سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ، حکومت کی ذمہ داری

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ، حکومت کی ذمہ داری

بالآخر دو سال سے زائد عرصہ انتظار کے بعدلاہور ہائیکورٹ کے حکم پر جسٹس باقر نجفی کی سانحہ ماڈل ٹائون کے حوالے سے کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ اس عرصے کے دوران عوام یہ سوال کرتے رہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون پر حکومت نے خود کمیشن بنایا تھا تو پھر رپورٹ شائع کرنے میں دیر کیوں کی گئی ۔ حالانکہ رپورٹ کے حقائق جاننا سانحہ ماڈل ٹائون کے متاثرین کاحق ہے جو ساڑھے 3برس سے انصاف کے منتظر ہیںاور آرٹیکل 19 اے شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق دیتاہے۔لیکن حکومت نے رپورٹ شائع نہ کرکے اپنے لیے ہی مسائل پیدا کرتی رہی۔ اور بھلا ہو لاہور ہائیکورٹ کا کہ جس کے کہنے پر حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی ورنہ آج تک کئی رپورٹس ایسی ہیں جو منظر عام پر ہی نہیں لائی جا سکیںاور اگر حکومت سانحہ ماڈل ٹائون کی خود شفاف انکوائری کے ذریعے رپورٹ مرتب کرتی اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لاتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، حکومت کو الیکشن کے مہینوں میں اس طرح کی سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑتا، موجودہ حکومت تو پاناما کیس میں وزیراعظم کی نااہلی کے بعد ویسے ہی خاصی مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ بقول شیکسپیئر ’’مصیبتیں آتی ہیں تو ایک سپاہی کی مانند نہیں بلکہ پلٹنوں کی صورت‘‘ یہی حال ہماری حکومت کا اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہر نئی صبح کوئی نیا سامانِ رسوائی سامنے آتا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے چند لمحے پہلے رانا ثناء اللہ کی لمبی پریس کانفرنس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ حکومت آج بھی اپنے ’’موقف‘‘ پر قائم ہے۔ جسٹس باقر نجفی کے مطابق ماڈل ٹاؤن آپریشن کے دوران جب آئی ایس آئی کے سب انسپکٹر کو صورت حال کی سنگینی کا انداز ہ ہو اتو اس نے فوری طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کو ٹیلی فون کیا، جواب میں ڈاکٹر توقیر کا کہنا تھا کہ وہ کچھ نہیں جانتے ، انکی آج طبیعت خراب ہے اور وہ اپنے دفتر بھی نہیں جارہے سانحہ ماڈل ٹان کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی نے اپنی رپورٹ میں آئی ایس آئی کی رپورٹ کو بھی شامل کیا ہے، آئی ایس آئی کی رپورٹ کیمطابق ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر لگے ہوئے بیرئیرز ہٹانے کیلئے آپریشن 17جون 2014کو رات ایک بجکر30منٹ شروع کیا گیا۔پولیس کی اس کوشش کو عوامی تحریک کے کارکنان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ،پی اے ٹی کے کارکنان نے پولیس پر پتھروں اور اینٹوں سے حملہ کیا۔ اس مزاحمت کیخلاف پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر نے اپنی پسٹل سے تین ہوائی فائر کئے۔ ہوائی فائر کے بعد عوامی تحریک کے کارکنوں میں بھگدڑ مچ گئی ، صبح9بجکر20منٹ پر پولیس کی بھاری نفری نے طاہر القادری کے گھر کی جانب پیشقدمی شروع کردی ، لیکن اس پیشقدمی کے سامنے پی اے ٹی کے کارکنوں نے سخت مزاحمت دکھائی۔اسی دوران جب پولیس ڈاکٹر قادری کے گھر کے مرکزی دروازے تک پہنچی تو خواتین کارکنان ان کیخلاف ڈٹ گئیں اور شدید مزاحمت کی۔

بعد ازاں دن11 بجے پولیس نے ایلیٹ فورس کی مدد بھی حاصل کرلی۔ آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق وہ طاہرالقادری کے گھرکی چھت سے گارڈزکی فائرنگ پروثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے، پولیس فائرنگ سے 10 لوگ ہلاک ،70 زخمی ہوئے جبکہ 50 کو فائر لگے۔دن1بجکر 15منٹ پر ایس ایس پی آپریشنز نے ٹیلی فون پر آپریشن مکمل ہونے کی خبردی جبکہ پولیس کے اس آپریشن کے دوران علاقے میں موجود کانوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
بہرکیف ماڈل ٹائون رپورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے اور جیسا کہ آج کی سرخیاں چیخ چیخ کے کہہ رہی ہیں،پنجاب حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ رپورٹ لواحقین کو فوری مہیا کی جائے۔ اس میں بہت دیر ہوئی۔ کہاں جون 2014ء میں رونما ہونے والا سانحہ اور کہاں حکومت کے تاخیری حربے۔ جب چودہ لوگ بشمول دو خواتین کے‘ پولیس کی گولیوں سے چھلنی ہوئے تو حکمرانوں نے کہا تھا کہ جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اوراُس میں مجھ پہ ذرا سا بھی حرف آیا تو فوری مستعفی ہو جائوں گا۔ یہ بات ریکارڈ پہ ہے، ٹی وی کوریج میں محفوظ۔ پھر جب انکوائری ہوئی اور رپورٹ لکھی گئی تو رپورٹ کو دبا دیا گیا۔ دو سال سے زائد کی عدالتی جدوجہد کے بعد یہ فیصلہ آیا ہے۔
17جون 2014کو سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا 14 افراد شہید100سے زائد زخمی ہوئے۔17جون 2014کو ہی پولیس نے طاہرالقادری ،پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ۔18جون کو وزیراعلیٰ شہبازشریف نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو جج کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنانے کی سفارش کی۔ 19جون کو جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں کمیشن نے تحقیقات شروع کر دیں۔ ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کردیاجس کا معاملہ فل بینچ کے روبرو زیر سماعت ہے اور ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا۔عوامی تحریک کی درخواست پرجولائی میں سیشن عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ وزیراعظم، وزیر اعلیٰ اور وزرا سمیت 139افراد کیخلاف درج کرنے کا حکم دیدیا، پنجاب حکومت نے سیشن عدالت کے فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی۔ 26اگست کو لاہورہائیکورٹ کے جسٹس محمود مقبول باجوہ نے پنجاب حکومت کی اپیل خارج کردی اور مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ برقراررکھا۔28اگست کو وزیراعظم،وزیر اعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزراسمیت 139 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جس کا ایف آئی آرنمبر (696) 2014 ہے۔ معاملہ کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی جس کا عوامی تحریک نے بائیکاٹ کیا، تحقیقاتی ٹیم نے وزیراعظم، وزیر اعلیٰ اور وزرا کو بے گناہ قراردیدیا۔ 9اگست 2014کو جسٹس علی باقر نجفی کے کمیشن نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پنجاب حکومت کو بھجوادی۔ 5ستمبر 2014کو عوامی تحریک نے کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کیلئے درخواست دائر کردی۔ہائیکورٹ کے فل بینچ نے 17فروری 2015کو کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر لانے کیلئے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔جسے اب منظر عام پر لایا گیا ہے۔
حقیقت میں حکمران جماعت صرف قانون کی پکڑ میں نہیں ہیں، قدرت کا بھی ان سارے معاملات میں بڑا ہاتھ ہے۔ اُن کے دن پھِر چکے ہیں۔ ایک لمبی داستان، جس کا آغاز تین دہائیاں قبل ہوا تھا ، دھیرے دھیرے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ وہ باتیں اور وہ واقعات، جن کے بارے میں سوچا جا رہا تھا کہ ہمیشہ کیلئے دفنا دئیے گئے،اپنی گہری قبروں سے اُٹھ اُٹھ کے آ رہے ہیں۔اور ن لیگ کی قیادت جس راہ پر چل رہی ہے اسکے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ ملک کے انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں لیکن وزراء کہیں اور مصروف ہیں،اداروں میں ٹکرائو کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے جو کسی طرح بھی ملک کیلئے سود مند نہیں۔ عدالتوں کے احترام کا درس دینے والے آج مختلف راہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ ملک کے حالات کیا خراب ہوں گے۔ صرف اپنے ذاتی مفادات کیلئے مایوسی کی فضا پیدا کی جارہی ہے۔
جس طرح پانامہ لیکس نے حکمرانوںکا پیچھا نہیں چھوڑا اسی طرح سانحہ ماڈل ٹائون پر عدالتی کمشن کی رپورٹ بھی گلے کا طوق بنے گی۔ مجھے پاکستان عوامی تحریک سے کوئی غرض نہیں، نہ میں اُس کا نمائندہ ہوں۔ مگر ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ حکومت اُن 14پاکستانیوں کے بارے میں ضرور سوچے کہ وہ بھی پاکستان ہی کے شہری تھے۔ وہ بھی اسی جھنڈے تلے ایک تھے۔ جنہیں کچل دیا گیا لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران خصوصاََ پنجاب حکومت اُن افراد کو کڑی سزا دے جو اس سانحہ کے ذمہ دار تھے جو اس سانحہ کا شکار ہوئے۔