چین تک

کالم نگار  |  اعجاز حسن

”میں کبھی بیجنگ نہیں گیا“ مترجم نے اداس لہجے میں کہا۔ کیوں ”میں ایک لفظی سوال دغا‘ جواب ملا‘ ”آئی کانٹ افورڈ اٹ“ وہ بیس سالہ خوش شکل نوجوان تھا جو یونیورسٹی میں انگریزی زبان سیکھ رہا تھا اور فرصت کے اوقات میں بطور مترجم خدمات پیش کرتا تھا۔ گوانزو میں وہ ہمارا ترجمان اور گائیڈ تھا۔ ہم گوانزو کے امیوزمنٹ پارک میں تھے۔ برستی پنوار نے منظر کو مزید دلکش کر دیا تھا۔ چند افراد مخصوص چینی ورزش میں مشغول تھے‘ دوسری جانب دائرے میں چند لوگ ایک شٹل نماشے کو پیرں سے اچھال رہے تھے اور حاصل یہ تھا کہ وہ زمین پر نہ گرے۔ چند لمحات وہاں گزارنے کے بعد ہم جمعہ کی ادائیگی کیلئے گوانزو ہوئی شنگ مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ زیر زمین ٹرین سے اترنے کے چند منٹ بعد ہم مسجد کے دروازے پر تھے۔ مرکز دروازے پر کھڑے باریش نوجوان نے بتلایا کہ نماز کی ادائیگی 1:30 پر ہو گی۔ وضو کیا اور مسجد میں داخل ہو گئے۔ خطبہ چینی زبان میں تھا جو ہم سمجھنے سے قاصر تھے البتہ جہاں کہیں عربی زبان میں آیت یا حدیث سنائی دیتی وہاں دل شاد ہو جاتا۔
گوانزو میں ہماری آمد کا سبب کینٹن فیئر تھا‘ جوکہ اپنی وسعت اور معیار کے احوال سے معروف ہے۔ ایک ملین مربع میٹر سے زائد کی وسعت اور پچاس ہزار سے زائد سٹالر پر محیط یہ نمائش دنیا بھر کے تاجروں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں تاجر ہر سال دو مرتبہ گوانزو کا رخ کرتے ہیں۔ بھاری مشینری‘ آلات طب و جراحی‘ تیار شدہ لباس‘ غذائی اشیائ‘ تجمیل و تحسین سے متعلق مصنوعات اور بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ گوانزو ایک دلکش شہر ہے۔ دریا کے کنارے آباد اس صنعتی و تجارتی شہر کو چین کا لاس اینجلس کہا جاتا ہے۔ فلک بوس عمارتیں‘ کشادہ سڑکیں‘ برقی رو پر دوڑتی بسیں اور زیر زمین میٹرو نے اس کو ایک جدید شہر کا روپ دیا ہے۔ وقفے وقفے سے بارش‘ ہمہ وقت بادلوں کی چھتری اور بے بہا ہریالی نے اسے حسن سے لاد دیا ہے۔
گوانزو اور بیجنگ میں حلال کھانے کی دستیابی تھوڑے سے تردد کے بعد ممکن ہے۔ حلال‘ مسلم فوڈ‘ مطعم اسلامی وغیرہ کی علامات مسلم ریسٹورنٹس کو نمایاں کرتی ہیں۔ عام طور پر سنکیانگ کے مسلمان ان ریسٹورنٹس کو چلاتے ہیں۔ عربی‘ ترکی اور پاکستانی ریسٹورنٹس بھی اکا دکا موجود ہیں۔ ابن انشاءکا چین اب بہت بدل چکا ہے‘ اب سڑکوں پر بائیسکل کی بجائے امپورٹڈ کاروں کی بہتات ہے‘ گرم پانی کی جگہ سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس لے رہے ہیں۔ سادگی کی جگہ فیشن اور قدامت کی جگہ جدت قوم جما رہی ہے۔
”یہ دیوار 6500 کلو میٹر لمبی ہے‘ بیرونی حملہ آوروں سے بچنے کیلئے تعمیر کی گئی‘ 800 سال سے لیکر 2000 سال تک قدیم ہے۔ بیجنگ کے قرب و جوار میں اس کو دیکھنے کے 5 سے 6 مقامات ہیں‘ جس مقام پر میں آپکو لے جا رہا ہوں یہ سب سے عمدہ ہے‘ لفٹ چیئر کی سہولت بھی یہاں موجود ہے۔ جدید دور میں جو عجائبات عالم ہیں ان میں یہ سرفہرست ہے ”گائیڈ رٹے رٹائے جملے بول رہا تھا اور ہم سننے میں مگن تھے۔ بیجنگ پہنچنے کے بعد اب ہم دیوار چین کی طرف رواں دواں تھے۔”آپ فضا کی ہر وہ شے کھا سکتے ہیں جس کے پر ہیں سوائے ہوائی جہاز کے اور آپ زمین پر موجود ہر وہ شے کھا سکتے ہیں جس کی چار ٹانگیں ہیں سوائے میز کے ”گائیڈ نے مسکراتے ہوئے کہا“ کھانے کے معاملے میں یہ ہمارے ہاں غیر رسمی ضابطہ ہے“
ہم دیوار چین کے قریب تھے اور اب اس پر چڑھنے کا مرحلہ تھا۔ دیوار پر چڑھنے یا دیوار پھلانگنے کیلئے جو وسیلہ اور چستی چاہئے اسکی چنداں ضرورت نہیں‘ یہ دیوار ذرا مختلف ہے‘ ایک صورت مضبوط پھیپھڑا اور مضبوط جوتا ہے‘ وگرنہ 65 یوان میں آپ لفٹ چیئر (ہوائی کرسی) کے ذریعہ سے چند منٹ میں اس عجوبہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ ایسی طویل دیوار جس کے دوسرے سرے پر پہنچنے کی آرزو ہی کی جا سکتی اور ایسی عریض کے دس افراد کندھے سے کندھا ملا کر چل سکیں۔ سلک سٹریٹ بیجنگ میں خریداری کرتے ہوئے یہ اصول بہرحال طے ہو گیا کہ بازار بہاول پور کا ہو یا بیجنگ کا‘ بھا¶ تا¶ کے فن سے آشنائی ضروری ہے اور بیجنگ میں اسی لئے بھی کہ وہاں معصوم چہرے اتنے بھی معصوم نہیں ہوتے۔ تنوع کی کثرت اور وقت کی قلت ہے‘ بائع ہوشیار اور بیدار ہے جبکہ مشتری انجان اور حیران ہے۔
چین میں چند روز گزارنے کے بعد ایک تو ہم چینی زبان سے آشنا ہو گئے اور دوسرا اشاروں کی زبان سے کیونکہ ”نی ہا¶“ سے ابتدا کے بعد انتہا موخر الذکر ہی پر ہوتی تھی۔ مسلم ہوٹل میں رہائش اختیار کرنے کے فوراً بعد ہم نے ہوٹل کا ایڈریس کارڈ حاصل کیا‘ جس پر چینی زبان میں ہوٹل کا پتا تحریر تھا‘ جب کبھی لوٹ کر آنے میں وقت کا سامنا ہوتا‘ تو کارڈ ٹیکسی ڈرائیور کے ہاتھ میں پکڑا دیتے۔ ہوٹل کی نویں منزل سے پردہ ہٹاتے تو نظر بلا رکاوٹ کھیل کے میدانوں اور رننگ ٹریکس پر جا پڑتی۔ باقاعدگی سے صبح و شام تربیت جاری ہے‘ چین نے حالیہ اولمپکس میں اپنی محنت و مہارت کا جو مظاہرہ کیا وہ قابل دید بھی تھا اور قابل داد بھی۔ آبادی کی کثرت معیشت کیلئے نقصان دہ ہے‘ اس نظرئیے کو چین نے غلط ثابت کر دیا‘ اس وقت وہ سب سے زیادہ تیزی سے نمو پانے والی معیشت ہے اگر افراد محنتی اور ہنر مند ہوں‘ ہدف واضح اور متعین ہو تو آبادی کی کثرت قیمتی سرمایہ ہے۔