مہنگائی کا خاتمہ کب ہو گا؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
مہنگائی کا خاتمہ کب ہو گا؟

چلئے ایک دروازہ تو ایسا ہے جو دستک دینے پر عوام کے لیے کھلتا اور ان کی مقدور بھر داد رسی کرتا ہے اور وہ ہے عدلیہ کا دروازہ۔ بد ترین مہنگائی میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان تو خیر کیوں بولیں گے ،اپوزیشن بھی اس شدت اور شدو مد سے نہیں بولتی کہ جس کی عوام اس سے توقع رکھتے ہیں۔میڈیا اگرچہ کبھی کبھار مہنگائی کو بھی عنوان بناتا ہے لیکن اکثر و بیشتر اس کے بھی مو ضوعات دوسرے ہوتے ہیں ۔ادھر غریب آدمی کو مہنگائی کی کند چھری سے مسلسل ذبح جا رہا ہے وہ دن بدن زندہ درگو ر ہو رہا ہے ۔غریب غریب تر بن چکا ہے اور اب تو نان شبینہ سے بھی محروم طبقات کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔غربت کی وجہ سے خود کشیاں ،بچوں کو خود ذبح کرنا،نہروں میں کنبے سمیت چھلانگ لگانا ،اپنے بچوں کو فروخت کرنا وغیرہ کے واقعات بڑھ گئے ہیں ۔
گزشتہ دنوں عدالت عظمیٰ نے بالآخر عوام کے اس سلگتے ہوئے مسئلے کا نوٹس لے لیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے آٹے کی مہنگائی اور نایابی پر ایک خط کے ذریعہ عدالت کو توجہ دلائی تو عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے تمام صوبائی چیف سیکریٹریز سے رپورٹ طلب کر لی۔
20 روپے من آٹا ہونے پر ایوبی آمریت کے خلاف تحریک چلانے والی قوم اب 55 روپے کلو آٹا خریدنے پر مجبور ہے ۔یہ امر واقع ہے کہ باسمتی چاول 140 روپے کلو ،خوردنی تیل 200 روپے لٹر،دالیں 120 سے 150 روپے کلو، دودھ 70 سے80 روپے لٹر  اور کوئی بھی سبزی 70 روپے سے 120 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر ہم نے کیا جرم کیا ہے ؟کیا ہمارے ووٹوں کی یہی سزا ہے کہ ہم سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے ۔عدالت عظمیٰ نے بجا طور پر حکومت سے سوال کیا ہے کہ وہ چار افراد پر مشتمل کنبہ کہ جس کی آمدن 7 سے  9 ہزار روپے ماہانہ ہے، اس کا بجٹ بنا کر پیش کرے ۔مہنگائی کی اس بڑھتی ہوئی لہر کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈالنا یا اسے ایک عالمی مجبوری قرار دینا کسی صورت بھی قرین انصاف نہیں اس لیے کہ موجودہ مہنگائی کے اسباب بالکل واضح اور اظہر من الشمس ہیں ،ان میں سے چند حسب ذیل ہیں :۔
جی ایس ٹی میں اضافہ :۔
موجودہ حکومت نے آتے ہی جی ایس ٹی کی شرح میں کم از کم ایک فیصد اضافہ کردیا ۔ ایک فیصد اضافے سے قیمتوں میں 12 فیصد اضافہ نا گزیز ہے چنانچہ قیمتوں میں یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ اسی طرح متعدد اشیاء کہ جن پر پہلے جی ایس ٹی نافذ نہیں تھا ،ان پر جی ایس ٹی کا نفاذ کیا گیا اور کئی اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح تبدیل کی گئی ۔
آئی ایم ایف سے قرضہ :۔
کشکول گدائی توڑنے کی دعویدارحکومت نے بڑی کوششوں اور منت ترلوں کے بعد آئی ایم ایف سے 6.7 ارب ڈالر کا قرضہ آئی ایم ایف کی بدترین شرائط پر حاصل کیا۔ ایسی شرائط ماضی میں کسی حکومت نے کبھی قبول نہیں کیں۔ ان شرائط میں بجلی،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت کے تعین میں سٹیٹ بنک کی مداخلت کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ قرضہ بھی معیشت میں کسی استحکام کا ذریعہ قطعا نہیں بن سکتا کہ یہ بنیادی طور پر سابقہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے لیا گیاہے۔
قرضوں کی معیشت :۔
قرضوں پر انحصار فرد کرے یا ریاست، وہ ہمیشہ اس کی گردن کا ایک طوق ثابت ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح اپنی حکومت کا مدار قرضوں پر رکھا ہوا ہے۔اس وقت حکومت پاکستان پر کل قرضہ 17356 ارب روپے کا ہے جس کے مطابق ہر پاکستانی شہری ایک لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ یہ قرضے ہمارے جی ڈی پی کے 62.7 فیصد کی خطرناک شرح تک پہنچ چکے ہیں ۔موجودہ حکومت نے بھی 3 ماہ میں 1128 ارب روپے کے قرضے لئے ہیں قرضوں کی وجہ سے افراط زر میں اور اس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہو تا ہے ۔
بالواسطہ ٹیکسوں کی بھر مار :۔
دنیا بھر میں امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں پر خرچ کئے جاتے ہیں یہاں غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں کو پالا جاتا ہے۔ ٹیکسوں کی شرح کا فارمولا یہ ہوتا ہے یا ہونا چاہیے کہ 70 فیصد براہ راست اور 30 فیصد بالواسطہ ٹیکس ہوں۔ ہمارے ہاں 70 فیصد بالواسطہ اور 30 فیصد براہ راست ٹیکس ہیں ۔بالواسطہ ٹیکس غریب عوام ادا کرتے ہیں ۔بجلی ، گیس ،پٹرول، ڈیزل ،سی این جی ،ایل پی جی، حتیٰ کہ مو بائل فون و غیرہ پر غریب عوام ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور جن کے اربوں روپے کے اثاثے اور وسیع کاروبار ہیں وہ چند ہزار روپے ٹیکس ادا کر کے صاف بچ جاتے ہیں۔ زرعی آمدن پر ٹیکس کی چھوٹ سے ملک و قوم کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ جا گیر دارانہ سیاست کا بڑا سہارا یہی کالا دھن اور ٹیکسوں سے بچائی ہو ئی رقم ہے۔ بالواسط ٹیکسوں کی وجہ سے غریب کے لیے جان اور عزت بچانی بھی مشکل ہو گئی ہے۔
پرائس کنٹرول سے بے اعتنائی  :۔
فری مارکیٹ اکانومی کے اصول کے تحت قیمتوں ،ذخیرہ اندوزی ،سٹہ بازی وغیرہ پر کنٹرول کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں ۔کھیت سے صارف کے درمیان 10 منافع خور موجود ہوتے ہیں۔ کاشتکار کو بھی محنت کا صلہ نہیں ملتا اور صارفین کی جیبوں پر بھی روزانہ ڈاکے پڑتے ہیں ۔حکومتیں نہ صرف یہ کہ اس منظم ڈاکے سے غافل ہیں، بلکہ وہ اس میں حصہ دار ہیں۔چند سیاسی خاندانوں کی ملیں ہیں اور وہ اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود عوام کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اتوار بازاروں پر مقامی ایم این اے،ایم پی اے اور پارٹی عہد ے داروں کا قبضہ ہے ۔چونکہ یہاں سے منظم بھتہ ملتا ہے اس لیے عوام کو یہاں بھی ریلیف نہیں ملتا۔