منطقی نتائج اور سیاسی مصلحتیں

کالم نگار  |  قیوم نظامی
 منطقی نتائج اور سیاسی مصلحتیں

پاک فوج کے چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ ہفتے کراچی کور ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور قوم کو یقین دہانی کرائی۔ ’’کراچی آپریشن منطقی انجام تک جاری رہے گا‘‘۔ پاکستان کے سپہ سالار تاریخ کے متحرک ترین سپہ سالار ثابت ہوئے ہیں جس جرنیل کے دل میں حب الوطنی کا چراغ جل رہا ہو وہ خاموش کیسے بیٹھ سکتا ہے۔ پاکستانی قوم کو اپنے سپہ سالار کے بیانات پر پورا اعتماد ہے ۔ خدا کرے وہ تاریخ کا ایسا باب رقم کرسکیں جسے نسل در نسل یاد رکھا جائے۔ پاکستان کی بدقسمت تاریخ میں ’’قومی مفاد‘‘ اور’’ منطقی انجام‘‘ کی اصطلاحیں بار بار استعمال کی گئیں جن کا مقصد فقط سیاسی مصلحتوں کا تحفظ تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد حمود الرحمن کمیشن قائم کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمے داروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ جب کمیشن نے اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ حکومت کو دے دی تو اسے پبلک کرنے کی بجائے ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر خفیہ رکھا گیا۔ امریکی فوج کا ایبٹ آباد آپریشن دوسرا بڑا قومی سانحہ تھا جس پر کمشن تشکیل دیا گیا اور وعدہ کیا گیا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب ذمے دار افسروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔ کمیشن کے سربراہ نے ایک پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ ’’لگ پتہ جائیگا‘‘ مگر قوم کو یہ پتہ نہیں کہ کمیشن کے سربراہ کہاں ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد حکومت پنجاب نے جسٹس باقر نجفی کو انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کیا اور قوم سے وعدہ کیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں ملوث افراد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ جب جسٹس باقر نجفی نے بلا خوف و خطر سانحہ کے ذمے داروں کا تعین کردیا تو کمیشن کی رپورٹ کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بجائے اسے متنازعہ بنادیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے عمران فاروق قتل کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کے سلسلے میں دھواں دار پریس بریفنگ کی اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا وعدہ کرکے چپ سادھ لی۔ پاکستان میں کمیشن سیاسی ضرورتوں کے تحت وقت گزاری اور عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے قائم کیے جاتے رہے۔
جب ریاست اور اسکے ادارے کمزور ہوں اور افراد و جماعتیں ریاست سے زیادہ مضبوط ہو جائیں تو پھر سیاسی مصلحتیں غالب آجاتی ہیں اور منطقی انجام خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کیلئے ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف قتل کے مقدمے کو ’’منطقی انجام‘‘ تک پہنچایا۔ محب الوطن سیاسی لیڈر کو پھانسی دی اور پاکستان کے ’’قومی مفاد‘‘ میں مہاجر کے نام پر سیاسی تنظیم کھڑی کی۔ اس تنظیم کے قائد الطاف حسین کو مضبوط بنایا۔ جنرل اسلم بیگ نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی سرپرستی کی۔ جنرل پرویز مشرف نے ذاتی اقتدار کیلئے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو اس قدر توانا بنادیا کہ اس نے پاکستان کے چیف جسٹس پر کراچی کے دروازے بند کردئیے جبکہ محب الوطن سیاسی لیڈروں میاں نواز شریف ، بے نظیر بھٹو پر سیاست کے دروازے بند کرکے انہیں جلاوطن رہنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ سب کچھ ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر ہوا۔ بے نظیر بھٹو نے ایم کیو ایم کو بھتہ خوروں اور قاتلوں سے پاک کرنے کیلئے آپریشن کیا۔ میاں نواز شریف نے اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بجائے سیاسی مصلحتوں سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایم کیو ایم نے آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسروں کو چن چن کر قتل کردیا۔ پاکستان آج ایک بار پھر اسی دو راہے پر کھڑا ہے۔ پاکستان کے سپہ سالار کراچی آپریشن کو خلوص نیت کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں مگر مرکز میں میاں نواز شریف اور صوبے میں آصف علی زرداری کی سیاسی مصلحتیں انکے راستے میں حائل ہیں۔ جب تک سیاسی انتظامیہ کا مکمل اور شفاف تعاون سکیورٹی اداروں کو حاصل نہ ہو کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانا ممکن نہیں ہوسکتا۔ سیاستدانوں کا سیاسی مصلحتوں پر مبنی رویہ اس وقت سامنے آیا جب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں پاکستان کی ریاست قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں شرمناک اور اشتعال انگیز گفتگو کی۔ آصف علی زرداری نے الطاف حسین کے افسوسناک خطاب پر سیاسی مصلحتوں کے تحت خاموشی اختیار کرلی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف بھی فوری احتجاج اور مذمت کی بجائے فوج کے ردعمل کا انتظار کرتے رہے۔ الطاف حسین اشتعال انگیزی کے بعد معافی مانگ لیتے ہیں۔ اپنی سیاسی زندگی میں اس قدر معافیاں مانگ چکے ہیں کہ تاریخ میں انہیں ’’معافی خان‘‘ کے نام سے یاد کیا جائیگا۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کا شدید ردعمل سامنے آیا انہوں نے کہا ’’فوج کیخلاف الطاف حسین کا بیان بیہودہ اور نا قابل برداشت ہے۔ الطاف حسین کیخلاف قانونی کارروائی کی جائیگی‘‘۔ فوجی ترجمان کے شدید ردعمل نے حکمرانوں کو ہلا کررکھ دیا۔ پیمرا حرکت میں آیا اور سیاستدان بھی مذمتی بیان جاری کرنے لگے۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان اسمبلی نے مذمتی قرارداد منظور کی۔ وزیراعظم پاکستان نے مصلحت آمیز بیان جاری کیا۔ حکومت کے ترجمان عمران خان کے ہر بیان کا جواب عقیدہ اور ایمان سمجھ کردیتے ہیں مگر وہ الطاف حسین کے شرمناک بیان پر خاموش رہے۔ پاکستان کے سپہ سالار بلاتفریق و بلا امتیاز کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچاناچاہتے ہیں مگر سیاستدان سیاسی مصلحتیں ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ پاکستان کا آئین ایسی صورتحال کا حل پیش کرتا ہے۔ سندھ کی حکومت کو آئین اور قانون کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا۔ وفاقی حکومت آئین کے مطابق چند ماہ کیلئے گورنر راج نافذ کرسکتی ہے۔ کراچی میں آپریشن کو کامیاب بنانے کیلئے ایک تجربہ کار، اہل اور غیر جانبدار گورنر کی ضرورت ہے جو خلوص نیت کے ساتھ سکیورٹی اداروں سے تعاون کرے۔ پاکستان کے مستقبل کیلئے لازم ہے کہ گورنر راج نافذ کرکے کراچی کے امن کو یقینی اور مستقل بنایا جائے۔ ان تمام سیاستدانوں اور مذہبی رہنمائوں کو بلاامتیاز ای سی ایل پر ڈالا جائے جن کے بارے میں شواہد موجود ہوں کہ وہ قاتلوں اور مجرموں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ جب تک دہشت گردوں اور مجرموں کے سرپرست قانون کی گرفت میں نہیں آئیں گے کراچی کا امن ایک خواب ہی رہے گا۔گورنر راج قومی سلامتی کیلئے لازمی ہے مگر سیاسی مصلحتیں آڑے آرہی ہیں۔
امن کے بغیر سیاسی اور معاشی استحکام ممکن نہیں ہوتا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں فکری نشست سے وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی کا خطاب جامع اور پرتاثیر تھا۔ انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں سنہرے خواب دکھائے۔ تقریب میں موجود دانشور، سیاستدان اور ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر نے عرفان صدیقی سے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں پاکستانی سنہرے خواب دیکھتے دیکھتے ’’گراں خواب پاکستانی‘‘ نہ بن جائیں۔ اطلاعات کے مطابق پی پی پی اور ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کو سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کیخلاف قرارداد پیش نہ کرنے دی۔ مسلم لیگ(ن) ، مسلم لیگ(ف) اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے بطور احتجاج ایوان سے واک آئوٹ کیا۔ الطاف حسین کے طویل ٹیلی فونک خطابات کے سلسلے میں حکومت سنگین غفلت کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ خوف اور دبائو کی وجہ سے الیکٹرانک میڈیا کے تمام چینل گھنٹوں الطاف حسین کا غیر معیاری اور غیر اخلاقی خطاب لائیو سناتے رہے۔ ان خطابات سے پاکستان کی سیاسی اخلاقیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اب مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم پر پابندی لگائی جائے۔ اس انتہائی اقدام کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئینگے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لائیو خطابات کی مدت پندرہ منٹ مقرر کرے اور الطاف حسین کے عاقبت نا اندیشانہ خطابات اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے اعترافی بیانات کی روشنی میں الطاف حسین کیخلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلا کر کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کیخلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ عسکری اور سیاسی مصلحتوں نے پاکستان کے مستقبل کو شدید خطرات میں دوچار کردیا ہے۔ اب وہ لمحہ آن پہنچا ہے جب پاکستان کو ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہو کر آئین اور قانون کے مطابق چلانے کی ضرورت ہے۔ کیا وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف چیلنج قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔