سیلاب اور اس سے تباہی کے اسباب اورہماری غیر ذمہ داری

سیلاب اور اس سے تباہی کے اسباب اورہماری غیر ذمہ داری

یہ سیلاب آیا کیسے اور اس کی وجوہات کیا تھیں اور کیا انہیں کسی طرح روکا نہ سہی کم بھی کیا جاسکتا ہے کہ نہیں؟ اس پر ہمارے ہاں کبھی غور کرنے کی زحمت نہیں ہوئی۔ ویسے تو اس سال توقع اور تجربات سے ہٹ کر ستمبر کے مہینے میں بارشیں اور سیلاب آ گئے لیکن بارش تو اس قدر نہیں تھی کہ وہ اتنا بڑا سیلاب بپا کر دیتی۔ اصل مسئلہ اور مشکل اس وقت کھڑی ہوئی جب بھارت نے دریائے چناب نہ صرف پانی کے زبردست ریلے چھوڑے بلکہ پاکستان کو اس حوالے سے پہلے مکمل لاعلم رکھا اور پھر بعد میں غلط معلومات دیں۔ بھارت کی جانب سے بتایا گیا کہ چناب میں 3لاکھ کیوسک تک پانی آئے گا لیکن ایک تو وہ بتائے وقت سے بہت پہلے آ گیا اور دوسرا پانی 3لاکھ کیوسک نہیں، پہلے 9لاکھ تو پھر ساڑھے 11لاکھ کیوسک سے بھی تجاوز کر گیا۔ یوں پاکستان اپنے عوام کو سیلاب سے آگاہ بھی نہ کر سکا کیونکہ اندازہ تھا کہ 3لاکھ کیوسک تک کا پانی قابل برداشت ہو گا لہٰذا زیادہ پریشانی کی ضرورت نہیں ہو گی۔ بھارت چاہتا تو یہ پانی روک کر اور کنٹرول کر کے بھی چھوڑ سکتا تھا لیکن اس نے ایسا بالکل نہیں کیا بلکہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی پاکستان کو بے پناہ پانی میں بہا کر تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔بھارت کی طرف سے چھوڑا جانے والا یہ پانی جس طرف بھی جا تا، تباہی مچا تا رہا لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جب یہ خبریں آ رہی تھیں کہ ہمیں ڈبونے اور سیلاب کے ذریعے سے برباد کرنے والا بھارت ہے تو عین اس وقت پاکستان کے وزیراعظم جناب نوازشریف وزیراعظم ہند نریندر مودی کو منہ میٹھا کرنے کے لئے آموں کا تحفہ بھیج رہے تھے۔ حیران کن بات ہے کہ حکومت ایک طرف تو اسلام آباد کے دھرنوں میں پھنسی نظر آتی ہے، اپوزیشن کو ساتھ ملائے رکھنے کےلئے ان کی ہر طرح کی ”گستاخیاں“ برداشت کی جا رہی ہیں اور ان کے ناز نخرے اٹھائے جا رہے ہیں لیکن بھارت ایسے دشمن ،جناب وزیراعظم، جناب صدر پاکستان یا وزیراعلیٰ پنجاب جن کا صوبہ سب سے زیادہ برباد ہوا ہے، کے خلاف زبان سے کوئی معمولی کلمہ بھی ادا کرنے کو تیار تک نظر نہیں آتے۔ وزیراعظم نے سیلاب زدہ علاقوں کاجب پہلی بار دورہ کیا تو اس موقع پر بھی انہوں نے سیلاب کی وجہ صرف بارشیں قرار دیں اور بھارت کو بالکل ہی نہیں معاملے سے صاف ہی گول کر گئے، جیسے اس کا تو وجود ہی کہیں نہیں ۔حالانکہ اسی روز کے اخبارات میں بھارت کی جانب سے غلط معلومات اور بروقت اطلاع نہ کرنے پر ”معافی“ بھی چھپی ہوئی تھی جو ایک روز پہلے مانگی گئی تھی۔ ویسے تو بھارت نے ہمارے ساتھ یہ دوہرا مذاق کیا ہے کہ ہمارے سارے ملک کو پانی میں ڈبو کر کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو داﺅ پر لگا کر ایک چھوٹے موٹے اہلکار کے ذریعے سے محض معافی مانگ کر ساری واردات سے جان چھڑا لی ہے۔ وزیراعظم آزادی کشمیر چودھری عبدالمجید کا کہنا بھی بجا تھا کہ اگر بھارت نے کشمیریوں کو کچھ دینا ہے تو وہ انہیں حق خودارادیت اور وہ آزادی دے جو وہ اس سے مانگتے ہیں،انہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔بھارت نے ہمیں پانی میں ڈبونے سے پہلے ہماری سرحدوں اور کنٹرول لائن کو زبردست بمباری کا نشانہ بنا رکھا تھا۔ ہمارے کتنے لوگ شہید ہوئے، کتنی املاک نشانہ بنیں، ہزاروں لوگ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ابھی ہم اس مصیبت سے نکلے نہیں تھے کہ بھارت نے سیلاب بھیج دیئے۔ کیا ہم اس سب کے بعد بھی بھارت کی دشمنی اور چالاکی و مکاری سے ہمیں قتل کرنے کی سازش کو نہیں سمجھیں گے؟ بھارت میں اس وقت بی جے پی کی حکومت ہے تو ان کے ملک کا سب سے بڑا اسلام و پاکستان دشمن شخص وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھا ہے، ہمیں اور ہمارے وزیراعظم کو کم از کم اس پارٹی اور اس شخص سے تو کسی خیر کی امید نہیں رکھنی چاہئے اگر ہم بھارت کے ہاتھوں بار بار سیلابوں میں یوں ڈوب ڈوب کر بھی اس کی دشمنی کو سمجھ کر اس کا تدارک نہیں کریں گے تو کب کریں گے۔ جب ہمیں پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو بھارت ہمارے دریاﺅں پر بنے غیر قانونی ڈیموں کے ذریعے سے پانی روک کر ہمیں بنجر بنانے کی کوشش کرتا ہے اور جب پانی زیادہ ہو جاتا ہے تو پھر انہی ڈیموں سے پانی چھوڑ کر ہمیں ڈبو کر مارتا ہے۔ اس کے بعد تو ہر ذی شعور انسان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ جب تک ہم بھارت سے اپنے دریا آزاد نہیں کرواتے اس وقت تک ہم یوں ہی کبھی پیاس سے تو کبھی پانی میں ڈوب کر مرتے رہیں گے۔ مسئلہ کا سیدھا اور آسان حل ہے لیکن ہم بھارت کے ساتھ پیار و محبت کی پینگیں بڑھانے میں مصروف ہیں، دوستی و یارانے کی یک طرفہ جبری کوششوں سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ وہی کرنا پڑے گا جس کا تقاضا حالات و واقعات کرتے ہیں۔ پاکستان آنے والے دریاﺅں کے پانی پر ہماراہی حق ہے اور یاد رکھیے کہ جب کوئی حق دینے پر تیار نہ ہو تو وہ چھین کر ہی لیا جاتا ہے۔