دو کردار ایک کہانی

کالم نگار  |  غلام اکبر

عام لوگ اکثر اپنی عقیدتوں کی شدت اور قوت سے کچھ ایسے اشخاص کو دیو مالائی کرداروں میں تبدیل کردیا کرتے ہیں جو غیر معمولی صلاحیتیں اور ناقابلِ یقین مقناطیست رکھنے کے باوجود بشری کمزوریوں اور خطاﺅں سے پاک نہیں ہوا کرتے۔5جولائی 1977ء کا دن ہماری قومی تاریخ کی جن دوشخصیات کے اردگرد گھومتا ہے اُن میں سے ایک کو تو اسی طرح کا ایک دیو مالائی کردار کہا جاسکتا ہے اور دوسری شخصیت کم از کم اتنی اہمیت ضرور رکھتی ہے کہ اسے ہم اپنی تاریخ کا ایک کلیدی کردار قرار دیں۔میری مراد ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور جنرل ضیاءالحق مرحوم سے ہے۔ دونوں کا ذکر ایک ساتھ کرنا ایک فطری امر ہے کیوں کہ ہماری قومی تاریخ میں جس پولرائزیشن نے 1960ءکی دہائی کے اواخر میں جنم لیا اور جن متحارب سوچوں نے ہماری قومی سیاست کو دائیں اور بائیں بازﺅوں میں تقسیم کردیایہ دونوں شخصیات 5جولائی 1977ءکے بعد اس پولرائزیشن اور ان متحارب سوچوں کی پہچان بن گئیں۔
بھٹو کو عوامی امنگوں کا دیوتا بنانے میں انکے حامیوں اور پرستاروں کی اندھی عقیدتوں نے جیسا کردا ر ادا کیا ویسا ہی کردار جنرل ضیاءالحق کو اسلامی اقدار کا نقیب ثابت کرنے میں دوسرے سیاسی کیمپ کی بے لچک بھٹو دشمنی نے ادا کیا۔
آج 2013ءمیں اگرچہ جمہوری امنگوںکیساتھ وابستگی کا والہانہ اظہار کئے بغیر کوئی بھی سیاستدان اقتدار کی دوڑ میں بہت آگے تک نہیں جاسکتا اور جنرل ضیاءالحق مرحوم اور انکے دور ِ اقتدار سے لاتعلقی ظاہر کرنا ہر طالبِ اقتدار کی ایک ناگزیر مجبوری ہے لیکن اس حقیقت کو بہرحال نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ بھٹو مرحوم کو تختہ دار تک لے جانے کی ساری ذمہ داری جنرل ضیاءالحق مرحوم کے سرپر نہیں ڈالی جاسکتی۔ وہ تمام سیاسی قوتیں بھی اس افسوسناک فعل میں برابر کی شریک ہیں جن کے ہاتھوں میں 5جولائی 2013ءتک پاکستان قومی اتحاد کا پرچم لہراتا رہا اور جو 5جولائی 2013ءکے بعد بھٹو مرحوم کو اُنکے ” منطقی “ انجام تک پہنچانے کیلئے جنرل ضیاءالحق مرحوم کی آلہ کار بن گئیں ۔ دوسرے الفاظ میں جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو تختہ ءدار تک صرف جنرل ضیاءالحق کے آمرانہ اختیارات یا اُس وقت کی عدلیہ کے جانبدارنہ رویوں نے نہیں پہنچایا ۔ اس ” جرم “ میں وہ تمام سیاسی طالع آزما بھی شامل تھے جو پہلے جنرل ضیاءالحق کے رفقائے کار بنے رہے اور اسکے بعد اُس سیاسی خلاءکو پرُ کرنے کے کام میں لگ گئے جو جنرل ضیاءکی حادثاتی موت کی وجہ سے پیدا ہوا۔
ہماری قومی سیاست میں ”نظریاتی وابستگی “ پر ” طلبِ اقتدار “ کو جو فیصلہ کن برتری حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں ببانگِ دہل ” جئے بھٹو “ کا نعرہ لگانے والے کئی لیڈر 1980ءکی دہائی میں جنرل ضیاءالحق کی مجلس شوریٰ کے بڑے پرُ جوش ارکان تھے اور آج جو اکابرین فوجی آمریت کے تصور تک کو قومی سیاست کیلئے زہرِ قاتل قرار دیتے ہیں وہ متذکرہ دہائی میں جنرل ضیاءالحق کے ” سایہ ءشفقت “ تلے پروان چڑھ رہے تھے۔
 گزشتہ انتخابی مہم کے دوران ہم نے دیکھا کہ صبح کے وقت جو شخص جناب آصف علی زرداری کے ساتھ ناشتہ کررہا ہوتا تھا وہ شام کو پریس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ )ن(میں اپنی شمولیت کا اعلان کردیتا تھا۔اس پس منظر میں 5جولائی 1977ءسے منسلک دونوں شخصیات کا حقیقی مقام جاننا ان لوگوں کے لئے یقینی طور پر دلچسپی کا باعث ہوگا جو حقائق کو اپنی اندھی عقیدتوں کی روشنی میں نہیں پرکھتے۔
5جولائی 1977ءتک کا سفر جناب ذوالفقار علی بھٹو نے دو دہائیوں سے زیادہ کے عرصے میں طے کیا۔
ان کا نام پہلی بار 8اکتوبر1958ءکے اخبارات میں اُس کابینہ کے ایک رکن کی حیثیت سے پڑھا گیا جو صدر سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان نے اپنے مشترکہ ” انقلاب “ کے بعد قائم کی۔ بھٹو مرحوم کو تب انکے اپنے حلقہ ءاحباب میں ہی جانا جاتا تھا ۔ کہا یہ گیا کہ ان کی اہلیہ نصرت بھٹو سکندر مرزا کی اہلیہ ناہید کی سہیلی ہیں۔ دونوں کا تعلق ایران سے تھا۔ بعد میں بھٹو مرحوم کا ایک خط سامنے آیا جو انہوں نے صدر سکندر مرزا کو یورپ کے کسی شہر سے لکھا تھا اس خط کا عکس میری نظروں سے گزرا ہے اور اس پر 30اپریل 1958ءکی تاریخ درج ہے۔ اس میں بھٹو مرحوم نے سکندر مرزا مرحوم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا۔
” آپ نے میرے سپرد جو کام کیا تھا وہ بخیر و خوبی انجام پا گیا ہے۔ میں عنقریب واپس آرہا ہوں۔ میرے لائق کوئی اور کام ہو تو ضرور آگاہ کریں۔ آپ کی خدمت کرنا میری خوش نصیبی ہے۔ اسے آپ خوشامد مت سمجھئے گا۔ میں دل کی گہرائیوں سے سمجھتا ہوں کہ آپ ہماری تاریخ میں قائداعظم ؒ سے بھی بلند تر اور زیادہ قابلِ تعظیم مقام کے حامل ہیں۔“
سکندر مرزا کو اتنے عظیم مقام پر فائز کرنے والے بھٹو 27اکتوبر1958ءکو جنرل ایوب خان کے منظور نظرِ بن گئے۔ پاکستان کے اس مردِ آہن کی کابینہ کے ایک باصلاحیت با عزم اورباتدبیر رکن کی حیثیت سے اقتدار کی منزلیں طے کرنا بھٹو مرحوم کیلئے زیادہ کٹھن سفر ثابت نہیں ہوا۔ پہلے انہوں نے قوم کے سامنے اپنے آپ کو صلاح الدین ایوبی ؒ جیسے ولولے رکھنے والے سپاہی کی حیثیت سے پیش کیا۔ پھر وہ فیڈل کا سترو اورشی گویرا جیسا نقلابی ویژن رکھنے والے عہد ساز ” قائدعوام “ بن گئے۔اُنکے خواب آہستہ آہستہ انہیں 5 جولائی 1977ءکی طرف لے گئے جسے و ہ اپنی منزل بنانا تو ہرگز نہیں چاہتے تھے لیکن اقتدار کی اندھی طلب آدمی کی ذہنی صلاحیتوں پر اپنا منفی اثر ڈالے بغیر نہیں رہتی ۔ انہوں نے اپنی مخالفت میں اٹھنے والے ہر طوفان کا راستہ روکنے اور اپنے اقتدار دوام دینے کیلئے چند ایسے اقدامات کئے جو اُنکے زوال کا پیش خیمہ بنے۔
مارچ 1977ءمیں انتخابات کرانے کا فیصلہ انہوں نے یہ سوچ کر کیا تھا کہ امریکہ میں قائم ہونیوالی ڈیموکرٹیک ایڈمنسٹریشن کو پاکستان کی سیاست میں مداخلت کا زیادہ موقع نہیں ملے گا۔ لیکن وہ بھول گئے کہ خطرہ انہیں امریکی مداخلت سے نہیں اس ” اتحاد “ سے تھا جو غیر مرئی طور پر کئی ماہ سے چپکے چپکے ملک گیر سیاسی قوتوں کے درمیان ان کیخلاف قائم ہورہا تھا۔ اگر عام انتخابات سے پہلے وہ کچھ سیاسی جماعتوں کو ” اِنگیج“ کرنے کیلئے کچھ موثر اقدامات کرتے تو شاید ” پاکستان قومی اتحاد “ جیسی ہمہ جہت اور ملک گیر تحریک اس قدر فعال انداز میں جنم نہ لے سکتی۔ میں یہاں اپنے قارئین کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری جوانی اگرچہ ”بھٹوازم “ کی آبیاری میں گزری تھی لیکن پاکستان قومی اتحاد کے قیام کے وقت میرا پورا وجود بھٹو کیخلاف آگ اگلنے والا لاوا بن چکا تھا۔جس بھٹو کو سر بلند دیکھنے کیلئے میں نے اپنی جوانی کے بہترین سال خرچ کئے تھے مارچ 1977ءکے عام انتخابات میں اس کیخلاف ووٹ کا استعمال کرتے وقت مجھے ایک عجیب سا سکونِ قلبی محسوس ہوا۔ ایک ماہ بعد متذکرہ عام انتخابات میں زبردست دھاندلی کیخلاف جو ملک گیر تحریک شروع ہوئی ¾ میں اسکا ایک پُرجوش کارکن تھا۔مجھے وہ عظیم الشان ریلی آج بھی یاد ہے جو 9اپریل 1977ءکو لاہور میں نکلی تھی جس میں میں بھی شامل تھا‘یہ ریلی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ میں نے اپنی کتاب ”جھوٹ کا پیغمبر“ کو اسی رات قلمبند کرنا شروع کیا۔ میرے ابتدائی الفاظ یہ تھے۔ ” میں ایک مجرم ہوں ۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے 1970ءمیں بھٹو کو ووٹ دیا تھا۔“ میں نے اس کتاب کا ذکر جذبات وافکار کی ان شدتوں کو سمجھنے کیلئے کیا ہے جو پاکستان قومی اتحاد کے وجود میں آنے کا باعث بنیں اور جن کی کوکھ میں جنرل ضیاءالحق کے سیاسی عزائم اور خوابوں نے جنم لیا۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو اِن سیاسی عزائم اور خوابوں کے راستے میں ایک دیوار بن سکتے تھے‘ اگر وہ 22اپریل 1977ءکو جزوی مارشل لاءلگانے کا فیصلہ کرنے کی بجائے یہ اعلان کردیتے کہ ” اگر چہ میں نے انتخابات کو منصفانہ انداز میں منعقد کرانے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن چونکہ عوام کی ایک غالب اور متحرک اکثریت کا خیال ہے کہ انتخابی عمل میں زبردست دھاندلی ہوئی ¾ اس لئے میں نے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کرلیا ہے۔“ بھٹو مرحوم کی سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ انہوں نے خود آگے بڑھ کر تاریخ کا رخ نہیں موڑا۔ اپنی مخالف قوتوں کو موقع دیا کہ وہ آگے بڑھ کر تاریخ کا سٹیرنگ وہیل اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔
میری حقیر رائے میں اقتدار پر قابض ہونے کا فیصلہ جنرل ضیاءالحق مرحوم 5جولائی 1977ءسے بہت پہلے کرچکے تھے۔