منیٰ .... الف لیلائی شہر

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ
منیٰ .... الف لیلائی شہر

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے اپنے خطبہ حج میں کہا کہ عراق اور شام میں برسرپیکار دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجو خوارج اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں اور خود مسلم دنیا میں بعض تحریکیں انسانیت کی دشمن ہیں۔انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ فرقہ واریت سے اجتناب کریںکیونکہ اس سے مسلمان کمزور ہوتے ہیں۔اس مرتبہ حج کا فریضہ ایسے موقع پر ادا کیا جارہا ہے جب سعودی عرب سمیت پانچ خلیجی عرب ممالک امریکا کی قیادت میں شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہیں اور ان کے جنگی طیارے بھی ان دونوں ممالک میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔حجاج کرام میدانِ عرفات میں وقوف کے بعد مزدلفہ چلے گئے ہیں جہاں انہوں نے رات کھلے آسمان تلے گزاری ۔ ہفتے کی صبح واپس منیٰ پہنچ کر شیطان کو کنکریاں ماریں اس کے بعد سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کی جا رہی ہے ۔منی کا سفر سب سے لیے ایک انوکھا سفر ہے۔ لاکھوں آدمی ہزاروں بسیں چیونٹی کی رفتا ر سے چل رہی ہیں۔بسوں کے ذریعے تین میل کی یہ مسافت چار سے چھ گھنٹوں میں طے ہوتی ہے۔ پیدل آدمی بسوں سے پہلے یہ سفر طے کر لیتا ہے۔ منیٰ ایک الف لیلائی شہر ہے سارا سال یہاں کے خیمے اور رہائش گاہیں ویران پڑی رہتی ہیں۔آٹھ ،نو ذی الحجہ کو مقامی لوگ اور زائرین یہاں پہنچتے ہیں تو چند گھنٹوںمیں ہزارہا خیمے اور مکانات بھر جاتے ہیں۔ لنگر چلتے ہیں۔ خالی دوکانیں سامان سے بھر جاتی ہیں۔ بازار میں کھوئے سے کھوا چھلنے لگتا ہے۔ سارا سال غیر آباد رہنے والی یہ جگہ چند دنوں میں حیران کن طور پر آباد ہو جاتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے کسی نے پوچھا کہ منیٰ کا میدان بہت تنگ نظر آتا ہے لیکن ایام حج میں کیوں کشادہ محسوس ہوتا ہے تو انہوں نے فرمایا منیٰ اسی طرح کشادہ ہو جاتا ہے جس طرح ماںکا رحم اپنے بچے کے لیے۔"منیٰ وسوسوںکر شہر ہے۔ الحاد کا شہر ہے۔ تذبذب کا شہر ہے انتشار کا شہر ہے۔ یہاں بڑے بڑے ڈول جاتے ہیں۔منزلیں کھوٹی ہو جاتی ہیں"۔یہ شہر نہیں ایک جائے امتحان ہے۔منیٰ میں زائرین کے درمیان جھگڑے بھی خوب ہوتے ہیں بلکہ بات با ت پر ہوتے ہیں۔ہاتھا پائی ہوتی ہے حتی ٰ کہ دست و گریبان بھی ہوتے ہیں۔منیٰ میںہوں تو کئی وفعہ یہ سوا ل خود سے ہی پوچھنا پڑتا ہے آخر یہاں یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ پھر جواب ملتا ہے!"یہ منیٰ ہے ،منی وہ جگہ ہے جہاں ابلیس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تین دفعہ بہکانے کی کوشش کی تا کہ وہ اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی رضا پر قربان نہ کریں۔ یہ منیٰ ہی کی وادی تھی جہاںتین مقامات پر ابلیس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یقین محکم کو توڑنے کی کوشش کی۔جب ان کا ایمان متزلزل نہ ہوا تو ابلیس نے ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ورغلایا کہ تم ہاتھ چھڑا کر دوربھاگ جاﺅ اور اپنی جان بچاﺅ۔یہ جو تین جمرے منیٰ میں ہیں جمرة العقبیٰ(چھوٹا شیطان)، جمرة الاوسطی (درمیانی شیطان)اور جمرة الاولیٰ (بڑا شیطان) پتھروں کے ستون بنے ہیں۔یہ ہیں وہ مقامات جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ابلیس نے بہکانے کی کوشش کی تھی لیکن نامراد رہا"۔ان ستونوں کو کنکریاں مارنے کا مقصد اس بات کا عزم کرنا ہے کہ شیطان جب بھی بہکانے کی کوشش کرے گا تو اس کو بسم اللہ ، اللہ اکبر کی چوٹ لگاﺅ ں گا اور اسے بھگا دوں گا۔منٰی میں حضور پاکﷺ نے حج کے ایام میںجہاں خیمہ لگایا وہاں اب مسجد حیف ہے۔منیٰ میں قیام کے دوران اگر ہو سکے تو مسجد خیف میں نماز ضرور پڑھیں ۔ روایت ہے کہ اس مسجد میں ستر انبیائے کرام نے نماز پڑھی۔مسنون طریقہ یہ ہے کہ حجاج کرام جب رات بسر کر لیں تو مزدلفہ سے فجر کی نما ز پڑھ کر اول وقت منٰی کی طرف روانہ ہوں۔ منیٰ پہنچ کر جمرات پر رمی کریں (یعنی شیطان کو کنکریاں مارنا) قربانی کا فریضہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ قربانی کے بعد حلق (سرمنڈوانا) یا قصر (بال کٹوائے) کرتے ہیں۔طواف زیارہ کے لئے بیت اللہ حاضری دی جاتی ہے۔اس طرح حج کے مناسک پورے ہو جاتے ہیں۔مزدلفہ اور منٰی کے درمیان وادی محسر ہے۔ وادی محسر کو وادی نار بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وادی 545گز کے قریب ہے۔ اس وادی کے دونوں طرف نشان لگے ہوئے ہیں۔ ابراھہ جب ہاتھیوں کی فوج لے کر بیت اللہ کو ڈھانے کے لیے آیا تو ابابیلوں نے کنکریوں سے انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ اسی واقعہ پر قرآ ن پاک کی سورة فیل نازل ہوئی۔یہ واقعہ فروری مارچ571عیسوی کا ہے۔ اس وادی سے سرکار دو عالم ﷺ گزرتے تو سواری کو تیز ہنکاتے ، استغفار کرتے ، اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور جتنی جلدی ممکن ہوتا اس زمین سے نکل جاتے اور صحابہ کرامﷺ سے فرماتے تیز چلو تیز چلو یہ وادی عذاب ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہوا ہے۔ وادی محسراگرچہ منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ہے لیکن یہ وادی نہ تو منیٰ میں شامل ہے اور نہ ہی مزدلفہ میں۔ اسے "وادی مھلل" بھی کہا جاتا ہے۔حج کے دوران جب لوگ یہاں پہنچے ہیں تو بلند آواز میں تکبیریں پڑھتے ہوئے یہاں سے گزر جاتے ہیں۔اس وادی کو شیاطین کا ٹھکانہ بھی کہا جاتا ہے۔مناسک حج کے دوران منیٰ میں جمرات کے مقام پر شیاطین کو کنکریاں مارنے کا عمل بھی شیطانی قوتوں کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرنا ہے۔تاریخ اسلام کے مطالعے سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ مختلف ادوار میں ملت اسلامیہ کو شیطانی خیالات اور قوتوں کا مقابلہ کرنا پڑا ہے۔سعودی عرب کے73سالہ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے اپنے 34ویں خطبہ حج میں داعش کا ذکر کرکے عالم اسلام کو ان قوتوںکے خلاف متحد ہونے کی تلقین کی ہے۔تاریخ اسلام میں خوارج پہلا مذہبی فرقہ جس نے شعائر اسلام سے ہٹ کر اپنا الگ گروہ بنایا۔اس گروہ کی اکثریت بدوی عراقیوں کی تھی۔ جنگ صفین کے موقع پریہ پہلی بار نمودار ہوئے ۔ خارجیوں کا نعرہ تھا کہ ”حاکمیت اللہ ہی کے لیے ہے“۔ حضرت علیؓ نے خارجیوں کو جنگ نہروان میں شکست فاش دی۔ لیکن ان کی شورش پھر بھی باقی رہی۔ حضرت علی ؓایک خارجی ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس کے بعد امیر معاویہؓ کے عہد میں بھی خاجیوں کی بغاوتیں ہوتی رہیں اور ان کا دائرہ عمل شمالی افریقہ تک پھیل گیا۔ کوفہ اور بصرہ ان کے دو بڑے مرکز تھے۔ایران اور عراق میں بھی ان کی کافی تعداد تھی۔ عباسی خلافت تک ان لوگوں کا اثر رسوخ رہا اور حکومت کے خلاف ان کی جنگیں جاری رہیں۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے مطابق خوارج کا جد امجد ذوالخویصرہ تمیمی تھا۔ تاریخ اسلام میں ایک اور ملعون فرقے قرامطہ کا بھی ذکر ہے اس فرقے نے 929عیسوی (316ھجری )میں لشکر جرار کے ساتھ مکہ المکرمہ پر چڑھائی کی اور حرم شریف میں داخل ہو کر قتل عام کیا۔اس قتل عام میں مکہ شہر گرد و نواح اورحرم شریف میں ہزارہا افراد شہید ہوئے ۔اس فرقے کے پیروکاروں نے یہ حملہ ابو طاہر کی قیادت میں کیا تاریخی حوالوں کے مطابق قرامطہ کا بانی حمدان بن الشعیت تھا۔ مکہ پر اس حملے کے دوران قرامطی بیت اللہ سے حجر اسود بھی نکال کر بحرین کے شہر ہجر لے گئے جہاں انہوں نے اپنا کعبہ"دارالحجر"کے نام سے تعمیر کیا۔بعد ازاں مسلمانوں نے اجتماعی قوت سے قرامطیوں کا خاتمہ کیا اور حجر اسود کو دوبارہ بیت اللہ لائے۔ حالیہ تاریخ میں 20نومبر1979 کو مرتدین کے ایک مسلح گروہ نے 27سالہ محمد بن عبداللہ قحطانی کو مہدی موعود قرار دیکر حرم شریف پر قبضہ کر لیا۔ سعودی حکومت نے ان گمراہ افراد کا قلع قمع کر کے 7دسمبر 1979 کو حرم شریف دوبارہ عبارت کے لیے کھولا۔