افغانستان میں امن

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
افغانستان میں امن

افغانستان ہمارا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے مگر افسوس ہوتا ہے افغانستان کی قسمت پر جو عرصہ دراز سے جنگ کے شعلوں میں جل رہا ہے۔ ظاہر شاہ کی حکومت روس نے گروائی اور پھر یکے بعد دیگرے روس نے اپنی مرضی کے کئی آمر افغانستان پر مسلط کئے۔روس کے مسلط کردہ آمروں کو محض حکومت کرنے یا اپنے باس” روس“ کو خوش کرنے کی غرض تھی نہ کہ عوام کی بہتری۔ یہ سارا عرصہ ملک کسی نہ کسی قسم کی خانہ جنگی کا شکار رہا۔ 1979میں بد قسمتی سے روس نے افغانستان میںبلا واسطہ طور پر اپنی فوجیں داخل کر دیں۔روس کے دو بڑے مقاصد تھے ۔اول افغانستان کی قیمتی معدنیات پر قبضہ کرنا اور دوسرا بلوچستان کے راستے بحر ہند کے گرم پانیوں تک پہنچنا جو کہ روس عرصہ دراز سے اس مقصد کا خواہش مند تھا۔ روسی جب افغانستان میں داخل ہوئے تو افغانوں نے ہتھیار اٹھا لئے۔امریکہ کو روس نے ویت نام میں ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا تھا اور امریکہ کو وہاں سے سر جھکا کر بھاگنا پڑا۔ جب امریکہ نے دیکھا کہ افغان روسیوں سے لڑنے کےلئے روسیوں کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں تو انہیں ویت نام والی شکست کا بدلہ لینے کا بہترین موقع نظر آیا۔ امریکیوں نے آزادی پسند افغانوں کی ہمت بندھائی۔انہیں ہتھیار فراہم کئے۔ پاکستان کو ان کی مدد کےلئے تیار کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمان ممالک خصوصاً عرب ممالک سے جنگجو بھرتی کر کے انہیں مجاہدین کا نام دے کر یہاں بلایا۔ پاکستان کی معرفت انہیں عسکری تربیت دلائی گئی اور پھر انہیں آزادی کیلئے لڑنے والے افغان مجاہدین کی مدد کےلئے افغانستان بھیج دیا گیا۔ پاکستان نے ان لوگوں کی کھل کر مدد کی اور بالآخر روس جیسی سپر پاور کو شرمناک شکست سے دو چار ہو کر وہاں سے نکلنا پڑا ۔یہ شکست اتنی عبرتناک تھی کہ روس اپنی سلامتی بھی برقرار نہ رکھ سکا اور ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔روس کی شکست اور ملکی تقسیم نے امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور بنا دیا۔ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر2001میں اپنی فوج افغانستان میں داخل کر دی۔امریکہ کے سامنے اسوقت کچھ خصوصی مقاصد تھے ۔اول یہ کہ افغانستان کی قیمتی معدنیات پر قبضہ اور ساتھ ہی وسط ایشیا اور بحیرہ کیپسین میں تیل اور گیس کی دولت سے مستفید ہونا اور دوم علاقے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو روکنا۔ ساتھ ہی ایران،پاکستان اور روس پر نظریں رکھنا۔ امریکہ کا اندازہ تھا کہ افغانستان جنگ کا مارا ہوا ملک ہے ۔مجاہدین روس سے لڑ لڑ کر تھک چکے ہیں ۔لہٰذا افغانستان پر قبضہ محض رسمی کاروائی ہو گی۔امریکہ کے تو خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ افغان مجاہدین اپنی آزادی کےلئے ہرقسم کی قربانی دے سکتے ہیں ۔ویسے بھی مجاہدین روسی فوجوں سے لڑ لڑ کر اب ” ہارڈ فائیٹرز “ بن چکے تھے۔امریکیوں کو روسیوں کی جگہ سنبھالتے ہوئے دیکھ کر افغان مجاہدین ایک دفعہ پھر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کےخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ امریکیوں کو اپنی جنگی ٹیکنالوجی اور خصوصی ائیر پاور کا بڑا زعم تھا۔ ان کا خیال تھا کہ مجاہدین جو اب طالبان کا روپ دھار چکے تھے چند ماہ سے زیادہ لڑنے کی سکت نہیں رکھتے ۔انہوں نے اسی نظریے کے مطابق جنگ شروع کی لیکن انکا زیادہ زور ” ہوائی بمباری “ پر تھا۔کچھ علاقوں پر تو امریکیوں نے بمباری کر کر کے حقیقتاً پاﺅڈر بنا دیا۔ تورابورا کی پہاڑیاں خصوصی ٹارگٹ بنیں کیونکہ امریکیوں کا خیال تھا کہ اسامہ بن لادن ان غاروں میں چھپا ہے۔ بہر حال اپنی تمام تر جنگی طاقت کے استعمال کے باوجود نہ تو اسامہ بن لادن ملا اور نہ ہی طالبان کو شکست ہوئی۔ امریکیوں نے طالبان کو شکست دینے کیلئے اپنی پوری قوت اکٹھی کی۔ نیٹو ممالک کی افواج بلائی گئیں جن کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار تک جا پہنچی جبکہ طالبان کی تعداد محض تیس ہزار تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی بڑی فوج جو جنگی لحاظ سے دنیا کی جدید ترین اور بہت تجربہ کار فوج شمار ہوتی تھی کے سامنے نہ تو طالبان گھبرائے اور نہ ہی مرعوب ہوئے۔وہ جدید ہتھیاروں اور ائیر پاور سے بھی محروم تھے لیکن آزادی کا جذبہ نا قابل شکست تھا ۔نتیجہ یہ نکلا کہ جذبہ جیت گیا اور بے پناہ طاقت ہار گئی ۔آج جنگ سترھویں سال میں جا رہی ہے اور آج بھی افغانستان کے 40فیصد علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ طالبان کا جذبہ آزادی آج بھی نا قابل شکست ہے ۔اب افغان اور امریکن فورسز مل کر طالبان کا مقابلہ کر رہی ہیں لیکن کامیابی کہیں بھی نصیب نہیں ہو رہی۔سمجھ نہیں آتی کہ امریکہ اتنا مسلمان مخالف کیوں ہے؟ امریکہ نے اسوقت مسلمانوں کیخلاف عراق ،شام، لیبیا، یمن اور افغانستان میں جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ پاکستان اور ایران کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ امریکہ نے ان ہنستے بستے ممالک کو جنگ کے ذریعے تباہ کر دیا ہے ۔لاکھوں کی تعداد میں بے قصور لوگ لقمہ اجل بنے اور لاکھوں معذور ہو گئے۔ ہر امریکی صدر نے ان ممالک کو شکست دینے کےلئے زیادہ سے زیادہ طاقت استعمال کی۔ مگر فتح کہیں بھی نصیب نہیں ہوئی اور نہ ہی اسکا امکان ہے۔ امریکہ بہادر کو بالآخر ویت نام کی طرح ان ممالک سے بھی دم دبا کر بھاگنا پڑیگا۔ اب نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور جنوبی ایشیاکیلئے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تین بنیادی نکات ہیں۔ اول یہ کہ افغانستان میں چار ہزار مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی آنے والی فوج افغان نیشنل آرمی کو تربیت دےگی اور افغان فوج کے ساتھ مل کر لڑے گی بھی سہی۔ ایسے نظر آتا ہے کہ امریکہ اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کیلئے تیار نہیں۔ باراک او بامہ کے دور میں جب ایک لاکھ تیس ہزار نیٹو افواج کچھ نہیں کر سکیں تو اب دس بارہ ہزار فوج کون سے گل کھلا لے گی۔ امریکی پالیسی کا دوسرا بڑا نکتہ بھارت کو افغانستان میں ڈویلپمنٹ اور عسکری کردار دینا ہے۔ یہاں بھی امریکہ یہ نہیں سمجھتا کہ بھارت امریکہ سے زیادہ ہوشیارہے۔بھارت نے فوری طور پر وہاں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی فوج اگر افغانستان میں جاتی تو امریکہ کی خواہش کے مطابق امریکی فوج کے ساتھ مل کر اسے طالبان کیخلاف لڑنا پڑتا جو بھارتی فوج کیلئے ممکن نہیں کیونکہ وہ انہیں پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کرتا ہے ۔ لہٰذا چالاک بھارت نے پہلے دن ہی عسکری کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ بھارت افغانستان میں امریکہ کی کسی قسم کی عسکری مدد نہیں کریگا البتہ ڈیو یلپمنٹ کا کردار بھارت خوشی سے ادا کریگا جس کے بدلے امریکہ سے کئی ایک مراعات لے گا اور افغانستان کو اپنی سٹیلائیٹ ریاست کے روپ میں ڈھالے گا جس کی مدد سے پاکستان میں چھیڑ چھاڑ جاری رکھے گا۔ اسکی معدنیات سے فائدہ اٹھائے گا اور چاہ بہار کی تکمیل کے بعد اسے وسط ایشیا میں اپنی تجارت کا مرکز بنائے گا۔ امریکی پالیسی کا تیسرا اور سب سے خطرناک نکتہ پاکستان کے خلاف معاندانہ رویہ ہے۔ امریکہ، بھارت اور افغانستان تینوں ملک چاہتے ہیں کہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں شفٹ کر دی جائے۔ اسی لئے امریکہ نے پاکستان کو دھمکی بھی دی ہے ۔بغیر اطلاع ڈرون حملے بھی کررہا ہے لیکن یہ خوش آئند بات ہے کہ ہماری حکومت نے امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت افغان جنگ اپنے ملک میں لڑنے کی اجازت نہیں دےگی۔ امریکہ سپر پاور ہونے کی وجہ سے ہر ملک کو طاقت سے زیر کرنا چاہتا ہے جبکہ اسے سمجھنا چاہیے کہ آزادی کا جذبہ طاقتور ہتھیاروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور افغانوں میں یہ جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ حیران کن بات ہے کہ سولہ سال مار کھانے کے باوجود امریکہ طاقت کے زعم میں مبتلا ہے۔ طاقت کے استعمال کو ہی جنگ جیتنے کا بہترین آپشن تصور کرتا ہے جو کہ امریکہ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔ امریکہ کو سمجھنا چاہیے کہ افغان مسئلے کا حل مذاکرات اور صرف مذاکرات ہیں جنگ نہیں ۔دوسرا یہ کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے صحیح کہا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ یہ کام پاکستان سے دوستی کے ذریعے سے ہو سکتا ہے عداوت کے ذریعے سے نہیں۔امریکہ بادشاہ کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ غیر ملکی فوج کی تعیناتی سے کبھی بھی افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا چاہے سو سال ہی جنگ کیوں نہ جاری رہے۔