ملک مسائلستان کیوں بنا؟

کالم نگار  |  ملک حبیب اللہ بھٹہ

وفاقی وزےر منصوبہ بندی کا آبادی کے بڑھ جانے کی وجہ سے آٹھ نئے مےگا سٹےز بنانے کی منصوبہ بندی نے حےرت زدہ کر دےا ہے۔ راقم الحروف نے 67 ءاور 98 ءمےں اپنے مضامےن کے ذرےعے پےشن گوئےاں کی تھےں جو حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ مےگا سٹےز جرائم کی اماجگاہ بن چکے ہیں جن کی وجہ سے ملک مسائلستان بن گےا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے قرآنِ حکےم کی صرف اےک آےت پر عمل کرنے سے بڑھتی ہوئی آبادی خود بخود کنٹرول ہو جاتی ہے اور معاشرہ بھی صحت مند خطوط پر قائم ہوجاتا ہے۔”ارشاد ربانی ہے“ جس کا مفہوم ہے ” اور مائےں پلائیںدودھ اپنے بچوں کو پورے دو سال“۔ اسکی تشہےر ہنگامی بنےادوں پر کی جائے تاکہ ےہ شعور پےدا ہو کہ ماں کے اپنے بچے کو دودھ پلانے مےں رب کائنات نے منصوبہ بندی کی حکمت عملی رکھی ہے۔ لیکن بد نےتی پر مبنی منصوبہ بندی سے کراچی کی اہمےت کو حد سے زےادہ بڑھا چڑھا کر اچھالاگےا ۔ اس شہر مےں زےادہ سے زےادہ وسائل روزگار جمع کر دئےے گئے ۔ ملک کی بےشتر آبادی کوبےروزگاری ، مفلسی اورجہالت کا شکار کر دےا۔ملک کے چاروں اطراف سے روز گار کی تلاش مےں کراچی کی طرف انتقال آبادی کے عمل کو کون روک سکتا تھا ۔
کانگرسی ہندوﺅں اور مسلمانوں کے پروپےگنڈہ سے متاثر جن مسلمانوں نے ےہ سوچ کر ہجرت نہےں کی تھی کہ پاکستان قائم نہےں رہ سکتا ۔ 52ءکے بعد پاکستان کے حالات کا جائزہ لےنے کے بعد ےہ ےقےن کر لےنے پر کہ پاکستان قائم رہے گا ، انہوں نے بھی ہندوستان سے غےر قانونی نقل مکانی شروع کر دی ۔ 47ءمےں جن مسلمانوں نے پاکستان مےں ہجرت کی، وہ بھرے گھر چھوڑ کر صرف اپنی جانےں بچا کر آئے، لےکن جن لوگوں نے دنےاداری کی خاطر نقل مکانی کی، وہ اپنے اثاثے اطمےنان سے فروخت کر کے پاکستان مےں غےر قانونی طور پر داخل ہوتے رہے۔نقل مکانی کرنیوالے کمال عےاری سے پانچ روپے کے اسٹامپ پر جھوٹے حلف نامے داخل کر کے جھوٹے کلےموں کے دعوےدار بن کر پاکستان میں جہاں داﺅ لگا قےمتی متروکہ جائےدادےں الاٹ کروائےں او ر انہےں فر وخت کر کے کراچی کا رخ کےا۔ اس طرح انہوں نے اصلی مہاجرےن کے حقوق پر ڈاکے ڈالے ۔ ان نام نہاد مہاجرےن کے دلوں مےں اسلام اور پاکستان کیلئے آ ج تک محبت پےدا نہےں ہو سکی۔ اےسے ہی مفاد پرست آج بھی غےر قانونی نقل مکانی کا جرم کر کے پاکستان مےں داخل ہو رہے ہےں ۔ ہندوستان سے غےر قانونی نقل مکانی کرنے والوں کی چھان بےن کی جائے تو ےقےنا ےہ ثبوت بھی ملےں گے کہ ہندوستان سے جرائم پےشہ مسلمان گرفتاری سے بچنے کیلئے نقل مکانی کے ذرےعے کراچی منتقل ہو رہے ہیں ۔
اگر کوئی بھارتی مسلمان بہتر زندگی کے حصول کی خاطر نقل مکانی کا جرم کر سکتا ہے تو اےک خوفناک مسلمان مجرم گرفتاری سے بچنے کیلئے بھارت سے غےر قانونی نقل مکانی کرنے کا جرم کےوں نہےں کر سکتا؟ اس طرح اندرون ملک اور بےرون ملک سے خوفناک مجرم کراچی کی بے ہنگم پھےلی ہو ئی آبادی مےں گم ہوتے چلے گئے ۔ کراچی ، جوکبھی امن کا گہوارہ تھا، محبتوں بھرا شہر تھا، جس کی راتےں دن سے بھی زےادہ پر رونق تھےں، جس کی مانگ مےں روشنےوں کا سندور بھرا ہو ا تھا۔ آبادی کے خوفناک اژدھے اور جرائم پےشہ افراد نے مل کر کراچی کو امن پسند لوگو ں کیلئے جہنم بنادےا۔ کراچی کے مفاد پرست عناصر نے پچاس مےل کے دائرے مےں آنیوالی بنجر بے آب و گےاہ اور لق و دق زمےن کو مختلف ہاﺅ سنگ سوسائٹےوں کی صورت مےں ملک کے ہر کونے سے آئے ہوئے لوگو ں کے ہاتھوں سونے سے بھی قےمتی بنا کر فروخت کر کے کھربوں روپے کے سرمائے کو حاصل کےا۔ امپورٹ اےکسپورٹ اور صنعتی اداروں کے قےام کے پرمٹس کراچی مےں رےوڑےوں کی طرح بانٹے گئے، جنہےں فروخت کر کے بے پناہ دولت اکٹھی کی گئی ۔ رہی سہی کسر سٹہ بازی نے پوری کر دی ۔ اس طرح کراچی مےں دولت کے انبار لگ گئے ۔ ان وسائل کے ارتکاز نے کراچی کی آبادی کو اےک کروڑ سے بھی زےادہ کر دےا۔
کراچی مےں انتقامی سےاسی قتل کی ابتداءجنرل محمد اےوب خان کے صدر بننے پر جشن منانے کیلئے نکالے گئے جلوس کی طرف سے فائرنگ سے شروع ہوئی ۔ جس مےں کراچی کی ان آبادےوں کو نشانہ بناےا گےا ،جہاں سے محترمہ فاطمہ جناح کو صدارتی انتخاب مےں بھاری اکثرےت مےں ووٹ پڑے تھے۔ اس سےاسی آگ کو آج تک کوئی ٹھنڈا نہےں کر سکا ےہ سلگتی رہتی ہے۔ جب بھی کو ئی سےاسی آندھی چلتی ہے تو ےہ بھڑک اٹھتی ہے۔اےسے موقع پر جرائم پےشہ افراد اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہتے ہےں غےر ملکی اےجنسےاں بھی ان جرائم پےشہ افراد سے کام لےتی ہےں۔
جنرل محمد اےوب خان کے صدارتی انتخابات کے بعد کراچی پر حکومت کی گرفت ڈھےلی پڑنی شروع ہو گئی تو لاہور والوں نے اس سےاسی صوتحال سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے لاہور کی توسےع کراچی کی طرز پر کرنی شروع کر دی ۔ اس طرح ملکی وسائل کا بےشتر حصہ لاہو ر پر خرچ ہونے لگا ۔ زراعت کے اعتبار سے درمےانے درجے کی زمےنوں پر ان گنت کالونےاں تعمےر ہونے لگےں ۔ کھربوں روپے کا سرماےہ زمےنوں کی فروخت سے حاصل ہو ا ۔ اس طرح لاہور بھی صنعتی ،تجارتی اور آبادی کے لحاظ سے بے حسا ب پھیلتا گےا ۔ چند اور شہر بھی اس دوڑ میں شامل ہونے لگے ۔
 بے ہنگم شہری آبادی کے ہجوم مےں لوگوں کی شناخت ختم ہو گئی ۔ لوگ ہمساےہ کی تارےخ اور جغرافےہ سے بے خبر ہوتے گئے ۔ انہےں معلوم نہےں کہ انکے ہمسائے مےں کوئی شرےف آ بسا ہے ےا کوئی جرائم پےشہ۔ اس طرح معاشرہ تےزی سے تنزل پذےر ہونے لگا۔ لوگ حقوق ہمسا ئےگی سے غافل ہونے لگے، فاصلوں نے حقوق ہمسائےگی کی ادائےگی مشکل ترےن بنا دی ۔ لوگ اندھےرے منہ روزگار کیلئے گھروں سے نکلتے ہےں جب رات کی سےاہی آسمان پر پوری طرح پھےل جاتی ہے تو بمشکل گھروں کو واپس لوٹتے ہےں ۔ انہےں تو اپنے بےوی بچوں کی دےکھ بھال کیلئے مناسب وقت نہےں ملتا ۔ وہ دوسروں کے حقو ق ہمسائےگی کےسے ادا کرےں ۔ اس طرح ہر کوئی نفسا نفسی کا شکار ہے۔
بڑے شہروںکے بے ہنگم آبادی کے پھےلاﺅ سے نہ صرف جرائم بڑھنے لگے ہےں بلکہ بڑے شہروں کی خوشحالی اور چھوٹے شہروں کی غربت مےں واضح فرق بڑھ رہا ہے،معاشی ناہمواری سے معاشرے مےں قتل و غارت ، لوٹ مار ، ڈکےتی ، رہزنی ، منشےات فروشی ، سمگلنگ، رشوت، دہشت گردی اور بالآخر مذ ہبی دہشت گردی پھےل رہی ہے ۔ےہ ساری وبائےں خوفناک حد تک پھےلی ہو ئی آبادےوں سے اٹھےں اور انہوں نے پورے پاکستان کو اپنی لپےٹ مےں لے لےا۔ قوم نے جب بھی اقتصادی بدحالی ، بد انتظامی اور حکمرانوں کی بے اےمانےو ں سے تنگ آ کر حکومت کے خلاف کامےاب جدوجہد کی ، تو ہر آنیوالی حکومت نے پورے ملک کی بجائے چند بڑے شہروں خاص طور پر کراچی اور لاہور کیلئے اربوں روپے کے پیکیج کا اعلان کرتی رہی اور باقی ملک پہلے ہی کی طرح محرومےوں کا شکار ہے۔ ےہ مذاق بالکل اسی طرح ہوتا رہا ہے جےسے قوم نے ووٹ تو دےااسلام کو لےکن ٹی وی نے نشر کےا کہ جنرل محمد ضےاءالحق پانچ سال کیلئے صدر منتخب ہو گئے ہےں جس کے نتےجے مےں پوری قوم ششدر ہو کر رہ گئی۔
کراچی اور لاہور کے تمام مسائل کو سامنے رکھنے سے پہلے جنگی اعتبار سے انکے محل و قوع پر غور کرنا ضروری ہے ۔ کراچی سمندر کے ساحل پر ہو نے کی وجہ سے بارڈر اےرےا ہے اور لاہور تو ہے ہی بارڈر پر ۔ اس طرح ملک کے دو بڑے صنعتی اور تجارتی شہر دشمن کی توپوں اور مےزائلوں کی زد مےں ہےں ۔ ہمارے منصوبہ سازوں کو ان شہروں کی حد سے زےادہ توسےع کے منصوبے بنانے سے پہلے ےہ تو سوچناچا ہےے تھا کہ ہمارا پڑوسی ملک کتنا کمےنہ دشمن ہے۔ اگر اس نے کبھی عالمی قوانےن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شہری آبادےوں کو نشانہ بناےا تو ان شہروں پر کےا قےامت بےت جائے گی مےرا قلم اس کا احاطہ کرتے ہوئے کانپ اٹھتا ہے ۔ اگر جنگ عظےم دوئم مےں دنےا کے سب سے بڑے امن کے ٹھےکےدار نے ناگا سا کی اور ہےرو شےما پر اےٹم بم گرادئےے تھے تو پاکستان کو بھی اپنے شاطر دشمن سے خےر کی توقع نہےں رکھنی چاہےے۔ (جاری)