دھرنے کے اثرات و مضمرات

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
دھرنے کے اثرات و مضمرات

فیض آباد دھرنے سے پہلے بہت کم لوگ ویل چیئرپر بیٹھے' سفید داڑھی والے معذور شخص کو جانتے تھے شیخ الحدیث مولوی خادم حسین رضوی اتنے گم نام بھی نہیں تھے لیکن ان کی آتش بیانی کی شہرت اور چرچا جدید ذرائع ابلاغ خاص طور پر YouTube کے ذریعے جابجا پھیل رہا تھا صرف main stream ذرائع ابلاغ کو اس کا علم نہیں تھا کہ ہم گنبدِ بے در بند ہوتے ہوئے اس وہم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ'ہم سب جانتے ہیں'مولانا رضوی ان کے نزدیک ایک عام مولوی تھا جس کی باتوں پر توجہ دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔تحریک لبیک یارسول اللہ ‘نے حالیہ ضمنی انتخابات میں غیرمتوقع طور پر جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے سطحی علم و دانش کے حامل ذرائع ابلاغ کے شاہ دماغوں کو چکرا کر رکھ دیا ۔فیض آباد کے مرکزی چوک پر دھرنے نے تین ہفتے کے لئے نظام زندگی مفلوج کر دیا۔ریاست دھرنے کے شرکا کے مطالبات کے آگے ڈھیر ہوگئی۔ اس اعصاب شکن دور میں مولانا خادم حسین رضوی کی شخصیت، حلیہ اور ان کے مخصوص اندازگفتگو سے بچہ بچہ واقف ہوگیا۔ لیکن جناب خادم حسین رضوی سے واقفیت رکھنے والے چند ہی ہیں۔ وہ کہاں سے تشریف لائے ہیں اورایجنڈا کیا ہے؟ چرچا ہے کہ خادم رضوی نجانے کہاں سے آن ٹپکے؟ بلند آہنگ اور بے تکلف اندازِ گفتگو کے ساتھ غیر معروف مولانا بریلوی سیاست کا نیا چہرہ بن کر منظر پر ابھرا ہے۔ 

خادم رضوی ممتاز قادری کی حمایت میں نمودار ہوئے تھے جس نے توہین رسالت کے قانون کوکالا قانون قرار دینے پرسلمان تاثیر کا قتل کیا تھا۔قبل ازیںخادم رضوی صاحب دو ہائیوں تک محکمہ اوقاف سے بطور امام مسجد وابستہ رہے تھے۔ انہیں باربار تنبیہہ کی گئی کہ وہ ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف مہم جوئی نہ کریں ناکامی پر رضوی صاحب کو فارغ کر دیا گیا۔ مولانا رضوی نے اپنی برطرفی آزادی کا پروانہ جانا اور پنجاب حکومت کی واجبات ادا کرنے اور بڑے بچے کو نوکری دینے کی پیشکش بھی ٹھکرادی۔ نوکری کی پابندیوں سے آزادی نے مولانا رضوی کو اپنے بے قابو جذبات اور بلند و بالا خیالات کے بڑے پیمانے پر اظہار کا موقع میسرآگیا۔اس نے اپنی توجہ کا محور توہین رسالت ؐ سے متعلق مجموعہ تعزیرات پاکستان (پاکستان پینل کوڈ)کی شق 295سی کے لئے عوامی حمایت کے حصول کوبنالیا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ملک کے طول وعرض کے دورے شروع کردئیے۔ عوامی سطح پر اس سفر کے دوران ممتاز قادری کی رہائی کے لئے آواز اٹھانا اس عمل کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔
خادم رضوی نے جنوری 2016 میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزار پر ریلی کا اعلان کرکے اجازت لینے کی زحمت نہ کی۔ پولیس نے روایتی لاٹھی چارج اور پانی کی تیز دھار سے مظاہرین کو نشانہ بنا کر منتشر کرکے فتح حاصل کرلی۔پہلا دھرنا ممتاز قادری کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد دیگر بریلوی گروہوں کے مدد سے پارلیمنٹ ہائوس کے عین سامنے واقع اسلام آباد کے ڈی چوک میں دیا گیا جو چار دن جاری رہا شاہ احمد نورانی مرحوم کے صاحبزادے اویس نورانی کی ثالثی پر ختم ہوا۔ حکومت نے مظاہرین کو محفوظ راستہ فراہم کردیا اور ان کے کچھ مطالبات بھی مان لئے۔
ڈی چوک سے وقت رخصت مولانا رضوی نے اعلان کیاتھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کا ہر جگہ سامنا کریں گے۔ جس کے بعد انہوں نے تحریک لبیک یارسول اللہ ؐ کے قیام کے لئے الیکشن کمشن کو درخواست دی۔وہ بڑے فخر سے اپنے آپ کو شان ناموس رسالت کا چوکیدار' پہریدار اور خدمت گذار قرار دیتے ہیں یہی شناخت انہیں شہرت کے موجودہ مقام تک لے آئی۔ پنجاب کے آخری ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب میں پیدا ہوئے۔ اپنی نجی زندگی کے بارے میں گفتگو کرنا پسند نہیں کرتے۔ وہ حافظ قرآن ‘شیخ الحدیث اور کلام اقبال کے شیدائی ہیں۔ خاص طور فارسی کلام والہانہ انداز میں پڑھتے اور جھومتے ہیں محکمہ اوقاف پنجاب سے وابستگی کے دنوں میں داتا دربار کے نزدیک پیر مکی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیاکرتے تھے۔ 2006میں گوجرانوالہ کے نزدیک ہونے والے حادثے نے انہیں وہیل چئیر پر بٹھا دیا لیکن یہ معذوری ان کے بیتاب جذبوں کے آگے بند نہ باندھ سکی۔’رضوی‘ کہلوانے والے شیخ الحدیث' شیعہ نہیں ہیں وہ بریلوی مسلک کے بانی امام احمد رضاخان بریلوی کے سچے پیروکار ہیں ۔نوازشریف کی نااہلی کے بعد قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120کا ضمنی انتخاب خادم رضوی کو سیاسی منظر پر لے آیا ان کی جماعت اس وقت رجسٹرڈ نہیں تھی لیکن ان کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شیخ اظہر حسین رضوی نے 9 ہزار130 ووٹ حاصل کرکے اپنا سیاسی وجود منوالیا۔
خادم رضوی نے ببانگ دہل کہاکہ یہ ووٹ ہمیں نہیں بلکہ اس نصب العین کو ملے ہیں جو ہم نے طے کیا ہے۔ جماعت اسلامی کو 519 ووٹ ہی مل سکے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو ایک ہزار چار سو چودہ ووٹ نصیب ہوئے۔ تحریک لبیک کا اولین اور انتخابی میدان میں دوسرا مرحلہ قومی اسمبلی کا پشاور کا حلقہ این اے 4 تھا جہاں 26 اکتوبر2017 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں ڈاکٹر محمد رفیق امینی نے تحریک کے امیدوار کے طورپر 9 ہزار935 ووٹ حاصل کئے۔ یہ ووٹ کے پی کے حکومت میں شامل جماعت اسلامی کے امیدوار کے 7 ہزار 668 ووٹوں سے زائد تھے۔
ہمارے پروفیسر وزیرِداخلہ احسن اقبال تو مقامی تھانیدار کی مدد سے صرف تین گھنٹے میں دھرنے کو تتر بتر کرنے کا فاتحانہ اعلان کرکے جگ ہنسائی کرا رہے تھے ۔ بیوروکریسی اور انٹیلی جنس کے اندازوں کے برعکس خادم رضوی فیض آباد پل پر ڈٹ گئے۔ ان کے ساتھیوں نے اسلام آباد ایکسپریس وے بند کردی۔ باربار کی حکومتی کوششیں بارآور نہ ہوسکیں۔ اسلام آبا ہائیکورٹ نے دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا۔ دھرنے کے اٹھارویں روز25نومبر کو حکومت نے ناکام آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں پرتشدد ہنگامے ہوئے۔ جن میں سات افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے
حکومت اور انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ نون لیگی میڈیا کا دعوی تھاکہ اس دن دوپہر تک حکومت کے خلاف مظاہرین کی تعداد میں "پراسرار" اضافہ ہوا جو فیض آباد پر شرکا دھرنا سے آملے اور پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس اور فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) کے دستوں کو گھیر لیا۔ اس ٹکرائومیں پنجاب پولیس کا ایک افسر جان کی بازی ہار گیا۔پولیس کی متعدد گاڑیاں نذرآتش ہوگئیں اور تشدد کا دائرہ پنجاب سمیت ملک کے دیگر 87شہروں اور کراچی تک پھیل گیا۔حکومت نے اس صورتحال کا جواب ٹی وی چینلز بند کرکے دیا۔ سوشل میڈیا پر بھی پابندی کی تلوار گری۔ جس سے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں کو شکوک وشبہات کی دھند نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ رات گئے بری فوج کے سربراہ نے مداخلت کی اور اطراف کو ہوشمندی کی تلقین کی۔ دس گھنٹے سے کم وقت میں حکومت کو آپریشن ختم کرنا پڑا۔ وزارت داخلہ نے غلطیوں سے پْر 2013 والا نوٹیفکیشن جاری کرکے فوج کو مدد کے لئے پکارا۔ ہفتہ کی صبح پنجاب رینجرز نے راولپنڈی اسلام آباد کے بڑے چوک چوراہوں پر ذمہ داریاں سنبھالنی شروع کیں خادم رضوی اور ان کے ہمراہی فیض آباد پل پر بدستور مورچہ بند رہے۔ اتوار کو فوجی اور سول قیادت نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دھرنے کے معاملہ سے نمٹنے کے لئے فوج کے بجائے رینجرز استعمال کرنے کافیصلہ ہوا۔ آخر کار فوج کی ثالثی سے دھرنا ختم ہوا۔
آئی ایس آئی کے جنرل فیض حمید حکومت اور مظاہرین میں معاہدے کے ضامن ٹھہرے۔ تمام گرفتار شدگان کی رہائی کا وعدہ کیاگیا۔اگلے دن پیر کی رات دھرنے کے شرکاء نے جگہ خالی کردی۔ اس ساری کتھا کہانی میں خادم حسین رضوی پرعزم رہنما بن کر ابھرے۔ جنہوں نے ثابت کر دیا کہ ان کے جانثار پیروکار اپنے مطالبات کے لئے نہ صرف تشدد تک جاسکتے ہیں بلکہ اپنے قائد کے حکم پر ہر قربانی کے لئے بھی تیار ہیں۔ معاہدہ کے منظرعام پر آنے پرپتہ چلا کہ خونریزی سے بچائوکے لئے کردار ادا کرنے پر بری فوج کے سربراہ کا شکریہ اداکیاگیا اور تحسین کی گئی۔
فیض آباد سے روانگی کے وقت قائدین دھرنا نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ ملک کی اکثریت ہیں۔ حکام درگاہوں تک خود کو محدود رکھنے والے امن پسند عوام کو محض حلوہ خور سمجھ کر برتائو نہ کریں۔بریلوی مسلم لیگ کے ووٹ بینک کا کلیدی حصہ ہیں۔ یہ دھرنا نواز شریف کے حلقہ اثرکو کھاجانے کا خطرہ پیدا کرگیا ہے۔ خادم رضوی کے الفاظ میں دھرنے سے ناموس رسول ؐکے باب میں کامیابی حاصل ہوئی اور آئین اور قانون میں رسالت مآب کے مقام ومرتبہ کو کم کرنے کی خواہش رکھنے والے عناصر کا راستہ ہمیشہ کے لئے روک دیاگیا۔
اس دھرنے کے بعد بریلوی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آرہی ہیں جن میں نظام مصطفی متحدہ محاذ، حامد سعید کاظمی کی نظام مصطفی پارٹی، صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں سنی اتحاد کونسل، رضا حسین شاہ کی قیادت میں جماعت اہلسنت، جے یو پی۔نیازی اور دیگر کے علاوہ مرکزی جمعیت اہلسنت اس میں شامل ہیں۔ صاحبزادہ ابو الخیر زبیر اس ضمن میں کوششیں کررہے ہیں۔ اہلسنت والجماعت کے ترجمان حافظ عنیب فاروقی کے مطابق ان کا دھڑا 1989سے سیاست میں ہے اور وہ سیاست میں اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں۔ ان کا اس نئے ابھرتے منظرنامہ میں کوئی مقابلہ یا موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔ ہم پرامن ذریعے اور عوامی آگہی کی بدولت ملک کی سیاست میں آئے ہیں۔ سیاسی مقاصد کے لئے دھرنا صحیح نہیں۔ آخر یہ کہ شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی تمام مذہبی اجارہ داروں اور نواز شریف کی خاندانی سیاست کے خلاف حقیقی خطرہ بن کر سامنے آئے ہیں ۔