دھمکیاں‘ میں کیا تھا۔ اس دورے کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہم میٹس صاحب کی شخصیت اور موجودہ انتظامیہ میں ان کے مقام کے حوالے سے قارئین کیلئے ایک مختصر خاکہ پیش کردیں۔

جم میٹس کی شہرت ایک کامیاب جنرل کی رہی ہے جو فرض شناسی، دانشمندی اور قائدانہ صلاحیتوں کے مالک اور اپنے ماتحتوں میں بہت مقبول تھے۔ موصوف تین جنگوں میں شریک رہے ہیں، یعنی خلیجی جنگ (1991)، افغانستان (2002) اور عراق (2003)۔ ترقی کی تمام منازل طے کرکے آخری تعیناتی امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر کی حیثیت سے تھی جہاں سے وہ 2013 میں ریٹائر ہوئے۔ جب صدر ٹرمپ نے ان کی تقرری کی تو قانونی طور پر وہ وزیر دفاع کے منصب پر فائز نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ کسی جنرل کی بطور وزیر دفاع تقرری ریٹائرمنٹ کے 7 سال بعد ہوسکتی ہے اِلاّ یہ کہ کانگریس اس شرط سے استثنیٰ دے دے، جو اس نے بخوشی مہیا کردیا۔
باوجویکہ فوج میں ان کی بہادری کے بیشمار قصے مشہور تھے، مگر ان کی شخصیت متنازعہ بھی رہی ہے۔ اپنی تقرری کی منظوری کیلئے جب یہ سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تو اپنا تعارف کراتے ہوئے انہوں کہا کہ ’’میں جیمز میٹس ’میڈ ڈوگ‘ ہوں اور میری یہ عرفیت صحافیوں کی دی ہوئے ہے اور جیسا کہ آپ حضرات کو بھی یہ تجربہ ہوا ہوگا، صحافی کبھی کبھی بات کو صحیح طرح سمجھ نہیں پاتے ’’۔ ’میڈ ڈوگ‘ کی اصطلاح یوں استعمال کی جاتی ہے جب کسی کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا جائے۔ یہ عرفیت انہیں اس وجہ سے حاصل ہوئی کیونکہ ان کے کچھ ‘‘اقوال زریں’’صحافیوں تک پہنچ گئے، مثلاً ان کا اپنے ماتحتوں کو یہ کہنا کہ ‘‘لوگوں سے شائستگی سے اور پیشہ ورانہ طریقے سے پیش آئو، لیکن جس سے بھی ملو اس کو گولی مارنے کے لئے بھی تیار رہو’’یا یہ کہ‘‘ ایک اچھا سپاہی احکامات کی تعمیل کرتا ہے، لیکن ایک حقیقی جانباز اپنے دشمن کی کھال کا بنا کوٹ پہنے پھرتا ہے۔
جم میٹس کو اس انتظامیہ میں کلیدی اور فیصلہ کن حثیت حاصل ہے۔ ان کی فوری تقرری، سینٹ سے بلا ترّدد منظوری اور ان کی بقیہ ٹیم کی تقرری میں تاخیر سے جمہوری حلقوں میں یہ تشویش تھی کہ محکمہ دفاع میں ملٹری کا عمل دخل بڑھ جائیگا۔ بعد ازاں سینٹ کی طلب کردہ رپورٹوں اور پالیسی سازی میں تاخیر کی وجہ سے اس کمیٹی نے بھی صدر کی بھیجی ہوئی تقرریوں کی منظوریوں کو تعطل میں ڈال دیا۔ 10مہینے کے بعد یہ کام اب زور شور سے شروع ہوا ہے اور اہم ترین تقرریاں حال ہی میں منظوری کے مرحلے سے نکل چکی ہیں۔
نئی افغان پالیسی، جس کا اعلان اگست میں خود صدر ٹرمپ نے کیا تھا، کے مصنف جنرل میک ماسٹر (حاضر سروس) ہیں جو وائٹ ہاؤس میں مشیر قومی سلامتی ہیں۔ان کی تقرری مائیک فلن کے بعد عمل میں آئی جو روسی سفیر سے رابطوں میں غلط بیانی کیوجہ سے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں فارغ کردیے گئے تھے۔ علاوہ ازیں ایک اور جنرل، جان کیلی، ابتداً ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر بنے تھے، لیکن بعد ازاں جب وائٹ ہاؤس کو شروع میں غیر تجربہ کار، معاملہ فہمی سے عاری اور باہمی عداوتوں سے لبریز عناصر نے گھیر کر ایک ہنگامہ خیز صورتحال پیدا کردی تو اس کی درستگی اور ڈسپلن کی بحالی کیلئے جان کیلی کو چیف آف اسٹاف مقرر کردیا گیا، جنہوں نے بہت جلد وائٹ ہاؤس میں نظم و ضبط کو بحال کردیا۔
ہم نے یہ پس منظر اس لئے پیش کیا ہے تاکہ اس حقیقت کو سمجھا جاسکے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ سابقہ یا حاضر سروس فوجیوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوگئی ہے۔ بدقسمتی سے یہ تمام اصحاب حالیہ جنگوں کے سرکردہ لوگ ہیں اور ان کا ذہن ان تجربات نے بنایا ہے جو ان جنگوں میں انہوں نے حاصل کیے ہیں۔ خصوصاً افغانستان میں امریکی ناکامیوں کا ذمہ دار وہ پاکستان کو گردانتے ہیں۔ صدر ٹرمپ افغانستان میں امریکی موجودگی کو دیوانگی قرار دے چکے تھے اور کئی موقعوں پر وہ یہ بھی کہہ چکے تھے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجوں کو واپس بلا لیں گے۔ جنرلوں نے آہستہ آہستہ کام کرکے ٹرمپ کو نہ صرف اس اقدام سے باز رکھا بلکہ اپنی مرضی کے مطابق نئی ہالیسی کی تشکیل میں کامیاب رہے۔ اس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس بات کو خود تسلیم کیا کہ یہ پالیسی ان کے ان خیالات کے خلات ہے جن کا اظہار وہ انتخابی مہم کے دوران کرتے رہے ہیں، کیونکہ صدر بننے کے بعد جو باتیں ان کے سامنے آئی ہیں انہوں نے ان کے خیالات کو بدل دیا ہے۔ اس پالیسی میں امریکی فوجوں کی غیر متعین مدت کیلئے تعیناتی، فوج کی تعداد میں اضافہ، بھارت کے کردار میں توسیع، فوجی آپریشنز پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور پاکستان کیلئے دھمکیاں اور دباؤ شامل ہیں۔
جم میٹس نے اکتوبر میں بھارت کا دورہ کیا اور بعد ازاں کابل کا بھی غیر اعلانیہ دورہ کیا، لیکن وہ پاکستان نہیں آئے۔ سینٹ کے سامنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک موقع اور دیا ہے تاکہ وہ اپنے رویے کو بدل کر اپنے علاقے سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو اور طالبان کی پشت پناہی کو ختم کردے۔ اس سوال پر کہ اگر پاکستان نے اس موقع کو استعمال نہیں کیا تو انتظامیہ کیا کریگی، میٹس کا کہنا تھا کہ پھر ہم صدر کے سامنے پاکستان کیخلاف ممکنہ اقدامات منظوری کیلئے رکھیں گے اور ان کے حکم کے مطابق عمل کرینگے۔
میٹس کی آمد سے قبل CIA کے موجودہ ڈائریکٹر مائیکل پومپیو نے اختتام ہفتہ کیلیفورنیا میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران ایک دھمکی آمیز بیان میں کہا ہے کہ میٹس پاکستان اس لئے جارہے ہیں کہ اسے یہ باور کرایا جائے کہ امریکہ کا کہنا ماننا اس کے اپنے مفاد میں ہے اور بہتر یہ ہے کہ وہ خود اپنی زمین پر واقع دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کردے ورنہ یہ کام ہمیں کرنا پڑیگا۔ موصوف بھی سابقہ فوجی ہیں اور ریپلکن پارٹی میں ایک نئی قوت جسے ’ٹی پارٹی‘ کہا جاتا ہے اس کے پلیٹ فارم سے امریکی ایوان نمائندگان کے متعدد بار رکن رہ چکے ہیں اور ٹرمپ سے خصوصی قربت کے حامل ہیں۔ چند روز پہلے جب ٹلرسن کو نکالنے کی خبریں یک بیک گردش کرنے لگیں تو ان کی جگہ پومپیو کی تعیناتی کی خبریں آنے لگیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کو وہ اطالوی نژاد ہیں اور ان کے خیالات مذہبی رنگ میں رنگے رہے ہیں۔ ان کے ایک پیشرو، لیون پنیٹا، بھی اطالوی نژاد تھے۔ وہ بھی اس کانفرنس میں موجود تھے اور انہوں نے بھی پاکستان کیخلاف سخت خیالات کا اظہار کیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر پومپیو کو وزیر خارجہ بنایا گیا تو ٹرمپ کی مسلمانوں کیخلاف باتیں اور نعرے بازیاں مزید بگڑ جائیں گی۔
امریکہ کا پاکستان سے متواتر پناہ گاہوں کو ختم کرنے کا مطالبہ، اس کے علی الرغم کہ پاکستان کے وزیر اعظم، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور آرمی چیف دو ٹوک الفاظ میں متعدد بار اس الزام کی سختی سے تردید کرچکے ہیں، حقیقتاً ایک بڑے مخمصے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اھل نظر کا خیال ہے کہ امریکہ کا یہ الزام دراصل ایک سموک سکرین ہے، جس کی پشت پر ایسے مقاصد کا حصول مطلوب ہے جو پاکستان کسی صورت قبول نہیں کرسکتا۔ مثلاً یہ خواہش کہ پاکستان کی فوج براہ راست طالبان سے افغان سرحد کے اندر جنگ کرے اور امریکی اور افغان فوج کی حفاظت اور مدد کرے۔ علاوہ ازیں یہ الزام امریکی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے ایک پرکشش بیانیہ بن جاتا ہے۔ مزید براں امریکہ اس خطے میں بھارت کی بالا دستی اور چین کے بڑھتے اثرات کو ختم کرنا چاہتا ہے، جو پاکستان کو منظور نہیں ہے۔
مندرجہ بالا تناظر میں وزیر دفاع کا دورہ باہمی تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کا باعث نہیں ہوگا۔ باوجودیکہ واشنگٹن کے حلقے یہ کہتے ہیں کہ موجودہ انتظامیہ میں پاکستان کیخلاف زہر دور تک پھیلا ہوا ہے، ہم نہیں سمجھتے کہ امریکہ کوئی انتہائی قدم پاکستان کیخلاف اٹھائے گا کیونکہ اس نے فی الحال افغانستان میں طویل قیام کا فیصلہ کرلیا ہے، جو پاکستان کے تعاون کے بغیر ناممکن ہوگا۔ لیکن امریکہ کی باگ ڈور اس وقت ان منتخب ہاتھوں میں ہے جو قوت فیصلہ سے محروم ہیں یا وہ غیر منتخب عہدے داران ہیں جو فیصلوں کی صلاحیت تو رکھتے ہیں لیکن اپنے ماضی کے تجربات نے انہیں معروضیت سے محروم کردیا ہے۔ جب میٹس فل جنرل بن گئے تو صدر اوبامہ نے انہیں سینٹرل کمانڈ سے ہٹا دیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ ایران کے بارے میں معروضی خیالات کے حامل نہیں ہیں۔
یہ ایسا وقت ہے جب ہمارے رہنماؤں کی بالغ نظری اور قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان ہے۔ ایک طرف ہمیں اپنے اعصاب اور حواس کو قابو میں رکھنا ہے اور دوسری طرف اس اندھی مصیبت کا حکمت اور تدبر کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ سول اور ملٹری قیادت کو ایک صفحے پر ہونا پڑیگا۔ صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد ان دونوں نے جس یکجہتی اور یکسوئی کا مظاہرہ کیا تھا، اس کے اعادے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے پاس امریکہ کی مدد کرنے کیلئے کوئی گنجائش ہے تو اسے خوشدلی سے فراہم کردینا چاہیے۔ وہ سابقہ فوجی افسران جن کو ماضی میں میٹس کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے، ان کی خدمات کو بھی بروئے کار لانا چاہیے۔ لیکن بلا جواز اور پاکستان کے مفادات سے متصادم مطالبات کو تسلیم کرنے سے بغیر اشتعال دلائے معذرت کرلینی چاہیے۔ امریکہ پہلے بھی پاکستان کو امتحانات میں ڈال چکا ہے اور گرچہ ہم کسی طرح بھی اس کی دشمنی مول لینا نہیں چاہتے، لیکن اگر وہ ایک مرتبہ پھر ہم پر بلاجواز پابندیاں لگانا چاہتا ہے تو وہ ضرور یہ قدم اٹھا لے، اس سے ہمارا موقف نہیں بدلے گا۔