ریاستیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟

کالم نگار  |  قیوم نظامی
ریاستیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟

عالمی شہرت یافتہ سکالرز ڈارون (Daron Acemoglu) اور جیمز رابسن نے پندرہ سالہ تحقیق کے بعد ایک یادگار اور بے مثال کتاب قلم بند کی جس کا نام "Why Nations Fail" رکھا یعنی ریاستیں ناکام کیوں ہوتی ہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے حد ضروری ہے جیمز اور ڈارون لکھتے ہیں۔

"Growth will run out of steam unless extractive Political Institutions make way for inclusive institutions as long as political institutions remain extractive growth will be inherently limited".
’’جب تک اشرافیہ پر مبنی قومی وسائل نچوڑنے والے سیاسی ادارے ریاستی اداروں کو اجتماعی، شراکتی (عوامی) نہیں بناتے قومی پیداوار (گروتھ) جمود کا شکار رہے گی اور جب تک سیاسی ادارے استحصالی اور اشرافیہ کی گرفت میں رہیں گے گروتھ مستقل اور فطری طور پر محدود رہے گی‘‘۔ (مفہوم صفحہ 441)
سکالرز لکھتے ہیں جن ریاستوں میں سیاسی نظام عوام کی بجائے سیاسی اشرافیہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے وہاں پر سیاسی طاقت استعمال کرکے معاشی اداروں کی شفافیت اور مسابقت ختم کردی جاتی ہے تاکہ قومی دولت کی لوٹ مار کی جاسکے۔ کامیاب ریاست کے لیے لازم ہے کہ سیاسی اور معاشی ادارے شراکتی ہوں تاکہ ریاست ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکے۔[مفہوم صفحہ 95]
انسانوں کا بنایا ہوا سیاسی نظام ہی ترقی یاپس ماندگی کا سبب بنتا ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی مثال قابل غور ہے دونوں نسلی، ثقافتی اور جغرافیائی اعتبار سے مشترک ہیں مگر شمالی کوریا کا سیاسی نظام آمرانہ رہا لہذا ریاستی ادارے مستحکم نہ ہوسکے جس کا نتیجہ ریاست کی ناکامی اور پس ماندگی کی صورت میں نکلا۔ جنوبی کوریا نے بہترسیاسی نظام وضع کیا اور ریاستی اداروں کو شراکتی اور مستحکم بنایا اس کا شمار ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ چین میں برطانوی اور امریکی جمہوری نظام نہیں ہے وہاں پر یک جماعتی نظام ہے جس میں عوام کو مرکز سے یونین کونسل تک شریک کیا گیا ہے اور چین کے لیڈروں نے معاشی اداروں کو شراکتی بنایا ہے۔ چین کے عوام معاشی ترقی سے مستفید ہورہے ہیں۔
مائوزے تنگ نے عوامی انقلاب برپا کرکے چین کی ریاست کو ترقی کے لیے سازگار بنایا۔ ڈینگ زیائو پینگ نے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق قومی مفاد میں اصلاحات کرکے چینی عوام کو گروتھ میں شامل کرلیا اور چین کے دروازے بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کھول دئیے۔ احتساب کا کڑا نظام تشکیل دیا۔ کرپٹ افراد کے لیے سزائے موت مقرر کی اور گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران دو سو حکومتی و پارٹی کے اعلیٰ کرپٹ عہدیداروں کو پھانسی دے دی۔ آج چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے۔
جن ریاستوں میں سیاسی نظام اشرافیائی ہے وہاں پر حکمران اشرافیہ امیر ترین ہوجاتی ہے جبکہ غربت اور پسماندگی کی وجہ سے ریاست ناکام ہوجاتی ہے۔ جغرافیہ، موسم اور کلچر ریاست کی کامیابی اور ناکامی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان دنیا کی ان خوش قسمت ریاستوں میں شامل ہے جن کا جغرافیہ موسم اور کلچر انتہائی سازگار ہے۔ اگر پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع مثالی نہ ہوتا تو سی پیک جیسا عظیم منصوبہ اس کے مقدر میں نہ ہوتا۔ پاکستان کے لوگ بڑے محنتی ہیں جب ان کو بیرونی ممالک میں ترقی کرنے کے منصفانہ اور مساوی مواقع ملتے ہیں تو وہ معاشی اور سیاسی میدانوں میں ترقی کی یادگار مثالیں قائم کرتے ہیں۔ متعدد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک کی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ وہ اشرافیائی سیاسی نظام کی وجہ سے پاکستان کی پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔
عالمی مفکر اور دانشور متفق ہیں کہ ریاستوں کا سیاسی نظام ترقی اور خوشحالی میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ ستر سالوں سے جو سیاسی نظام چلایا جارہا ہے اس کی منظوری 1935ء کے ایکٹ کی صورت میں برطانوی پارلیمنٹ نے دی تھی۔ اس برطانوی سیاسی نظام کا بنیادی نکتہ ہندوستان کی قومی دولت کی کشید تھا یعنی عوام کا استحصال کرکے ہندوستانی دولت برطانیہ لائی جائے گویا برطانوی سیاسی نظام عوامی خدمت کے لیے نہیں بلکہ ہندوستانی شہریوں کو غلام رکھنے اور حکمرانی کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ قائداعظم نے اپنے خطبات میں فرمایا کہ ہم اسلام کے سنہری اُصولوں سماجی معاشی انصاف، مساوات، امانت، دیانت اور پاکستان کے عوام کی ضرورتوں کے مطابق پاکستانی سیاسی نظام وضع کریں گے۔ گورنر جنرل کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کی بڑی تشویش کلونیل (آقائی) ذہنیت تھی۔ انہوں نے کئی بار سیاستدانوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو خبردار کیا وہ آزادی کے تقاضوں کے مطابق حاکمانہ ذہنیت تبدیل کرکے خادمانہ ذہنیت اپنالیں۔
پاکستان فریڈم موومنٹ کے دانشور چیئرمین ہارون خواجہ کی صدارت میں ہونے والی فکری نشست میں سابق آئی جی پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل نے اپنے فاضلانہ لیکچر میں انکشاف کیا کہ قائداعظم نے لندن میٹروپولیٹن پولیس کے ماڈل کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن پولیس کے لیے قانون تیار کرایا تھا تاکہ پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کی جاسکے اور اسے غیر جانبدار اور خودمختار بنایاجاسکے۔
مرکزی اسمبلی نے پولیس بل منظور بھی کرلیا تھا مگر کلونیل بیوروکریسی نے منصوبہ بندی کرکے اس بل پر گورنر جنرل کے دستخط نہ ہونے دئیے۔ موجودہ سیاسی نظام چوں کہ اپنی ساخت اور فطرت کے اعتبار سے استحصالی اور اشرافیائی ہے لہذا اس نظام کو تبدیل کیے بغیر پاکستان کامیاب ریاستوں میں شامل نہیں ہوسکے گا۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہماری آج کی بحثوں میں سیاسی نظام کی تبدیلی کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔پاکستان آجکل ہرحوالے سے کنفیوژن اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ نان ایشوز پر بحثیں جاری ہیں۔ نوائے وقت کی دیرینہ قاری سابق ایم این اے محترمہ گلِ فرخندہ صدیقی نے بڑی صائب تجویز دی ہے کہ تین روزہ قومی کانفرنس طلب کی جائے جس میں ممتاز دانشور، صحافی ، سیاستدان اور ماہرین شریک ہوں جو افہام و تفہیم ، بحث و مباحثہ اور مشاورت کے ساتھ ریاست کی ترجیحات کا تعین کریں اور قومی ایجنڈا تشکیل دیں تاکہ پاکستان درست سمت پر گامزن ہوکر مختلف نوعیت کے حساس بحرانوں سے باہر نکل سکے۔
افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں انفرادیت اجتماعیت پر غالب آچکی ہے۔ کوئی بھی ریاست کی خاطر قربانی دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ بلاول بھٹو زرداری نے میاں نواز شریف کو سیاست سے ریٹائر ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ سائوتھ افریقہ کے نیلسن منڈیلا اور ملائشیا کے مہاتیر محمد دونوں محب الوطن، وژنری نظریاتی لیڈر تھے۔ وہ اپنے ملکوں کے قومی مفاد میں مناسب وقت پر باوقار طور پر سیاست سے ریٹائر ہوگئے۔ افسوس پاکستان ستر سال میں ایسی شاندار روایات قائم نہ کرسکا جس سے نوجوان نسل انسپائر (متاثر) ہوتی۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے سو سال قبل مسلمان قوم کی امراض کی نہ صرف تشخیص کی بلکہ شفایابی کے لیے نسخہ کیمیا بھی تجویز کیا۔ افسوس ہم نے اس سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا۔ علامہ اقبال نے سیاسی نظام کو قرآن کے بنیادی اُصولوں کے مطابق تشکیل دینے پر زور دیا تھا اور سرمایہ دارانہ نظام کو قوم کے لیے زہر قاتل قراردیا تھا جس کو ہم گزشتہ ستر سالوں سے چلارہے ہیں اور ریاست جمود بلکہ زوال کا شکار ہے۔ علامہ اقبال نے فرمایا کہ جس ریاست میں سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام ہو وہاں پر مصنوعی فکرودانش اور تدبر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتے۔ بقول اقبال:۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
جو حرف ’’قل العفو‘‘ میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار
جانتا ہوں میں یہ اُمت حامل قرآن نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے