’’غداری‘‘ کا غیر محتاط کھیل

کالم نگار  |  ڈاکٹر علی اکبر الازہری
’’غداری‘‘ کا غیر محتاط کھیل

مجھے اپنے بچپن کا ایک سیاسی ’’جلسہ‘‘ ابھی تک یاد ہے جو آزاد کشمیر میں ہمارے گائوں کے سادہ سے گھر کے ایک کمرے میں منعقد ہوا تھا۔ گاؤں کے کچھ لوگ چار پائیوں پر بیٹھ کر ہمہ تن گوش ایک ایسے شخص کا خطاب سن رہے تھے جو قریبی قصبے سے آیا تھا اور وہ سردار عبدالقیوم کی جماعت ’’مسلم کانفرنس‘‘ کے ٹکٹ پر قانون ساز اسمبلی کا الیکشن لڑ رہا تھا۔ میرے والد صاحب اور کچھ دیگر حضرات سردار صاحب کے نہ صرف بے دام اور مخلص سیاسی ورکرز تھے بلکہ وہ ان کی ’’ولایت‘‘ کے بھی قائل تھے۔ سردار صاحب کا انتخابی نشان گھوڑا ہوتا تھا اس لیے بہت سے عقیدت مند لوگ ان کو ایسے دیو مالائی شہسوار کے طور پر تصور کرتے تھے جو اقتدار میں آکر بھارت کی ایسی تیسی کر دیں گے اور یہ شہسوار سری نگر کو فتح کرتا ہوا سیدھا دہلی پر پاکستانی پرچم لہرائے گا۔ ہمارے گائوں میں منعقد ہونیوالے اس ’’جلسہ عام‘‘ میں پورے وثوق کیساتھ سردار صاحب کے نمائندے کی مخالفت کرنیوالے پیپلزپارٹی کے مقامی امیدوار سمیت ذوالفقار علی بھٹو کو بے دین اور غدار ثابت کیا گیا تھا۔ لہٰذا اس جلسے کے بعد ’’غدار‘‘ کو ووٹ دینے والے لوگ بھی ہماری نظروں سے گر گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان بچوں سے ’’مناظرے‘‘ کر کے ان کو بے دین اور غدار ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے جن کے والدین کی سیاسی ہمدردیاں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ ہوتی تھیں۔ اسی طرح میرے بچپن میں دوسری اہم سرگرمی ایک جلوس تھا جو شملہ معاہدے کیخلاف نکلا تھا۔ اس میں سارا دن ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ ’’بھارت کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘‘ کے نعرے لگائے جاتے رہے۔ اس میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کو بھارت کا یار اور کشمیر کا غدار ڈکلیئر کیا گیا تھا۔ حالانکہ معاملہ اسکے برعکس تھا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں قائداعظم محمد علی جناح کے بعد اب تک صرف ذوالفقار علی بھٹو واحد سیاستدان ہے جس نے قوم کو ایک متفقہ آئین دیا۔ پاکستان دولخت ہونے کے بعد اسے نیوکلیر پاور بنایا اور اسے اقوام عالم کی قطار میں کھڑے ہونے کا حوصلہ بخشا۔ جمہوریت کو گلی کوچوں میں متعارف کروایا، بنیادی انسانی حقوق کا شعور دلایا اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے ’’جرم‘‘ میں تختہ دار پر لٹک کر امر ہوگیا۔
بچپن گزرا اور میٹرک کے بعد مزید تعلیم اور روزگار کیلئے بڑے شہروں کا رخ کیا تو ’’غداروں کی فہرست‘‘ وسیع نظر آنے لگی۔ جب ضیاء الحق کا دورِ حکومت تھا تو اس نے پورے ملک میں نظامِ مصطفیؐ نافذ کرنے کا ’’لارا لگایا‘‘ ہوا تھا۔ لہٰذا ضیاء الحق کے مخالفین کو بھی براہِ راست دین دشمن اور غدار سمجھا جاتا تھا۔ پھر بے نظیر وطن واپس آئیں اور سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو خفیہ قوتوں کی سرپرستی میں نوازشریف کو دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کا مشترکہ لیڈر بنا کر محترمہ بے نظیر کیخلاف ملک دشمنی اور غداری کی مہمات چلائی جاتی رہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ لیاقت باغ میں نواز شریف کے سیاسی جلسے میں شیخ رشید نے نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو ’’غدار‘‘ اور سیکورٹی رسک ثابت کر کے ملک بدر کرنے کے عزم کو دھرایا اور نواز شریف سمیت پورے اجتماع سے داد وصول کی۔ الغرض ہماری سیاسی تاریخ میں بے شمار شخصیات ہیں جن کی مخالفت غداری کے الزام کی آڑ میں کی گئی اور خوب کی گئی بلکہ ضرورت محسوس ہوئی تو انہیں قلعوں میں بھی نظر بند کردیا گیا مگر جب حکومت کرنے کاوقت آتا رہا تو کل کے غدار آج کے سیاسی حلیف بنتے رہے۔ آپ آج بھی صوبائی قائدین اور سیاستدانوں پر نظر دوڑائیں تو خیبرپختون خواہ سے لے کر بلوچستان، سندھ اورکراچی تک آپ کو قدم قدم پر انہی ’’غداروں‘‘ کے ساتھ مل کر حکومت سازی ہوتی نظر آئیگی۔
نواز حکومت کا تختہ الٹا گیا تو پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے نواز شریف پر غداری کا مقدمہ دائر کر کے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ بے نظیر کے تعزیتی جلسے میں زرداری صاحب نے ق لیگ کو قاتل لیگ کا نام دیا مگر جب سیاسی ضرورت پڑی تو وہی ’’قاتل‘‘ انکی حکومت کا نائب وزیراعظم بن گیا۔ اب نواز شریف طویل انتظار کے بعد حکومت میں آئے ہیں تو پرویزمشرف پر بھی نواز حکومت نے غداری کامقدمہ دائر کر رکھا ہے جس پر حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات بھی ابھر کر سامنے آچکے ہیں۔ اسی طرح پرویز مشرف نے مغربی طاقتوں کو خوش کرنے کیلئے جب میڈیا کو آزاد کیا اور میڈیا ضرورت سے زیادہ آزادی کے جوہر دکھانے لگا تو اس وقت سے میڈیا کے بعض لوگوں کو بھی ’’غداری‘‘ کا الزام دیا جاتا رہا۔ چنانچہ صحافی اور تجزیہ کار حضرات دو بڑے گروپس میں تقسیم ہو چکے ہیں اور انکے مابین غداری اور وفاداری کا میچ جاری ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس وقت حکومت فوج کے خلاف ایک فریق بن چکی ہے اور فوج کی مخالفت کی وجہ سے وہ جنگ اور جیو کی پشت پر کھڑی ہے۔ اسی منظر نامے پر ایک دوسرا گروپ طالبان کیخلاف سخت موقف رکھنے کے ’’جرم‘‘ میں فوج پر اسلام سے غداری کا فتویٰ لگا رہا ہے۔ اسی طبقے کے قائدین دفاع وطن کیلئے دہشت گردوں کیخلاف لڑتے ہوئے جانیں قربان کرنے والوں کو شہید تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں اور اسکے مقابلے میں امریکہ کیخلاف لڑنے والے کتے کو بھی شہید سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے لوگوں کی اکثریت مذہبی سیاسی لوگوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ ملک کا بڑا طبقہ ماضی کے واقعات اور بیانات کی روشنی میں ان لوگوں کو بھی پاکستان کا غدار سمجھتا ہے۔
ملک سے وفاداری دین کی تعلیمات کا حصہ ہے۔ جس مٹی سے انسان پیدا ہوا، جن فضاؤں میں پلا بڑھا ان سے وفاداری اور اخلاص ایک فطری تقاضا ہے۔ دیکھا جائے تو غداری کا لفظ وفاداری کا متضاد ہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص غدار سمجھا جائے گا جو وفادار نہیں ہو گا۔ اب وفاداری کا دائرہ انسان کی ذات سے لیکر قومی ملی فرائض سمیت دین کے تقاضوں تک پھیل جاتا ہے۔ پاکستان بلاشبہ ایک نظریاتی ملک ہے اور اسکی اساس مذہبی جذبے پر رکھی گئی ہے۔ لہٰذا اس سے غداری براہِ راست مذہبی اقدار سے غداری کے مترادف ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اسکی بنیادیں کھوکھلی کرنے والوں کی اکثریت بھی مذہبی لوگوں پر مشتمل ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق یہ لوگ بھی سنگین غداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔
مندرجہ بالا مثالوں سے بتانا یہ مقصود ہے کہ ہمارے ہاں جس طرح مذہبی منافرت پھیلانے اور دوسروں کو نیچا دکھانے کیلئے کفریہ فتوے دینے سے گریز نہیں کیا جاتا اور پھر جب مفادات سمیٹنے کیلئے کسی سٹیج پر جمع ہونے کا موقع ملتا ہے تو ایک دوسرے سے یہی لوگ شیرو شکر دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح سیاسی شخصیات کو دوسروں کی نظر سے گرانے اور اپنا ووٹ بنک مضبوط کرنے کیلئے غداری کے الزام کا سہارا لیا جاتا ہے اور جیسے ہی انتخابات ختم ہوکر حکومتیں بنتی ہیں تو وزارتوں کی دوڑ میں ساری دشمنیاں غداریاں اور کرپشن کے ریکارڈ غائب ہوجاتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں جس طرح مذہبی شخصیات کے کردار کی وجہ سے مذہبی اخلاقیات نے اپنا وقار کھودیا ہے اسی طرح سیاسی اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل چکا ہے۔