ہمارے معزز مہمان

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ہمارے معزز مہمان

ہمارے خطے کو ابتدا ِ تاریخ سے یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اس خطے کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز ہیں۔ ہم نے نہ صرف آنیوالے مہمانوں کا ہمیشہ استقبال کیا بلکہ انہیں تاجِ حکمرانی تک بخشا۔یہاں ہن آئے، کشن آئے، آرین آئے، غزنوی، غوری، مغل،ابدالی اور آخر میں انگریز آئے اور ہم نے سب کے ساتھ بغیر کسی امتیازی سلوک کے پورا پورا حق میزبانی ادا کیا۔اب یہ صفت ہمارے خون میں داخل ہوچکی ہے۔
جب سے پاکستان بنا ہے ہم نے پاکستان کی تعمیرو ترقی پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی میزبانی پر دی ہے۔ اس لئے جس کا دل چاہا منہ اٹھا کر آگیا اور یہاں آکر جو دل چاہا کیا۔ ملک کی سلامتی ،ہماری عز تیں اور ہماری جانیں تک محفوظ نہ رہیں لیکن ہماری میزبانی میں فرق نہیں آیا۔افغانیوں نے تو عرصہ دراز سے بین الاقوامی سرحد ڈیورنڈ لائن کا تقدس ختم کر رکھا ہے۔ پہلے’’ پوندوں‘‘ کی شکل میں آتے تھے۔ ہماری چراگاہوں کا صفایا کرتے۔فری تجارت سے مال بناتے۔ موقع ملنے پر چوری ڈاکہ بھی ڈال لیتے۔ یوں آرام سے سردیاں گزار کر مال و دولت اکٹھی کرتے اور واپس چلے جاتے۔ پھر انہوں نے یہاں آکر سمگلنگ شروع کی اور پہلے سے دوہرا مال کمانا شروع کیا ۔  پھر افغان ٹرانز ٹ ٹریڈ کے ذریعے پوری دنیاسے پرتعیش سامان ہماری بندرگاہوں پر پہنچتا ۔جہازوں سے افغانستان کے لئے ان لوڈ ہوتا۔ڈیورنڈ لائن پار کئے بغیر یہ تمام سامان واپس آجاتا اور پاکستان میں بک جاتا۔یاد رہے کہ یہ وہ سامان ہوتا ہے جسکی ضرورت افغانستان میں قطعاً نہیں ہوتی اور وہ صرف ہمیں برباد کرنے کے لئے باہر سے منگواتے ہیں۔ افغان سمگلڈ مال کی وجہ سے پاکستان میں یوں ایک متوازی اکانومی معرض وجود میں آگئی۔ہمارے بازار سمگلڈ سامان سے بھر گئے ۔ انہی دنوں روس افغانستان پر حملہ آور ہوا تو افغا نیوںکو بذاتِ خود پاکستان تشریف لانے کا موقعہ مل گیا۔ وہ مہاجرین کے روپ میں یہاں آئے اور جگہ جگہ خیمہ بستیاں آباد ہو گئیں۔ پاکستان کے تمام بڑے بڑے شہروں میں باڑہ بازار کھول لئے اور یہ کاروبار دھڑلے سے آج تک جاری ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہمارے یہ معزز مہمان ہماری 20فیصد اکانومی پر غیر قانونی طور پر قابض ہیں۔
پھر ایک دوسری قسم کے مہمان یہاں آنا شروع ہوئے اور وہ تھے افغان طلباء جو بظاہر تو دینی تعلیم کے حصول کیلئے ہمارے اسلامی مدارس میں تشریف لائے۔ ہمارے علماء کرام نے انہیں اس حد تک نور اسلام سے منور کیا کہ وہ طالبان کے روپ میں آدھے افغانستان کے حکمران بن گئے اور اپنے زیر سایہ افغانوں کو مکمل اسلامی شرعی نظام سے متعارف کرایا ۔ کچھ عاقبت نا اندیش افغان اسلامی حکمرانی سے مستفید ہونے کی بجائے وہاں سے بھاگ کر پاکستان آ گئے اور یہاں پہلے سے آباد خیمہ بستیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے 35سے40لاکھ تک پہنچ گئی۔ ذریعہ معاش کے لئے یہ لوگ ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر ساتھ لائے اور ہمارے اسلام کے
 شید ائی لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کیا جنہیں با برکت اور خا لصتاً اسلامی سمجھ کر یہاں خوشی سے قبول کیا گیا۔اسی دوران دنیا جہان کے مسلمان جنگجو یہاں اکٹھے ہوئے جنہیں بیرونی دنیا تو ’’کرائے کے فوجی‘‘ سمجھتی ہے لیکن ہمارے لئے قابل احترام مجاہدین تھے ۔انکا اصل مقصد کافر روس کے خلاف جنگ کرنا تھا۔ ہم نے انہیں اپنے علاقوں اور طالبان کے زیر سایہ افغان علاقوں میں تربیتی سہولتیں فراہم کیںجس میں افغان طالبان بھی شامل ہو گئے اور یوں ایک بہترین فائٹنگ مشین معرض وجود میں آئی۔افغانستان سے روسی کفر تو شکست کھا کر ختم ہو گیا لیکن اسکی جگہ امریکہ بہادر بمعہ جنگی سازو سامان تشریف لے آیا جس سے طالبان حکومت ختم ہو گئی اور اسکے ساتھ ہی افغان طالبان اور غیر ملکی مجاہدین بھی یہاںتشریف لے آئے اور فاٹا کو اپنا مسکن بنایا۔افغانستان میں تو یہ لوگ کچھ کر نہ سکے لیکن پاکستان انہیں نسبتاً ایک آسان ٹارگٹ نظر آیا۔
پہلے یہ صرف فاٹا کے علاقے پر قابض ہوئے اور پھر آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیل گئے۔ ان سے متاثر ہو کر ہمارے کچھ علماء کرام اورکچھ شاطر قسم کے نیم ملائوں نے بھی دیسی طالبان کی پیداوار شروع کی جواصل طالبان کا بازو بن گئے۔اب یہ لوگ بزور طاقت پاکستان میں اپنے نظریہ اسلام کے مطابق شرعی اسلامی ریاست قائم کرنے پر بضد ہیں۔ جو بھی انکے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کرتا ہے بموں یا خود کش دھماکوں سے اڑا دیا جاتاہے۔ان لوگوں کا جادو اب سر چڑھ کر بول رہا ہے۔اسوقت فاٹا میں تقریباً چار سے پانچ ہزار چیچن، افغان، ازبک، تاجک اور عرب سخت جان گوریلا فائیٹرز ہمارے مہمان موجود ہیںجنکا مقصد ہی حکومت پر قبضہ ہے۔
دوسری طرف ہمارے افغان مہاجرین بھائی ہیں۔واپس جانے کی بجائے اکثریت یہاں آباد ہو چکی ہے۔ انکی موجودہ تعداد تقریباً25سے 30لاکھ ہے جو ہماری میزبانی سے تا حال شرف یاب ہو رہے ہیں۔ یہاں دل بھر کر سمگلنگ کرتے ہیں ۔ہیروئن اور راکٹ بموں تک ہتھیار اور دیگربڑے بڑے ٹیکس فری کاروبار کرتے ہیں۔ٹرانسپورٹ سروس ہے۔ ہر جگہ باڑا بازار کھول رکھے ہیں ۔ پاکستان سے اجناس ،جانور اور حتیٰ کہ انسانوں تک کو افغانستان سمگل کر دیتے ہیں اور ہم سارا سال یہاں روٹیاں گلے میں ڈال کر جلوس نکالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انکی کچھ آبادیاں مکمل طور پر دہشت گرد کیمپوں میں بدل چکی ہیں ۔انکی ایک معقول تعداد بذات خود دہشت گردی میں ملوث بتائی جاتی ہے۔ یہ لوگ ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور طالبان کو ہر قسم کی امداد بھی فراہم کرتے ہیں ۔بنک ڈکیتیوں اور اغواء برائے تاوان میں بھی ملوث ہیں لیکن چونکہ ہمارے یہ معزز مہمان ہیں اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ افغان مہاجرین اور طالبان ایران بھی گئے تھے لیکن ایران نے انہیں محض اپنے کیمپوں تک محدود کیا اور یوں انکے جوش جہاد سے بچ گیا۔
ہماری مہمان نوازی صرف افغان مہاجرین یا طالبان تک ہی محدود نہیں ۔یہاں دنیا کے کسی ملک کا کوئی بھی تخریب کار آکر ہماری میزبانی سے مستفید ہو سکتا ہے مثلاً امریکن اور امریکیوں کی معرفت موساد، را، اور رام کے لوگ عرصہ دراز سے یہاں دندناتے پھرتے ہیں۔کبھی بلیک واٹر کے روپ میں اور کبھی Dyn Corp کے روپ میں ،کبھی NGO'Sکے روپ میں اور کبھی ایڈوائزرز کے روپ میں یہاں ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں۔ امریکی ایمبیسی اسوقت پوری ایک فوجی چھائونی کا روپ دھار چکی ہے۔ جدید ترین الیکٹرانک ڈیوائسز کی مدد سے ہمارا پورا الیکٹرانک نظام مانیٹر ہوتا ہے اور بوقت ضرورت اسے مکمل طور پرناکارہ بھی بنایا جا سکتا ہے ۔ہمارے ہی لوگوں کو ملازم رکھ کر ہمارے ہی لوگوں کو آسانی سے مرواتے ہیں۔ بم دھماکے کراتے ہیں اور جہاںدل چاہے ریمنڈ ڈیوس جیسے مستند جاسوس بھی چھوڑے جاتے ہیں۔ ایبٹ آباد آپریشن اسکی دوسری مثال ہے۔ ہم میں جراٗت ہے اور نہ صلاحیت کہ ہم اپنے مہمانوں کو الوداع کہہ سکیں۔ لہٰذا ہم جو دل چاہے بیانات دیتے رہیں۔ کوشش کر لیں یا منت سماجت کر لیں ۔ مذاکرات کا ڈول ڈالیں یا فوجی کاروائیوں کی دھمکیاں دیںلیکن جب تک یہ معزز مہمان سر زمین پاکستان پر موجود ہیں یہاں وہی ہوگا جو کچھ یہ چاہیں گے۔ یہ لوگ ہماری نفسیات ہم سے بہتر سمجھتے ہیںاور ہم بزدل لوگوں کیطرح غصے سے صرف اپنے بازو کاٹتے ہیں۔کسی کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے۔یاد رہے بھارت نے صرف ایک دفعہ 1971میں بنگالیوں کی مہمان نوازی کی تھی۔ سود سمیت قیمت وصول کر لی اور تاریخ کا رخ بدل دیا۔