این اے 125 ، کس نے مینڈیٹ چرایا کس کا چوری ہوا!

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری
 این اے 125 ، کس نے مینڈیٹ چرایا کس کا چوری ہوا!

الیکشن ٹربیونل کے جج نے فیصلہ دیا ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار 11 مئی 2013ء کے انتخابات میں (ن) لیگ کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کی جانب سے دھاندلی ثابت نہیں کر سکے۔ انتخابی عملے نے بے ضابطگیاں کی ہیں اس لئے الیکشن کالعدم قرار دئیے جاتے ہیں۔ اس فیصلے سے خواجہ سعد رفیق کا دامن دھاندلی کے الزام سے صاف ہو گیا ہے اور کیونکہ وہ دھاندلی کے مرتکب نہیں ہوئے اس لئے انہیں آئندہ الیکشن لڑنے کا نا اہل قرار نہیںدیا گیا اس فیصلے کیخلاف وہ ہائیکورٹ اور سپریم میں بھی ج اسکتے ہیں اور دوبارہ انتخابی اکھاڑے میں بھی اتر سکتے ہیں۔ (ن) لیگ کے قائد نوازشریف کا یہ درست فیصلہ ہے کہ ٹربیونل کے تفصیلی فیصلے کے بعد قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائیگا دیکھاجائے تو اس مرحلہ پر (ن) لیگ کیلئے بہترین لائحہ عمل یہ ہو سکتا ہے جو وفاقی وزیر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ہم عدالت میں بھی جائیں گے اور انتخابی میدان میں بھی اتریں گے یہ فیصلہ قانونی ماہرین ہی کر سکتے ہیں کہ کیا بیگ وقت ایسا ممکن ہے۔ بہرحال اس حوالے سے (ن) لیگ ہی کوئی فیصلہ کریگی۔ ویسے میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ انتخابی دنگل ضرور سجنا چاہئے۔ اسی حلقے میں کنٹونمنٹ کے الیکشن میں (ن) لیگ نے جو سرخروئی حاصل کی ہے اس سے انکے حوصلہ بلند ہونے چاہئیں خواجہ سعد رفیق بچپن سے سیاسی کارکن ہے۔ انتخابی میدان کا بہترین فائٹر ہے دوسری اہم ترین بات یہ کہ خواجہ سعد رفیق نے الیکشن جیتنے اور وفاقی وزیر بننے کے بعد ہی اپنے حلقہ کے لوگوں سے رابطہ منقطع نہیں کیا وہ ایک عوامی شخصیت ہے جو تعفن زدہ گلیوں میں کچے اور نیم پختہ گھروندوں کے مفلوک الحال مکینوں کے ساتھ زمین میں بیٹھ کرانکے دکھ درد پھرول سکتا ہے 11 مئی کے الیکشن میں ان ہی لوگوں نے اسے کامیابی کی پگڑی پہنائی تھی یہ الیکشن دراصل دو طبقوں کے درمیان معرکہ تھا۔ ممی ڈیڈی گروپ کو عمران خان کی کشش پہلی مرتبہ گھروں سے باہر لائی اسکے مخصوص کلچر نے لالک چوک میں جدید میوزک کی دھنوں میں وہ سماں باندھے رکھا کہ نوجوانوں کیلئے کچے دھاگے سے کھچے آئینگے سرکار میری ’’کا معاملہ ہو گیا تھا اور لا ڈیفنس کا لالک چوک پر ان کیلئے مقناطیس بننے والا ہے۔
جہاں تک حامد خان کا تعلق ہے وہ ان پر کرپشن کا کوئی داغ دھبہ نہیں ہے۔ شریف و نجیب انسان ہیں اور وکلاء سیاست میں تو ایک بڑا نام ہیں تاہم وہ ایسی عوامی شخصیت نہیں ہیں جو گلی محلوں کی روایات پر پورا اتر سکیں البتہ اس میں کلام نہیں کہ وہ اسمبلی قانون سازی کے تقاضوں کو بخوبی نبھا سکتے ہیں۔
ٹربیونل کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں کا جشن قدرتی امر ہے لیکن یہ ان کی فتح نہیں ہے فتح کی منزل تک پہنچنے کا راستہ کھلا ہے جسے کامیابی سے طے کرنا ابھی باقی ہے دوسرے یہ تحریک انصاف کے موقف کی مکمل فتح اس لئے ہی نہیں ہے وہ اپنے دعویٰ کے مطابق اس حلقہ میں (ن) لیگ کی دھاندلی ثابت نہیں کر سکے ٹربیونل کے فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’حامد خان دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں دے سکے‘‘ ٹربیونل کے فیصلے نے جہاں دو سیاسی جماعتوں کیلئے دوبارہ معرکہ آرائی کا سامان کر دیا ہے وہاں اس فیصلے کے کچھ اور مضمرات بھی ہیں۔ (ن) کیلئے دوبارہ الیکشن کا چیلنج قبول کرنا حکم امتناعی حاصل کرنے سے زیادہ سودمند ہو گا قانونی و آئینی لحاظ سے لاکھ دوست سہی مگر سیاسی اعتبار سے صحیح فیصلہ نہیں تھا۔ عمران خان کے اعتراض پر چار حلقوں میں دوبارہ الیکشن کرا دیا جاتا تو موجودہ صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا اس اقدام سے ان چاروں حلقوں کا دوبارہ انکی جھولی میں گرنا بھی یقینی ہوتا۔ خواجہ سعد رفیق کی نشست سے محرومی (ن) لیگ کیلئے ہی نہیں اس ملک کی جمہوری قوتوں کیلئے بالخصوص موجودہ نظام کو برقرار روکھنے کی خواہاں قوتوں کیلئے بھی چیلنج ہے ضمنی الیکشن میں گر تحریک انصاف جیت گئی تو پھر پورے ملک میں ہونیوالے انتخابات کیخلاف اسے مہم کا جواز بنایا جائیگا (ن) لیگ سے سیاسی کد رکھنے والوں نے تو ٹربیونل کے فیصلے کو ہی مڈٹرم الیکشن کا جواز بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس نشست سے تحریک انصاف کی کامیابی کے بطن سے جو صورتحال جنم لے گی اس سے موجودہ نظام سوالیہ نشان بن سکتا ہے این اے 125میں کنٹونمنٹ کے الیکشن میں 20 میں سے 15 نشستوں کا حصول (ن) لیگ پر حلقہ کی جانب سے دوسری مرتبہ اعتماد کا اظہار ہے اس لئے وہ اس حلقہ سے تیسری مرتبہ بھی اعتماد کا یقین رکھ سکتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق کی نشست سے محرومی پر تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے بھنگڑے اور مٹھائیوں کی تقسیم نے 12 اکتوبر 1999ء کا منظر تازہ کر دیا ہے جب جنرل پرویز مشرف کی جانب سے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے پر پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے ٹھگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کی تھیں مگر وہ ایک عشرہ آمریت کی تاریکیوں میں رہے پھر بھنگڑے ڈالنے اور مٹھائیاں تقسیم کرنیوالی پیپلز پارٹی کو نواز شریف سے میثاق جمہوریت کرنا پڑا اور اسی نوازشریف ’’سہولت کار‘‘ اپوزیشن کے طفیل پانچ سالہ اقتدار کی مدت پوری کرنے کا موقع ملا۔
ملک کی سیاسی قوتوں کے ساتھ ساتھ عمران خان بھی یہ حقیقت فراموش نہ کریں کہ وہ اس وقت تاریخ کی نگاہوں میں ہیں وہ پورے ملک کے تمام حلقوں میں دوبارہ الیکشن کروا لیں اور بے شک ایک ایک کر کے قومی اسمبلی کی تمام نشستیں جیت لیں مگر سسٹم کو ڈی ریل کرنے کا داغ اپنے ماتھے پر نہ لگوائیں بالخصوص ایسے وقت میں جب چین کی بھاری سرمایہ پاکستان کے دشمنوں کے سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہی ہے اور داخلی سلامتی کیلئے خطرات کی گھنٹیاں بج رہی ہیں این اے 125 کا ضمنی الیکشن محض ایک حلقہ کا روایتی الیکشن نہیں ہے اسکے فوری اور دوررس اثرات محسوس کئے جانے چاہئیں خواجہ سعد رفیق کی یہ بات شاید بہت سوں کے سروں سے گزر جائے کہ ’’مجھے محسوس ہوتا ہے لندن پلان اور دھرنا سیاست کا سانپ ابھی مرا نہیں‘‘ اس میں سیاسی دانش رکھنے والوں کیلئے سوچنے سمجھنے کا بہت سامان ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اسکے رسولؐ کے نظام کی بات کرنیوالی تمام جماعتوں بشمول جماعت اسلامی کیلئے میں نرم گوشہ رکھتا ہوں اور یہ میری ذاتی دلچسپی کا پہلو ہے کہ این اے 125 میں جماعت اسلامی کیسی دانش و فراست کا مظاہرہ کریگی حرف آخر یہ کہ ضمنی الیکشن سے یہ بھی ثابت ہو جائیگا کہ کس کا مینڈیٹ چرایا گیا اور کس نے چرایا۔