معاشرے کی اصلاح کی راہ

معاشرے کی اصلاح کی راہ

میں جب معاشرتی پستی اور اس پر لوگوں کی بے حسی اور بے بسی کو دیکھتا ہوں اور عام محب وطن پاکستانیوں اور کمزور ایمان مسلمانوں کی طرح مایوسی کو پوری طاقت سے جھٹک کر موہوم امید کو اپنا ہتھیار بنا لیتا ہوں یہ جانتے بوجھتے کہ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں اصلاح احوال کی طرف اٹھنے والے قدم تو درکنار اہداف بھی مقرر نہیں کئے گئے اور اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے اپنی حالت بدلنے کا آپ خیال نہ ہو۔ ایسے میں جن پر اصلاح احوال کی ذمہ داری ہوتی ہے یا جن کے مناصب ایسی ذمہ داریوں کو نبھانے کی گواہیاں دیتے ہیں وہ اپنی ان ذمہ داریوں سے عہدہ برأ ہونے کیلئے کوشاں نظر آنے کی بجائے وہ ان ذمہ داریوں سے پلو بچاتے اور انکے مخالف سمت جاتے نظر آئیں تو سوائے اس حکم خدا وندی کے کہ ’’ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں‘‘ کوئی جیتی جاگتی حرکت کرتی ہوئی ٹھوس شہادت نظر نہیں آتی کہ ہم زندگی کے کسی بھی شعبہ میں اصلاح کر پائیں گے یا مستقبل قریب میں کسی شعبہ میں اصلاح کے آثار اسی شعبہ میں باندھے جانے والے حقیقت پسندانہ اہداف سے واضح نظر آئیں۔ عروج و زوال کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے مگر سب شعبوں کے روبہ زوال ہونے اور لوگوں کے اس اجتماعی خسارے پر آنکھیں بند کئے رکھنے اور پھر زوال و عروج میں بدل جانے کی مثالیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں غور و فکر کر کے قوم کی رہنمائی کرنے والوں نے جہاں انسانوں میں ایسے غیر متنازع اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر آمادہ و تیار ہونے کی کمی محسوس کی تو فطرت کے مظاہر اور اللہ کی دوسری مخلوقات کی عادات و اطوار کے حوالے دیگر انسانوں کو سمجھائے اور ان عادات و اطوار کو اپنانے کی ترغیب دی۔ مفکر پاکستان نے ’’ شاہین‘‘ کو مسلمانوں کی غیرت‘ آزادی‘ بقا ، انا، ترقی، خودی اور خودداری کے لئے اسطرح استعمال کیا کہ شاہین بچوں کو بال و پر دے کا سبق دیکر غلامی اور نیند یا بے ہوشی میں شب و روز گزارنے والی قوم کو زندگی کے ایسے پر کشش اسرار سے روشناس کیا کہ خواب غفلت بھی ختم ہوا اور غلامی بھی اختتام کو پہنچی۔ اقبال کے شاہین پر تحریک اور ترغیب دینے والے متعدد اشعار میں سے اکثر پڑھے لکھے لوگوں کو یاد ہیں یا اگر یاد نہیں تو بھی وہ انکے معانی و مطالب اور اسکے پیچھے مقصد کو جانتے تھے۔ ان اشعار اور انکے ذریعے پیغام کی اثر پذیری میں کمی ایک طرف تو ہماری قومی اور اجتماعی بد قسمتی ہے تو دوسری طرف کسی دوسرے حوالے کی طرف دیکھ کر اسی پستی سے نکلنے کے بعد شاہین کی بلند پروازی والے جذبات احساسات پیدا کر کے ترقی کی منازل طے کرنے کو قبول کرنے کا آسان طریقہ بن سکتا ہے۔

اسوقت وطن عزیز کی مجموعی صورتحال پر اور انسانی رویوں میں بے پناہ پستی و زوال آ جانے کے بعد لوٹ مار ، لالچ ، حرص، ہوس، طمع، نا حق پر قبضہ اور دوسری اخلاقی اور انسانی برائیوں سے نکلنے کیلئے یا قوم کو نکالنے کیلئے تاریخ اسلام کے ایک ہونہار سپوت اور روحانی منازل پر آگے بڑھنے کی شہرت رکھنے والے حضرت حسن بصریؒ نے کتے کی بعض ایسی صفات کا تذکرہ کر کے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر پستی میں گرے ہوئے انسان ان صفات کا بغور جائزہ لیکر انہیں اپنا لیں تو وہ بلندی کو چھو بھی لیں گے اور ناکامی و نامرادی سے نجات بھی حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے یہ صفات بتانے سے پہلے اصحاب کہف کے کتے کا ذکر کیا ہے تا کہ کسی کو کتے کے نحس ہونے پر اسکی بیان کردہ صفات کو مسترد کرنے کا بہانہ نہ ملے بلکہ وہ پوری وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ یہ صفات کتے نے دراصل ان انسانوں سے ہی لی ہیں جو معرفت کی دنیا میں ایک مقام و مرتبہ رکھتے ہیںیا یوں کہیے کہ کتے کا ان صفات کے حامل انسانوں کی پہچان کر کے انکی صفات کو اپنایا اور پھر انسانوں کیلئے مثال بن کر ان صفات کو اپنانے کی ترغیب دینا خود ایک معرفت کی بات ہے۔ خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کتا بھوکا رہتا ہے‘ انسانوں میں یہ صفت صالحین میں پائی جاتی ہے۔ وہ تھوڑی چیز پر قناعت کر کے صابر پن کی صفت کو اختیار کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ چونکہ کتے کا کوئی گھر نہیں ہوتا اسلئے خواجہ حسن بصری نے اسے متوکلین کی صفت قرار دے دیا۔ راتوں کو کتے کے جاگنے کو محبین کی صفت قرار دیکر غور و فکر کرنیوالوں کو جھنجھوڑا ہے۔ چونکہ باقی جانوروں کی طرح کتا بھی اپنی میراث نہیں چھوڑتا اسلئے اس کو زاہدین کی صفت قرار دیا ہے۔ کتے کی وفاداری تو وہ بھی جانتے ہیں جنہوں نے کبھی کتا نہیں پالا یا گھر میں کبھی کتا نہیں رکھا۔
خواجہ حسن بصری وفاداری کو انسانوں میں صادقین کی صفت قرار دیتے ہیں۔ جس طرح انسانوں میں ایسے انسان جو ادنیٰ جگہ پر رہ کر بھی خوش رہتے ہیں جھونپڑی کو بھی محل بنا لیتے ہیں اور محلوں میں بسنے والے اسی جھونپڑی نشین سے آ کر فیض حاصل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کتا بھی ادنیٰ جگہ پر رہنے میں راضی ہو جاتا ہے اور یہ متواضعین کی صفت ہے۔ اگر کوئی کتے کو اسکی رہنے والی جگہ سے بھگا دے تو وہ بخوشی دوسری جگہ جا کر رہنا شروع کر دیتا ہے۔ انسانوں میں قبضہ گروپ کے مخالف اس گروہ کو جو رہنے والی جگہ پر کسی کے زبردستی قابض ہو کر ایسے انسانوں کو وہاں سے نکال دینے والوں کا ذکر کرنے کی بجائے وہ اپنی جگہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جا کر ڈیرہ لگا لینے والوں کو رافعین کے درجہ پر سمجھتے ہیں اور اسے رافعین کی صفت بھی قرار دیتے ہیں اور ان کی پہچان کا حوالہ بھی کتے کی ایک صفت روز مرہ دیکھنے میں آتی ہے کہ اسے مار کر بھگا دیں تو جب اسے دوبارہ بلائیں تو وہ آ جاتا ہے خواجہ حسن بصری کہتے ہیں انسانوں میں ایسے انسان جنہیں زیادتی کر کے مار کر بھگا دیا جائے دوبارہ بلانے پر اپنی انا یا غیرت کو بیچ میں نہیں لاتے درخواست قبول کر لیتے ہیں اور ایسے انسان خاشعین کے درجہ پر ہوتے ہیں، کتے کے سامنے کھانا ہو تو وہ اس پر جھپٹتا نہیں اسوقت تک انتظار کرتا ہے کہ خود اس کا مالک اسے کھانا دے انسانوں میں یہ مساکین کی صفت ہے۔ کتا اگر ایک جگہ چھوڑ کر چلا جائے اور کوئی اسے نہ بلائے تو مڑ کر ادھر دیکھتا بھی نہیں تصوف میں ایسے افراد کو مفروین کہتے ہیں، آج کے چھینا چھپٹی کے دور میں کتے کی ان دس صفات کو اپنانے سے معاشرے میں لوٹ مار ، حرس‘ طمع‘ حق تلفی، چھینا جھپٹی اور ہر قسم کی بد اخلاقی اور بے وفائی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ گدھے کی بار برداری پر قانع اور شاکر رہنے کی بار بار کوشش کر کے بادشاہوں کی لڑائی میں ہونے والی شکست کو فتح میں بدل دینے کے واقعات قصے کہانیاں معدوم ہو جانے یا محدود ہو جانے کے باوجود ہر فرد کو نہیں تو ہر گھر کے کسی نہ کسی فرد کو یاد ضرور ہیں، انسانوں کو سمجھانے کا یہ انداز پرانا ہونے کے باوجود اپنی اثر پذیری کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔