پاکستان میں اسلامی تحریکوں کی ناکامی؟....(قسط۱)

06 اگست 2012 0
Print Email to friend

ساجد حسین ملک
ام کی کسی بھی سنجیدہ کوشش میں عملاً شریک ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
٭جماعت اسلامی کے خلاف کمیونسٹ‘ سوشلسٹ‘ نام نہاد ترقی پسندوں اور لا دین عناصر کا ہر دور میں ایکا اور انکی طرف سے جماعت اسلامی کے خلاف سائنٹفک انداز میںمنفی پروپیگنڈا۔
٭جماعت کے بارے میں میڈیا کے ایک موثر حلقے کا معاندانہ رویہ اور جماعت کے بارے میں گھسے پھٹے الزامات کی تکرار وغیرہ۔
انکے علاوہ بھی کچھ نکات ہیں جنکا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔
پچھلے دنوں ”نوائے وقت“ میں معروف کالم نگار ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے اپنے کالم ”حکم اذاں“ میں اپنے برادر اصغر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی تصنیف ”سفر نامہ ترکی“ کا تذکرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ ترکی، مصر، تیونس وغیرہ میں اسلام پسند جماعتیں جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی مرحوم کی فکر اور تحریک سے رہنمائی حاصل کرکے کامیابی کی راہوں پر گامزن ہو چکی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں جماعت اسلامی اسلامی انقلاب کی داعی ہونے کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ وہ لکھتے ہیں ”جماعت اسلامی کے کتنے ہی تھنک ٹینک ہیں اس کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ انقلابی تحریک جو انہوں نے دوسرے اسلامی ملکوں کو برآمد کی ہے اسے اپنے ملک میں کیوں برپا نہیں کرتی؟وہاں کی اسلام تحریکیں بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں یہاں پاکستان میں یہ اسلامی تحریک مطلوبہ برگ و بار کیوں نہیں لاسکی۔ ترکی میں طیب ارزگان، مصر میں محمد مرسی اور تیونس میں راشد عنوی برملا اعتراف کرتے ہیں کہ مولانا مودودی کی فکر ان کے لئے ہمیشہ مینار نور رہی ہے“۔
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ کے نزدیک ترکی‘ مصر اور تیونس وغیرہ میں اسلامی تحریکوں کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تحریکوں نے اس بات کو پلے باندھ لیا ہے کہ اپنا مائنڈسٹ عوام پر مسلط کرنے کی بجائے عوام کے مائنڈسٹ کو سمجھنا چاہئے۔ وہ لکھتے ہیں ”ترکی میں رفا پارٹی ایک اسلامی پارٹی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عوامی پارٹی بھی تھی۔ تبھی تو اسکو انتخابات میں جزوی کامیابی ملی تھی۔ اور پارٹی کے قائد نجم الدین اربکان وزیراعظم بھی بن گئے تھے۔ مگر انکے سیاسی شاگردوں رجب طیب ارزگان اور عبداللہ گل نے محسوس کیا کہ وہ ابھی تک عوامی احساسات سے دور ہیں۔ اسلئے انہوں نے اے کے پارٹی قائم کی جس کا مطلب ہے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی۔ اسی طرح مصر میں اخوان المسلمون نے براہ راست انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے انصاف و ترقی کے نام سے ایک پارٹی قائم کی اور اس کے ذریعے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ اسلامی دنیا میں اسلامی تحریکیں عوامی سیاسی پارٹیوں کے ذریعے عوام کے دلوں میں گھر کر چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان اخوان المسلمون اور رفا پارٹی والا ماڈل کیوں نہیں اختیار کرتی اور اپنا الگ سیاسی ونگ تشکیل دے کر عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کو قریب سے کیوں نہیں سنتی“؟
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ کا جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ تجزیہ اور تبصرہ واقعی بڑا اہم ہے۔ جماعت اسلامی کے قائدین اور اکابرین کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہئے۔ تاہم تاریخ پاکستان کا ایک طالب علم اور پاکستان کی سیاسی تحریکوں کے مطالعے کا شوق رکھنے اور پاکستان کی گزشتہ پانچ دہائیوں کی قومی سیاست کے بہت سے گوشوں کو قریب سے دیکھنے کی بنا پر راقم جماعت اسلامی اور دیگر دینی اور سیاسی جماعتوں کی پاکستان کی قومی سیاسی زندگی میں اہمیت اوراہم کردار کے باوجود وسیع تر عوامی پذیرائی نہ ہونے کی بنا پر انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر سکنے کے حوالے سے کچھ گوشوں کو سامنے لانے کی جسارت کر رہا ہے۔ مقصد کسی کی تنقیص یا کسی پر ناروا تنقید نہیں اور نہ ہی کسی کی بے جا طرف داری کرنا ہے بلکہ معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے صورت حال کا جائزہ لینا ہے۔
بیسویں صدی کو اگر احیائے اسلام کی صدی قرار دیا جائے تو شائد غلط نہیں ہو گا۔ اس صدی میں عالم اسلام میں ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اسلامی فکر کی تشکیل نو اور اسلام کے احیا کی کوششوں کو اپنے اپنے انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ برصغیر جنوبی ایشیا میں علامہ اقبالؒ‘ مولانا ابو الکلام آزاد اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ ان کوششوں میں پیش پیش تھے تو مصر میں امام حسن البنا شہیدؒ‘ سید قطب شہید اور ترکی میں بدیع الزمان سعید نورسی جیسے مفکرین بھی ان کوششوں کو آگے بڑھانے میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ لیکن جس شخصیت نے اسلامی فکر کی تشکیل نو اور اسلامی احیا کی کوششوں کو سب سے زیادہ مہمیز دی اور عالم اسلام میں جس کی کوششوں کو سب سے زیادہ سراہا گیا اور ایک رول ماڈل (عملی نمونے) کے طور پر قبول کیا گیا وہ شخصیت جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا مودودی مرحوم و مغفور نے اپنی تقاریر‘ خطبات‘ تعلیمات اور تصنیفات کے ذریعے عہد حاضر میں امت کی بیداری اور دین کی طرف اس کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا۔
جماعت اسلامی کی بنیاد رکھنے سے پہلے 1937ءکے اواخر میں لاہور میں حکیم الامت علامہ اقبال ؒ سے مولانا مودودی کی تفصیلی ملاقات ہو چکی تھی۔ علامہ اقبالؒ مولانا مودودی کی فکر اور تحریروں بالخصوص ”الجہاد فی الاسلام“ سے بڑے متاثر تھے۔ انہوں نے مولانا مودودی کو دعوت دی کہ وہ پنجاب میں آکر دین کی دعوت اور اسلامی فکر کی احیا کا کام شروع کریں۔ چنانچہ اگست 1941ءمیںمولانا مودودی نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی تو ان کے نزدیک جماعت اسلامی کے قیام کا بڑا مقصد یہی تھا کہ اس کے ذریعے برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ وہ دین کی حقیقی تعلیمات پر کاربند ہو کر اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام حکومت کے قیام کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کو ایک ایسی روشن خیال اسلامی فکری تحریک کے طور پر پیش کیا جس کے ذریعے دعوت الی اللہ کے مقصد کو حاصل کرنا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ ہماری دعوت کا مقصد اللہ کو راضی کرنا ہے اور اس کا طریقہ کار سنت سے لیا گیا ہے اور وہی آئیڈیل اور معیار حق ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کو کسی ایک فرقے‘ گروہ یا مسلک تک محدود نہیں رکھا بلکہ تمام مسلمہ مکاتب فکر کے افراد کو دعوت دی کہ وہ ایک بڑے مقصد کے حصول کے لئے ایک پرچم تلے جمع ہو جائیں کیونکہ منظم شر کا مقابلہ منظم نیکی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان ، اجتہاد اور جہاد کے عملی اظہار کے بغیر احیائے اسلام کی منزل سر نہیں کی جا سکتی۔
یہ وہی زمانہ تھا جب ایک طرف قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی اکثریت اپنے عظیم قائد محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ خطہ ارض کے حصول کو اپنی منزل قرار دے چکے تھے تو دوسری طرف جمعیت علما ہند کے بعض اکابرین‘ مجلس احرار کے قائدین‘ خدائی خدمت گار اور کئی دوسرے قوم پرست مسلمان رہنما پاکستان کے قیام کی مخالفت کے راستے کو اختیار کر چکے تھے۔ ان کے نزدیک انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا ہی مسلمانوں کے مسائل کا حل تھا۔ مگر مولانا مودودی جو ایک زمانے میں جمعیت علما ہند کے ترجمان اخبار ”الجمیعة“ کے مدیر رہے تھے وہ جمعیت علما ہند کے جماعتی موقف سے ہٹ کر اپنی تحریروں اور خطبات کے ذریعے اسلام کے احیائ‘ اسلامی سوسائٹی کے قیام اور اسلامی ریاسٹ کے حصول کو اپنا ہدف بنائے ہوئے تھے۔ اس طرح وہ بالواسطہ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد میں پیش کئے گئے برصغیر جنوبی ایشیا کے شمال مغرب اور شمال مشرق میں مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کی ایک جداگانہ قومی ریاست کے نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ باالفاظ دیگر وہ مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص عرف عام میں جسے دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے کی بھرپور وکالت کر رہے تھے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ وہ تحریک پاکستان میں عملاً شامل نہیں تھے بلکہ مسلم لیگ کے اکابرین کو حدف تنقید بنا کر ایک لحاظ سے پاکستان کے قیام کی مخالفت کے راستے پر گامزن تھے۔ حالات و واقعات کا یہی پس منظر اور پیش منظر ہے جہاں سے میرے خیال میں جماعت اسلامی کے لئے پاکستان میں قد آور سیاسی مقام حاصل کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہونی شروع ہوئیں۔
1977ءکے عام انتخابات میں جماعت اسلامی ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کے خلاف قائم قومی اتحاد کا ایک جاندار حصہ تھی۔ قومی اتحاد نے بھٹو کے خلاف پر جوش تحریک چلائی اور مارچ1977ءکے عام انتخابات کے نتائج کو دھاندلی کا نتیجہ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ جولائی1977ءمیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کی حکومت کو ختم کر کے ملک میں مارشل لاءلگا دیا تو جماعت اسلامی قومی اتحاد کی دیگر جماعتوں سے کچھ زیادہ ہی جنرل ضیاءالحق کی حامی سمجھی جانے لگی۔ قومی اتحاد کے وزرا ضیاءالحق کی کابینہ میں شامل ہوئے تو جماعت اسلامی کے چار اہم رہنما پروفیسر عبدالغفور‘ محمود اعظم فاروقی‘ چودھری رحمت الہی اور پروفیسر خورشید احمد بھی ضیاءالحق کی کابینہ کا حصہ تھے۔ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی اور جماعت پر ضیاءکی حمایت کا لیبل کچھ مزید گہرا ہو گیا۔ دسمبر 1979ءمیں روس نے افغانستان میں فوجیں داخل کر دیں تو جماعت اسلامی جہاد افغانستان میں پیش پیش تھی اس کے جمعیت اسلامی کے پروفیسر برہان الدین ربانی اور حزب اسلامی کے گلبدین حکمت یار جیسے اہم افغان جہادی رہنماﺅں سے گہرے تعلقات تھے۔ جماعت کے ارکان اور متفقین عملی طور پر جہاد افغانستان میں شریک ہوکر جانوں کی قربانیاں دیتے رہے لیکن جماعت کو ضیاءالحق کا حامی ہونے اور امریکی ایجنڈے پر کاربند ہونے کے طعنے زیادہ زور شور سے سننے پڑے۔
1985ءکے غیر جماعتی انتخابات میں جماعت اسلامی شریک ہوئی اور اس کی کارکردگی کچھ بہتر ہوئی اور اس کے غالباً آٹھ ارکان قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو گئے۔ 1988ءمیں ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد عام انتخابات کا فیصلہ ہوا تو سابقہ آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ مرزا اور آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کی آشیر باد سے پیپلز پارٹی کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جماعت اسلامی اس اتحاد میں بھی شریک تھی۔ عام انتخابات میں اسے کچھ کامیابی بھی ملی لاہور سے جناب لیاقت بلوچ اور جماعت اسلامی دیگر نوجوان رہنما اسمبلیوں کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1990ءکے انتخابات میں جماعت نے میاں نواز شریف کی زیر قیادت اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور جماعت کے بارہ چودہ ارکان قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو گئے۔ میاں نواز شریف وزیراعظم بنے لیکن کچھ عرصے بعد میاں نواز شریف اور جماعت اسلامی کے درمیان اختلافات ابھر کر سامنے آگئے اور جماعت نے میاں نواز شریف سے اپنا راستہ الگ کر لیا۔



دیگر خبریں

نازی جرمنی اور اب نازی اسرائیل

نازی جرمنی اور اب نازی اسرائیل

22 جولائی 2014

 گو کہ 1300 برس قبل فلسطین چھوڑ جانے کے بعد یہودی زیارت کیلئے بدستور فلسطین آتے رہے لیکن صہیونیت کو فروغ دینے کے حوالے سے اُن کی چھوٹے گروپوں کی شکل میں بالخصوص روسی ...