قربانی: اعتراف بندگی

کالم نگار  |  قیوم نظامی
قربانی: اعتراف بندگی

دنیا بھر میں مسلمان عید الاضحی کی نماز کے بعد قربانی دے کر اعتراف بندگی کرتے ہیں۔ قربانی سنت ابراہیمی ہے۔ رب کو اپنے نبی کی جانب سے قربانی اور اعتراف بندگی کا جذبہ اس قدر پسند آیا کہ اسے آنے والے مسلمانوں کے لیے قابل رشک اور قابل تقلید روایت بنا دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے اعتراف بندگی کا ذکر قرآن پاک میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے ”جب وہ (اسمٰعیل ؑ) ان کے ساتھ دوڑنے (جوانی کی عمر) کو پہنچے تو ابراہیم ؑ نے کہا بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تمہیں ذبح کررہا ہوں۔ تم بتاﺅ تمہارا کیا خیال ہے۔ انہوں نے (اسمٰعیل ؑ) نے کہا ابا جان آپ کو جو حکم ہوا ہے وہی کیجئے اللہ نے چاہا آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔ جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا تو ہم نے انہیں پکارا کہ اے ابراہیم ؑ تم نے اپنے خواب کو سچا کردکھایا ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ بنا دیا اور بعد میں آنے والوں میں ابراہیم ؑ کا ذکر خیر (باقی) چھوڑ دیا کہ ابراہیم ؑ پر سلام ہو۔ ہم نیکوں کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں“۔[سورة الضافات] حضرت ابراہیم ؑ آزمائش میں پورے اُترے اور رب نے ان کی قربانی کو آنے والوں کے لیے سنت بنا دیا۔ علامہ اقبال نے واقعہ کے بارے میں کہا ہے۔یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھیسکھائے کس نے اسمٰعیل ؑ کو آداب فرزندیحضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ قربانیوں کی حقیقت اور تاریخ کیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا یہ تمہارے روحانی اور نسلی مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ ان قربانیوں میں ہمارے لیے کیا اجر ہے۔ آپﷺ نے فرمایا قربانی کے ہر جانور کے بال کے عوض ایک نیکی ہے۔[مسند احمد] اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں قربانی کو تقویٰ اور پرہیزگاری کا اظہارقراردیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’اور قربانی کے اونٹوں (جانوروں) کو بھی ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ مقرر کیا ہے۔ ان میں تمہارے لیے فائدے ہیں تو (قربانی کرتے وقت) قطار باندھ کر ان پر اللہ کا نام لو جب وہ پہلو کے بل گر پڑیں (ذبح ہوجائیں) تو ان میں سے کھاﺅ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاﺅ۔ اس طرح ہم نے انہیں تمہارے زیر فرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔ اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔[سورة الحج] حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو مال عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی مال اللہ کے نزدیک محبوب نہیں (طبرانی)۔ قربانی کا عمل نہایت نیک نیتی اخلاص اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ اس میں دکھاوا اور گوشت کھانا مقصود نہ ہو کیونکہ اجر اور ثواب کی بنیاد نیک نیتی پر رکھی گئی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اطاعت شعاری اور اعتراف بندگی سے قرب الٰہی حاصل کیا تھا۔ وہ بت پرستی اور شرک کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے بت کدے میں جاکر کلہاڑی سے سب بتوں کو پاش پاش کردیا اور کلہاڑی سب سے بڑے بت کے کندھے پر لٹکا دی۔ حضرت ابراہیم ؑ کو عوامی عدالت میں طلب کرکے پوچھا گیا ”اے ابراہیم ؑ ہمارے بتوں کے ساتھ یہ حرکت تم نے کی ہے“۔ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا ”عقل کے اندھوں مجھ سے کیا پوچھتے ہو کلہاڑی بڑے بت کے کندھے پر لٹکی ہے اس سے پوچھ لو“۔ بت پرست یہ بات سن کر ششدررہ گئے اور کہنے لگے یہ بت تو بول نہیں سکتے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا ”جو بول نہیں سکتے ان کی پرستش کیوں کرتے ہو“۔ اس واقعہ کے بعد وقت کے بادشاہ نمرود نے آتش کدہ بھڑکانے اور حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینکنے کا حکم دیا۔ جب حضرب ابراہیم ؑ کو جلتی آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کہا ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے“۔ آگ اللہ کے حکم سے ٹھنڈی ہوگئی۔ بت پرست یہ معجزہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ حضرت ابراہیم ؑ اس آزمائش میں بھی پورے اُترے۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محوتماشائے لب بام ابھیایک کہاوت کے مطابق جب حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈالا گیا تو ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی کے قطرے لے کر آتی اور آگ پر ڈالتی۔ کسی نے پوچھا پانی کے قطروں سے آگ کیسے بجھے گی۔ چڑیا نے کہا کہ میرا ضمیر مطمئن رہے گا کہ میں نے خاموش تماشائی بننے کی بجائے آگے بجھانے کے لیے اپنا حصہ ڈالا۔انسانوں کے لیے اس میں حکمت کی بات پوشیدہ ہے۔رب کائنات نے انسانوں کو زندگی گزارنے کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ دیا ہے۔ قربانی کے بھی کچھ آداب ہیں جن پر عمل کرنا لازم ہے۔ صفائی کا پورا خیال رکھا جائے۔ قربانی تیز چھری سے کی جائے تاکہ جانور کو اذیت نہ ہو۔ قربانی سے پہلے چھری جانور سے چھپا کر رکھی جائے تاکہ اسے وقت سے پہلے ذبح ہونے کا احساس نہ ہو۔ گوشت غریبوں اور محروموں میں تقسیم کیا جائے۔ قربانی کا واحد مقصد خدا کو راضی کرنا ہو۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ہر حال میں رب کی خوشنودی کا خیال رکھا۔ تسلیم و رضا کی یادگار مثال پیش کی اور بندگی کا حق ادا کیا بلکہ بندگی کو قابل فخر مقام عطا کیا۔ علامہ اقبال زندگی کے آخری حصے میں طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے بستر پر لیٹے رہتے ۔ ایک روز ایک فقیر ان کی عیادت کے لیے آئے اور کہنے لگے اقبال آپ کو دولت چاہیئے۔ اقبال نے کہا دولت کی تمنا نہیں۔ فقیر نے پوچھا کیا عزت کے متلاشی ہو اقبال نے کہا وہ پہلے ہی اللہ نے عطا کررکھی ہے۔ فقیر نے کہا تو پھر کیا اللہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہو اقبال یہ سن کر اُٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے میں بندہ وہ خدا میں قطرہ وہ بیکران سمندر میں مخلوق وہ خالق میں رب سے کیسے مل سکتا ہوں۔ میں اپنی بندگی کی شان، انفرادیت اور شناخت قائم رکھنا چاہتا ہوں۔متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندیمقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندیمفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے حج کے موقع پر تاریخ ساز خطبہ دے کر عالم اسلام کے حکمرانوں اور مسلم امہ کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے فرمایا عالم اسلام چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی سیاسی و فوجی قوت اکٹھا کرلے۔ حکمران خدا سے ڈریں اور عوام کی فلاح و بہبود کا خیال کریں۔ کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ کسی جھگڑے اور فساد میں پڑے۔ ایک انسان کا قتل فتنہ اور حرام ہے۔ داعش کے لوگ خوارجی ہیں وہ انسانوں کو ناحق قتل کررہے ہیں۔ مسلمان اپنے مال میں غریبوں اور مستحقین کا حق نہ بھولیں۔ اللہ کے فقیر سرفراز اے شاہ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی روحانی گفتگو پر مشتمل کتب تصنیف کررہے ہیں۔ کہے فقیر، فقیر رنگ، فقیر نگری کے بعد ان کی نئی کتاب لوح فقیر بک سٹالوں کی زینت بن چکی ہے۔ یہ کتب مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کررہی ہیں۔ سرفراز اے شاہ کی کتب دلوں میں رب تعالیٰ کی محبت، قرب اور دوستی کے جذبات پیدا کرتی ہیں اور قلبی اطمینان و سکون کا سبب بنتی ہیں۔ لوح فقیر کی چند سطرح ملاحظہ فرمائیے ”اللہ تعالیٰ جب ہمیں رزق عطا فرماتا ہے تو ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے لیکن ذرا سی مشکل آجانے پر پیر صاحب کے پاس دعا کرانے بھاگے جاتے ہیں۔ یہ سچی شکر گزاری کا انداز نہیں یہ تو ایک طرح سے رب تعالیٰ کا شکوہ ہے“۔