پاکستان میں اورنج انقلاب

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
 پاکستان میں اورنج انقلاب

لاہور میں الیکشن ٹریبونل کے معزز جج جاوید رشید محبوبی کے فیصلے میں حلقہ این اے 125میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ کچھ اور حلقوں مثلاً NA 118, 122 اور NA 154 میں بھی اسی قسم کے فیصلے آ سکتے ہیں۔ مجھے یہ بھی خیال آتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہونے جا رہا کہ پاکستان میں بھی یوکرین کے اورنج انقلاب ٹائپ کوئی چیز مکمل ہونے جا رہی ہو۔ یوکرین میں 2004 میں ایک انقلاب آیا تھا جسے تاریخ اورنج انقلاب کے نام سے جانتی ہے۔ بعد کے واقعات سے ثابت ہو گیا کہ یوکرین کے لوگ جسے انقلاب سمجھ رہے تھے وہ درحقیقت امریکن سپانسرڈ ڈرامہ تھا۔
یوکرین میں نومبر2004 کے الیکشن میں وکٹر یاکونووچ کو فاتح قرار دے دیا گیا جس کے بعد ملک میں احتجاج شروع ہوگیا اور ہارنے والے امیدوار وکٹر یش چنکونے دارالحکومت خیف میں دھرنا دے دیا۔ روز بروز مظاہروں میں شدت آنے لگی اور ان میں پرتشدد واقعات بھی ہوئے اور سول نافرمانی کی تحریک بھی شروع ہو گئی۔ وکٹر یش چنکوکے مظاہرین اور دھرنا دینے والے نارنجی رنگ کا ایک بینڈ لگاتے تھے جو ان کی پہچان بن گیا اور اسی مناسبت سے یہ اورنج انقلاب کہلایا۔ پھر یوکرین کی سپریم کورٹ حرکت میں آئی، اس نے انتخابات کا جائزہ لیا اور بالآخر انہیں کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کا حکم دے دیا۔ اسکے بعد دوبارہ الیکشن ہوئے جس میں ہارا ہوا امیدوار وکٹر یش چنکو جیت گیا اور پہلے جیتا ہوا امیدوار وکٹر یاکونووچ ہار گیا اور یوں یوکرین کا اورنج انقلاب اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔ بہت عرصہ تک لوگ اسے جمہوریت کی فتح کہتے اور سمجھتے رہے لیکن آہستہ آہستہ ایک دن یہ عقدہ کھلا کہ ’جمہوریت کی فتح‘ درحقیقت امریکن سپانسرڈ تھی۔ امریکہ یوکرین میں اپنا ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتا تھا جو وکٹر یاکونووچ کے ہوتے ہوئے ممکن نہ تھا چنانچہ اس نے اورنج انقلاب کے ذریعہ اپنا آدمی وکٹر یش چنکو یوکرین پر مسلط کیا اور آنے والے سالوں میں اپنا ایجنڈا آگے بڑھایا۔ فروری 2014 میں جب وکٹر یاکونووچ ایک بار پھر یوکرین کا صدر بن چکا تھا، امریکہ نے جمہوریت کی ایک اور ’فتح‘ کے ذریعہ اس کے خلاف نہ صرف تحریک عدم اعتماد منظور کروائی، جیل سے اپوزیشن لیڈر یولیا تائی شنکو کو رہا کروایا اور بعد میں اپنی مرضی کے ایک امیدوار کو 25 مئی کے صدارتی الیکشن میں یوکرین کا صدر منتخب کروایا بلکہ یوکرین کو عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بنیاد رکھ دی جسکے بعد یوکرین آگے چل کر یورپی یونین کے یوکرین اور روسی یوکرین میں تقسیم ہو جائیگا۔
ابھی 25 اپریل کو کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن ہوئے تھے، لاہور کنٹونمنٹ بورڈ کم و بیش انہی علاقوں پر مشتمل ہے جو قومی اسمبلی کا حلقہ NA 125 ہے۔ ان الیکشن میں مسلم لیگ نواز نے 20 میں سے 15 اور تحریک انصاف نے 5 سیٹیں جیتی تھیں۔ مسلم لیگ نواز والے اس فتح کو عوامی ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں عوام نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا اور 11 مئی 2013 میں خواجہ سعد رفیق کی فتح بھی اصلی تھی۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن کے بعد یوں محسوس ہوتا تھا کہ شائد اس حلقے کا معاملہ نمٹ گیا ہے لیکن صرف دس دن بعد ہی لاہور میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلے نے ایک بار پھر ساری صورتِ حال کو متنازعہ بنا کر دوبارہ سے گرما دیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلٹ کر جھپٹنا ہی لہو گرم رکھنے کا بہانہ ہے۔ اس فیصلہ کے بعد جہاں ایک طرف تحریک انصاف کے کیمپوں میں جشن کا سا سماں ہے وہیں دوسری طرف مسلم لیگ نواز کے کیمپوں میں احتجاج اور ماتم کی کیفیت ہے۔ یہ دس دن پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن کے بعد والے ماحول کے بالکل برعکس ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ 68 سال گذر جانے کے بعد بھی ہم کولہو کے بیل کی طرح مسلسل ایک ہی دائرے میں گھومے جا رہے ہیں اور ہماری آنکھوں پر بندھی پٹی ہمیں دائیں یا بائیں بالکل نہیں دیکھنے دیتی۔اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ تو ہم شفاف الیکشن کروا سکتے ہیں اور نہ ہی ہم کسی الیکشن کا نتیجہ قبول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔یہی ہمارا کلچر ہے اور اسی کلچر کی وجہ سے ہم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔ یہاں میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کلچر سے ہماری قوم کا مستقبل سنور جائے گا، دودھ اور شہد کی نہریں تو ایک طرف رہیں کیا اس کلچر سے ہمارے لوگ ترقی اور خوش حالی کی طرف اپنا سفر شروع کر پائیں گے؟پاکستان کی سیاسی صورتِ حال سے دنیا میں بار بار ایک ہی پیغام جاتا ہے کہ ہم ابھی تک سیاسی طور پر نا بالغ ہیں۔ ہم کب تک دنیا کو اپنا یہ چہرہ دکھاتے رہیں گے؟ ہم کب یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے کہ عوام کا اصل مسئلہ روزگار، صحت، تعلیم اور غربت کا خاتمہ ہے۔ مسلم لیگ نواز ہو، تحریک انصاف ہو یا کوئی اور سیاسی پارٹی، یہ عوام کی پارٹیاں کب بنیں گیں؟ جس دن یہ پارٹیاں عوام کی پارٹیاں بن گئیں، اس دن سے نہ صرف لوگوں کے مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے بلکہ ملک کی ترقی اور خوش حالی کا سفر بھی شروع ہو جائیگا۔
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کوئی سپر پاور پاکستان میں اورنج انقلاب ٹائپ کوئی پروگرام بنائے بیٹھی ہے تو اس کا سد باب بھی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب وزیراعظم پاکستان پورے پاکستان اور تمام پاکستانیوں کا وزیراعظم ہو گا اور جب وہ تمام اہم عہدے اپنے ہی خاندان کے افراد کے حوالے کرنے کی بجائے اسے میرٹ پر پورا اترنے والے اہل لوگوں کے حوالے کریگا۔ اگر پاکستان کو جاتی عمرہ سٹیٹ کے طور پر چلانے کی کوشش کی جائیگی تو یہاں الطاف حسین جیسے لوگ ایک دن فوج کے خلاف بیان دے کر اگلے دن معافیاں بھی مانگتے پھریں گے، یہاں کا میڈیا ہر روز ایک نئی سازشی تھیوری بھی گھڑے گا، یہاں ہندوستان کی ایجنسیاں بلوچستان اور فاٹا میں گڑبڑ بھی کروائیں گی اور یہاں حلقہ NA 125 جیسے مناظر بھی دیکھنے کو ملیں گے جہاں ایک دن ایک پارٹی جشن مناتی ہے اور ہفتہ دس بعد دوسری پارٹی جشن اور پہلی سوگ مناتی اور احتجاج کرتی ہے۔ خدارا، پاکستان پر رحم کیجئے اور اس چیز کا موقع ہی نہ دیجئے کہ کوئی سپر پاور یہاں اورنج انقلاب کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہو۔